مسجد کی جماعت سے پہلے عورت کی نماز/سبزیاں کاٹنے سے پہلے کیا کرنا چاہئے

مسجد کی جماعت سے پہلے عورت کی نماز

سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہندہ ایک بوڑھی عورت ہے اس کے گھر کے پاس اہلِ سنّت و جماعت کی مسجد ہے۔اس مسجد کی اذان کے 5منٹ بعد ہندہ نماز پڑھ لیتی ہے کیونکہ ہندہ کے لئے یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ مسجد کی جماعت ہوئی یا نہیں۔ ہندہ کی نمازہوجاتی ہے یا نہیں ہوتی؟ محلے کی بعض عورتیں کہتی ہیں کہ ہندہ کی نماز نہیں ہوتی کیونکہ یہ جماعت سے پہلے پڑھ لیتی ہے۔اس طرح کہنا درست ہے یانہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عورتوں کے ليےمستحب یہ ہے کہ فجر کی نمازہمیشہ غلس ( یعنی اوّل وقت ) میں ادا کر یں اور باقی نمازوں میں بہتر یہ ہے کہ مَردوں کی جماعت کے بعد پڑھیں۔البتہ اگر اذان کے بعد اورمستحب وقت سے پہلے بھی پڑھیں گی تو بھی ہوجائے گی اوران عورتوں کی بات درست نہیں ہے بلکہ یہ بغیر علم کے فتویٰ ہے جو کہ خود ناجائز و گناہ ہے جس سے ان پرتوبہ لازم ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبــــــــــــــــــــــہ

محمد ہاشم خان عطاری مدنی

بیوی کا شوہر کی اقتدا میں نماز ادا کرنا

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے مرد مسجد میں جماعت سے نماز نہ پڑھ سکے تو کیا گھر میں بیوی کا امام بن کر جماعت کروانے کی اجازت ہے؟ نیز بیوی کہاں کھڑی ہو گی؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے مرد مسجد میں جماعت سے نماز نہ پڑھ سکے تو گھر میں بیوی کے ساتھ جماعت سے نماز پڑھ سکتا ہے۔اس صورت میں بیوی پچھلی صف میں کھڑی ہو یا کم از کم اُس کے پاؤں اِس سے پیچھے ضرور ہوں، اس لئے کہ اگر عورت و مرد کے ٹخنے برابر ہوئے تو عورت کی نماز نہ ہو گی، بلکہ اگر مرد نے شروع نماز میں اس کی امامت کی نیت کی ہو تو دونوں ہی کی نہ ہو گی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مُجِیْب مُصَدِّق

نور المصطفیٰ العطاری المدنی محمد ہاشم خان عطاری مدنی

مخصوص ایام میں نہانا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیاعورت کو حالتِ حیض میں نہانا منع ہے ؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عورت حالتِ حیض میں نہانا چاہے تو نہا سکتی ہے اس سے بدن کی صفائی حاصل ہو جائے گی البتہ نجاستِ حکمیہ حیض ختم ہونے کے بعد نہانے سے زائل ہو گی ۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتبــــــــــــــــــــــہ

محمد ہاشم خان عطاری مدنی


Share

مسجد کی جماعت سے پہلے عورت کی نماز/سبزیاں کاٹنے سے پہلے کیا کرنا چاہئے

سبزیاں اللہ پاک کی وہ پیاری نعمتیں ہیں کہ جن میں سےبعض کو کچا کھایا جاتا ہے تو بہت ساری کو پکا کر جبکہ کئی سبزیوں کو دونوں طرح استعمال کیا جاتا ہے۔سبزیوں کے استعمال میں چند احتیاطوں کوضرور پیش ِنظررکھناچاہئے۔ یہاں ہم سبزیاں کاٹنے کی کچھ احتیاطوں کا ذکر کریں گے۔ سبزیاں کاٹنے سے پہلے کیا کرنا چاہئے٭سبزی کاٹنے کے لئے تیز دھار چُھری اور چاقو استعمال کریں ٭سبزی کھُلے اور صاف برتن میں کاٹیں، عموماً شیلف پر بھی سبزی کاٹی جاتی ہے، لہٰذا شیلف پر سبزی کاٹنے سے پہلے اس کی صفائی کا اہتمام فرمالیں ٭سبزی کو کاٹنے سے پہلے اچھی طرح دھوکرچھلنی میں ڈال کر دھوپ میں خشک کرلیں تاکہ اس پر سے جمی ہوئی مٹی اور زرعی ادویات وغیرہ کے اثرات زائل ہوجائیں، نیز کچھ سبزیاں ایسی ہیں کہ جنہیں کاٹنے کے بعد دھویا جا سکتا ہے مثلاً آلو، شلجم، کدو شریف، گوبھی، پیاز اور پالک وغیرہ، لہٰذا ان سبزیوں کو کاٹنے کے بعد ہی دھوئیں۔اِسراف (فضول خرچی) سے بچاجائے: بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ خواتین کی یا تو عادت ہوتی ہے یا جلد بازی میں ان کی اس طرف توجہ نہیں جاتی کہ وہ سبزیاں کاٹنے میں ضائع بہت کر رہی ہوتی ہیں۔ جیسے پیاز کاٹتی ہیں تو اُوپر اور نیچے کا حصّہ بہت زیادہ کاٹ دیتی ہیں، حالانکہ تھوڑا سا بھی کاٹ دیا جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔اسی طرح جلدی کرتے ہوئے بہت موٹے موٹے چھلکے اتارتی ہیں، جن میں سبزی کی موٹی تَہ لگی رہ جاتی ہےیو نہی پالک یا دھنیا جب کاٹتی ہیں تو اسکے چھوٹے چھوٹے پتے بے دریغ پھینک دیتی ہیں،اس سے بچا جائے کیونکہ یہ بھی نعمتیں ہیں، ان کو ضائع ہونے سے بچانا چاہئے۔یونہی باقی سبزیوں میں بھی اس احتیاط کو مدِّنظر رکھا جائے۔یادرکھئے!ایسااِسراف(یعنی ایسا ضیاع) جس میں مال کا ضائع ہونا پایا جائے ،یہ حرام ہے۔ سبزیوں کو کاٹنے کاانداز کیا ہو؟ہر کوئی اپنی اپنی پسند رکھتا ہے کہ سبزیوں کو کس طرح کاٹا جائے۔ کوئی کسی سبزی کو سلائس (Slice) میں کاٹنا پسند کرتا ہے، کوئی کیوبز میں یہ تو پسند پر انحصار (Depend) کرتا ہے۔ یہ کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن ایک اہم چیز ضرور سمجھ لینی چاہئے کہ سبزیوں کو باریک کاٹیں یا موٹے ٹکڑوں میں،کاٹنے کا انداز پکنے کے دورانیے اور نتائج پر ضرور اثر انداز ہوگا۔ ظاہر ہے کہ باریک انداز میں کٹی ہوئی سبزی کو کم اور موٹے ٹکڑوں میں کٹی ہوئی سبزی کو زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ سبزیاں کاٹنے کے مفید طریقے کھیرے، ککڑی اور شملہ مرچ کو لمبائی میں کاٹ کر کھانا مفید ہے۔ ٹماٹر سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے اسے ہمیشہ چار ٹکڑے کرکے کھائیں۔بھنڈی، توری، لوکی وغیرہ قتلے ( گول تراشے ہوئے ٹکڑے) کرکے پکائیں۔ بند گوبھی، کھیرا، ککڑی، پیاز، گاجر، شلجم اور چقندرکو کچّا کھانا بھی مفید ہے۔ ہاں ان کو سلاد(salad)کےطور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جو بہت ہی اچھا ہے۔ادرک، لہسن ہمیشہ چھوٹے ٹکڑے کرکے استعمال کریں بڑے ٹکڑے نہ ڈالیں۔ وہ سبزیاں جو چھلکے سمیت کھائی جاتی ہیں ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے ان کو چھلکوں سمیت ہی پکایا جائے ورنہ وٹامنز ضائع ہوجاتے ہیں۔جیسے آلو، بینگن، کھیرا، توری، لوکی اور چقندر وغیرہ ان سبزیوں کے چھلکوں میں وٹامنز، مِنرلز،معدنیات و نمکیات وغیرہ کا خزانہ جمع ہوتا ہے۔ سبزیوں کی کٹنگ میں مشین کا استعمال سبزیاں کاٹنے کے لئے Multifunction Vegetable Cutting Dicerمشین وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس سے وقت تو بچ جاتا ہے تاہم ان اشیا کو استعمال کرنے کے بعد ان کی صفائی بہت اہمیت رکھتی ہے اور بچوں کو بھی ایسی مشین سے دُور رکھا جائے۔ کٹنگ بورڈ کا استعمال کریں تو اس کی بھی صفائی کا خیال رکھیں۔


Share