گوشت کا استعمال

(اس مضمون کی تیاری  میں مدنی چینل  کے سلسلے ’’مدنی کلینک‘‘ سے بھی مدد لی جاتی ہے)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے اپنے فضْل و کرم سے ہمیں جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان میں سے ایک بڑی نعمت”حلال گوشت“(Meat)بھی ہے۔ جنّت میں گوشت:گوشت ایک ایسی نعمت ہے جو جنّت میں بھی دستیاب ہوگی چنانچہ اہلِ جنّت کے بارے میں فرمانِ باری تعالٰی ہے: (وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ(۲۲)) ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے ان کی مدد فرمائی میوے اور گوشت سے جو چاہیں۔ (پ27، الطور: 22) پسندیدہ کھانا :٭سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پسندیدہ کھانا گوشت تھا۔ (اخلاق النبی و آدابہ، ص118، رقم:597) ٭پیارے آقاصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مرغی کا گوشت بھی تناوُل فرمایاہے۔ (بخاری،ج3،ص563، حدیث:5517ماخوذاً) ٭گوشت دنیا و آخرت والوں کے کھانوں کا سردار ہے۔(ابن ماجہ،ج4،ص28، حدیث:3305) گوشت کی اقسام:مرغی اور مچھلی کےگوشت کو White Meat جبکہ چوپایوں(چار پاؤں والے جانوروں) کے گوشت کو Red Meat کہا جاتا ہے۔گوشت کے اجزا:گوشت میں آئرن، پروٹین اور وٹامن بی کمپلیکس(Vitamin B Complex)وغیرہ مختلف اجزا شامل ہوتے ہیں جوجسمِ انسانی کے لئے  مفید ہیں۔ گوشت خوری میں بے احتیاطی کے نقصانات:مناسب مقدار میں گوشت کھانا انسانی صحت کے لئے فائدہ مند ہے لیکن اس کا حد سے زیادہ کھانا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ White Meat کی نسبت Red Meatمیں چکناہٹ اور پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے،ایک طِبّی تَحقیق کے مطابق Red Meat کا ضرورت سے زیادہ کھانا کینسر،دل کے امراض، ذِیابِیطس، جگراور مِعْدے  کے امراض کا سبب بن سکتا ہےنیزجو لوگ پہلے سے ان امراض کا شکار ہوں  ان کی تکلیف میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ گوشت زیادہ کھانے سے  معدے میں تکلیف، ڈائریا (دست وغیرہ) یاقبض وغیرہ کے مسائل بھی  لاحق ہوسکتے ہیں۔ ایک جدید تحقیق کے مطابق گوشت خوری کی کثرت نسیان (بھولنے کی بیماری) کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ جس کا کولیسٹرول (Cholesterol) یا یورک ایسڈ (Uric Acid) بڑھا ہوا ہو وہ گوشت نہ کھائے۔ عیدِ قربان اور گوشت کا استعمال: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گوشت کے اِستِعمال میں جس قَدَر بے احتیاطی عیدِ قربان کے اَیّام میں کی جاتی ہے اتنی شاید پورے سال  میں نہیں ہوتی،بعض لوگ تو عید کے دنوں میں ناشتہ، ظُہرانہ (Lunch) اور عشائیہ (Dinner) تینوں ہی گوشت پر مبنی غذاؤں سے کرتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد معدے کی خرابی ،بد ہَضمی اور پیٹ سے مُتعلِّقہ دیگر اَمراض کا شکار ہوجاتی ہے۔ مدنی مشورہ:بیمار ہونے کے بعد ڈاکٹر کی ہدایت پر پرہیز کرنے کے بجائے پہلے ہی اپنی خواہشات  کو قابو میں رکھیں اورعید کے اَیّام میں احتیاط  کے ساتھ  گوشت  استعمال فرمائیں ٭ گوشت روزانہ کھانے کے بجائے وقفے وقفے سے کھائیں ٭ گوشت کو سبزی کے ساتھ پکائیے مَثَلاً بِھنڈی گوشت، لوکی گوشت، ٹِنڈے گوشت وغیرہ، اس سے گوشت کے مُضِر (نقصان دہ) اثَرات دُور ہوں گے۔گوشت اچھی طرح پکائیں: عیدِ قربان کےایام میں باربی کیو (Bar.B.Q) وغیرہ ہوٹلوں پر  تیار کروایا جاتاہے، ان میں عُموماً صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا  اور وہ پوری طرح Grilled نہیں ہوتیں(یعنی پکتی نہیں) نِیز ان کے ساتھ ٹھنڈی بوتلوں (Cold Drinks) کابھی خوب استعمال کیا جاتا ہے،اس قسم کےافراد مختلف امراض کا شکار ہوکر ڈاکٹروں کے پاس چکرلگاتے نظر آتے ہیں۔ باربی کیو(Bar.B.Q) وغیرہ کےساتھ شملہ مرچ، ٹماٹر اور پیاز وغیرہ کا استعمال ان کے نقصانات کم کرنے میں مُعاوِن ہے۔قربانی کا گوشت کتنے عرصے تک استعمال کیا جاسکتا ہے؟: گوشت کو لمبے عرصے کے لئے Freeze کرنے سے اس میں جراثیم (Bacteria) پیدا ہو سکتے ہیں نیزگوشت کی اِفادیت کم ہوجاتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 10 دن سے زیادہ رکھا ہوا گوشت سینے، چھاتی اور لَبلَبے کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ گوشت کا جو ذائقہ قربانی کے ایّام میں ہوتا ہے  وہ ایک دو ہفتے کے بعد نہیں رہتا۔ اگرچہ قربانی کا سارا گوشت گھر میں ہی رکھ لینا اور خود ہی استعمال کرنا بھی جائزہے لیکن مستحب یہ ہے کہ گوشت کے تین حصّے کئے جائیں، ایک حصّہ رشتے داروں اور ایک غریبوں کو دیا جائے جبکہ تیسرا حصّہ خود استعمال کیا جائے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس مستحب پر عمل کی بَرَکت سے غریبوں کو بھی قربانی کا گوشت کھانے کو مل جائے گا۔ گوشت محفوظ کرنے کا طریقہ: کچّا گوشت اگر بڑے پتیلے یا ٹوکَرے میں بھر کر ڈِیپ فریزر(Deep Freezer) میں رکھیں گے تو اندرونی حصّے میں ٹھنڈک کم پہنچنے کے باعِث خراب ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے لہٰذا اس کی حفاظت کا طریقہ اچّھی طرح سمجھ لیجئے۔ پہلے ٹوکَری کی تہ میں برْف بچھایئے اب اس پر گوشت کی تہ جما دیجئے پھر اس پربرف کی تہ بچھایئے ، پھر اوپر گوشت کی اور اب ڈیپ فریزر میں رکھ دیجئے۔اس طرح کرنے سے نیچے،اوپر اور اندر ہر طرَف ٹھنڈک ہی ٹھنڈک رہے گی اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کافی دنوں تک گوشت خراب نہیں ہوگا۔(فیضانِ سنت،ص574)سڑا ہوا گوشت کھانا حرام ہے: گوشت سڑگیا تو اس کا کھانا حرام ہے،اِسی طرح جو کھانا خراب ہو جاتا ہے وہ بھی نہیں کھاسکتے۔ خراب ہونے کی علامت یہ ہے کہ اُس میں پھپُھوندی(Fungus)، بدبُو یا کھٹّی بُو پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر شوربہ ہوتواُس پرجھاگ بھی آجاتا ہے۔(فیضانِ سنت، ص327) مزیدار چورن: اجوائن، سونف، سونٹھ (خشک ادرک) اور کالا نمک 12، 12 گرام جبکہ کھانے کا سوڈا 6گرام۔طریقۂ استعمال: تمام چیزیں کوٹ لیجئے اور چھان کر بحفاظت رکھئے اور صبْح شام آدھی آدھی چمچ پانی سے استعمال کیجئے۔فوائد:گوشت خوری کے سبب ہو جانے والی گیس، تیزابیت، پیٹ کا اَپھارہ اور بادی وغیرہ امراض  میں  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  مُفید رہے گا۔(مدّتِ علاج:تا حصولِ شفا)

بدہضمی سے بچنے کا روحانی علاج:حضرت سیّدناامام کمالُ الدِّین دمیری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نقْل فرماتے ہیں:جس نے کھانا زِیادہ کھا لیا اور بدہضْمی کا خوف ہو وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتا ہوا تین مرتبہ یہ کہے:اَللَّیْلَۃُ لَیْلَۃُعِیْدِی یَاکَرِشِیْ وَرَضِیَ اللہُ عَنْ سَیِّدِی اَبِیْ عَبْدِاللہِ الْقَرَشِی ترجمہ: اے میرے مِعدے آج کی رات میری عید کی رات ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ راضی ہو ہمارے سردار حضرتِ ابوعبداللہ قَرَشی([1]) سے۔ ( اگر دِن کا وَقْت ہو تو اَللَّیْلَۃُ لَیْلَۃُعِیْدِی کی جگہ اَلْیَوْمُ یَوْمُ عِیْدِی کہے) تجرِبے سے ثابت ہے کہ ایسا کرنے والے کو کھانے سے نقصان نہیں ہوگا۔(حیاۃُ الحیوان الکبری،ج1،ص460)

گدا بھی مُنْتَظِر ہے خُلد میں نیکوں کی دعوت کا

خدادن خیرسےلائےسخی کےگھرضِیافت کا

(حدائقِ بخشش،ص37)

گوشت کے ’’22اجزا‘‘ ایسے ہیں جنہیں نہ کھایا جائے  اس کی تفصیل جاننے کے لئے امیر اہل سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے ’’ابلق گھوڑے سوار‘‘ کا صفحہ نمبر 37 پڑھئے ۔

 

ناف ٹلنے کا روحانی علاج

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سَلٰمٌ- قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ(۵۸)(پ23،یٰس:58)

کاغذ پر با وضو لکھ(یالکھوا) کر پلاسٹک کوٹنگ کر کے کپڑے وغیرہ میں سی کر ناف پر اِس طرح باندھئے  کےناف کے نیچے نہ جائے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شفاء حاصِل ہوگی۔(بیمار عابد،ص33)

 

 



...[1]سیّدی ابو عبداللہ قرشی ہاشِمی اکابر اولیائے مِصْر سے ہیں سیّدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانہ میں سولہ سترہ برس (سال)کے تھے۔6ذوالحجہ 599 ہجری کو بیتُ المقدس میں انتقال فرمایا۔(فتاوٰی افریقہ ص 173ملخصاً)