اپریل فول(April Fool)

مُعَاشَرے میں پائی جانے والی برائیوں میں ایک ناسُور ”اپریل فُول (April fool)“ بھی ہے جسے یکم اپریل کو رسم کے طور پر منایا جاتا ہے، نادان لوگ اس دن پریشان کردینے والی جھوٹی خبر سُنا کر، مختلف انداز سے دھوکا دے کر اپنے ہی اسلامی بھائیوں کو فُول (Fool یعنی بے وقوف) بنا کر خوش ہوتے ہیں، مثلاً کسی کو یہ خبر دی جاتی ہے کہ ٭آپ کا جَوان بیٹا فلاں جگہ ایکسیڈنٹ ہونے کی وجہ سے شدید زخمی ہے اور اسے فلاں اَسپتال میں پہنچا دیا گیا ہے ٭آپ کا فلاں رشتہ دار انتقال کرگیا ہے ٭آپ کی دکان میں آگ لگ گئی ہے ٭آپ کی دکان میں چوری ہوگئی ہے ٭آپ کے پلاٹ پر قبضہ ہوگیا ہے ٭آپ کی گاڑی چوری ہوگئی ہے ٭آپ کے بیٹے کو تاوان کے لئے اغوا کرلیا گیا وغیرہ۔ پھر حقیقت کھلنے پر ”اپریل فُول، اپریل فُول“ کہہ کر اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ جو جتنی صفائی اور چالاکی سے دوسرے کو بے وقوف بنائے وہ خود کو اُتنا ہی عقل مند سمجھتا ہے مگر اس’’ فُول ‘‘کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کتنی بڑی’’ بُھول ‘‘کر چکا ہے ۔ ”اپریل فُول“ منانے والے دانستہ یا نادانستہ طور پرکن لوگوں کی پیروی کر رہے ہیں، ملاحظہ کیجئے:

اپریل فُول کیسے شروع ہوا؟:اپریل فُول کے آغاز کے بارے میں مختلف اسباب بیان کئے جاتے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ جب  کئی سو سال پہلے عیسائی اَفواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمین پر مسلمانوں کا اتنا خون بہایا گیا کہ فاتِح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتی تھیں جب قابض اَفواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گِرِفْتار مسلمان حُکمران کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجداد آئے تھے، قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئیں۔ جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کر دیا جائے، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور اپنی شناخت پوشیدہ کرلی، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ جس ملک میں جانا چاہیں جاسکیں۔ اب چونکہ ملک میں اَمْن قائم ہوچکا تھا اس لئے مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے، اَلْحَمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کر دیے گئے، جہاز آکر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے رہے، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔ اس طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ ’’یکم اپریل‘‘ کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بَحری جہاز میں بٹھایا گیا مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی۔ دوسری طرف حکمران اپنے مَحَلَّات میں جشن منانے لگے، جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوَداع کیا اور جہاز وہاں سے چل دئیے، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان، خواتین، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے ۔جب جہاز گہرے سَمُندر میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سَمُندر میں ڈوب گئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف (Fool) بنایا۔

مذاق میں بھی ڈرانے سے روکا:حضرتِ سیِّدُناابنِ ابی لیلیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان کا بیان ہے کہ وہ حضرات رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ سفر میں تھے، اس دوران ان میں سے ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سو گئے تو ایک دوسرے صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُن کے پاس رکھی اپنی ایک رسی لینے گئے، جس سے وہ گھبرا گئے (یعنی اس سونے والے کے پاس رسی تھی یا اس جانے والے کے پاس تھی اس نے یہ رسی سانپ کی طرح اس پر ڈالی وہ سونے والے اسے سانپ سمجھ کر ڈر گئے اور لوگ ہنس پڑے) تو سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ دوسرے مسلمان کو ڈرائے۔(ابوداؤد،ج4، ص391، حدیث: 5004)

حَکِیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں: جب رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سُنا تو یہ فرمایا، اس فرمانِ عالی کا مقصد یہ ہے کہ ہَنسی مَذاق میں کسی کو ڈرانا جائز نہیں کہ کبھی اس سے ڈرنے والا مرجاتا ہے یا بیمار پڑ جاتا ہے، خوش طَبْعی وہ چاہیے جس سے سب کا دل خوش ہو جائے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی دل لگی ہنسی کسی سے کرنی جس سے اس کو تکلیف پہنچے مثلاً کسی کو بے وقوف بنانا، اس کے چَپت لگانا وغیرہ حرام ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج5، ص270)

اپریل فُول اور جُھوٹ

اپریل فُول کو ”جُھوٹ کا عالَمی دن“ بھی کہا جاسکتا ہے اور جھوٹ بولنا گناہ ہے۔ چنانچہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:اِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَاِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي اِلَى النَّارِ وَاِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتّٰى يُكْتَبَ عِنْدَاللہِ كَذَّابًایعنی بے شک جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اورگناہ جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے  یہاں تک کہاللہ تعالیٰ  کے نزدیک کذّاب لکھ دیا جاتا ہے۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا، ذم الکذب،ج5، ص205،رقم:2)

مذاق میں بھی جُھوٹ نہ بولیں:فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :بندہ کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا حتی کہ مذاق میں جھوٹ بولنا اور جھگڑنا چھوڑ دے اگرچہ سچا ہو۔(مسند احمد،ج3، ص290، حدیث: 8774)

اپریل فُول میں دوسروں کی پریشانی پر خوشی کا اظہار بھی ہوتا ہے،ایسوں کو ڈرنا چاہئے کہ وہ بھی اس کیفیت کا شکار ہو سکتے ہیں،عربی مقولہ ہے : مَنْ ضَحِکَ ضُحِکَ یعنی جو کسی پر ہنسے گا اُس پر بھی ہنسا جائے گا۔

غلط خبر نے جان لے لی:رِینالہ خُورْد (پنجاب، پاکستان) کے 70 سالہ رِہائشی شخص کو خبر ملی کہ اس کے بھائی کا اوکاڑہ میں ایکسیڈنٹ کے نتیجہ میں انتقال ہوگیا ہے، وہ اوکاڑہ اسپتال آرہا تھا کہ روڈ پر گر پڑا اور دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، بعد میں پتا چلا کہ کسی منچلے نے اپریل فُول کا مذاق کیا تھا۔(اردو پوائنٹ، یکم اپریل 2008)

افسوس! اتنی خرابیوں کا مجموعہ ہونے کے باوجود ہر سال یکم (فرسٹ،First) اپریل کو جھوٹ بول کر، اپنے مسلمان بھائیوں کو پریشان کرکے ان کی ہنسی اُڑانے کو تفریح کا نام دیاجاتا ہے، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ عقلِ سلیم عطافرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم

بھائیوں کا دل دُکھانا چھوڑ دو

 

اور تمسخر بھی اُڑانا چھوڑ دو

                                                                                    (وسائل بخشش، ص 713)

(جھوٹ بولنے کی نحوست کے بارے میں مزید جاننے کے لئے امیرِ اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے رسالے ”جھوٹا چور“ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کیجئے۔)