مال خرچ کئے بغیر صدقے کا ثواب

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! احادیثِ مُبارکہ میں پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مالی صدقات کے علاوہ بھی کچھ اعمال کو صدقہ ارشاد فرمایا ہے جن پر صَدَقے کےثواب کی بَشارت عطا فرمائی ہے،ان میں سے سات اعمال کا ذکر کیا جاتا ہے:(1)مسکرانا  صَدَقہ ہے:کسی مسلمان بھائی کے لئے مسکرانا (جس سےاُس کا دل خوش ہو) صَدَقہ ہے۔(ترمذی،ج 3،ص384، حدیث:1963، مراٰۃالمناجیح،ج 3،ص 104ماخوذاً) ہمیں ہر مسلمان سے مسکرا کر ملنا چاہئے کہ مسکرانا پیارےآقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتِ مُبارَکہ ہےچنانچہ حضرت عبدُاللہ بن حارِث رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےرَسولُ اللہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سےزیادہ  مسکرانے والاکوئی نہیں  دیکھا۔(شمائل ترمذی، ص136) (2)بھلائی کا حکم دینا صَدَقہ ہے: مسلمان  بھائی كو نيكی كی دعوت دينا بھی صدقہ ہے،چنانچہ نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا: تمہارا اپنے بھائی کو بھلائی کا حکم دینا صَدَقہ ہے۔(ترمذی،ج 3،ص384، حدیث:1963)  (3)برائی سے منع کرنا صَدَقہ ہے:جس طرح بھلائی کا حکم دینا صَدَقہ ہے اِسی طرح نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا:تمہارا اپنے بھائی کو بُرائی سے روکنا صَدَقہ ہے۔(ایضاً) (4)بھٹکے ہوئے کو راستہ بتانا صَدَقہ ہے: مسلمان بھائی کو راستہ بتا کر صَدَقے کا ثواب کمایا جا سکتا ہےجیسا کہ نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تمہارا کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ بتانا صَدَقہ ہے۔(ایضاً) بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر کوئی  بُھولا بَھٹکا اُن سے راستہ پوچھ لے تو اُسے تنگ کرنے کے لئے جان بوجھ کر غلط سَمت بھیج دیتے اور پھر قہقہے لگا کر ہنستے ہیں یوں نیکی کا موقع  ضائِع کرکے اُلٹاگناہ کماتے ہیں۔ اللہ کریم ایسی نادانی سے محفوظ رکھے۔ (5)کمزورنگاہ والے کی مدد کرنا صَدَقہ ہے: کسی نابینایا کمزور نظر والے اسلامی  بھائی  کا ہاتھ پکڑ کرسڑک  پار کروا دینا یا جہاں جانا چاہتا ہے وہاں پہنچا دینا یا اُس کا کوئی ایسا کام کردینا جس میں وہ کسی دوسرے شخص کا محتاج ہو صَدَقہ ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: تمہارا کسی کمزورنگاہ والے شخص کی مددکرنا تمہارے لئے صَدَقہ ہے۔ (ایضاً)

(6) تکلیف دِہ چیز ہٹا دینا صَدَقہ ہے: راستے میں اگر کوئی ایسی چیز پڑی ہو جس سے گزرنے والوں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہومثلاً  کانٹا یا کیلے کاچھلکا یا پتھروغیرہ تو اُسے وہاں سے ہٹا دینے میں بھی صَدَقے کا ثواب ہے،چنانچہ نبیِّ پاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: راستے سے پتّھر،کانٹا اور ہڈّی ہٹانا صدَقہ ہے۔(ایضاً) اس حدیثِ پاک سے وہ لوگ مدنی پھول حاصل کریں جو راستے میں شیشےکے ٹکڑے یا لوہے کی نوکیلی چیزیں پھینک دیتے ہیں جس سے لوگوں کے زخمی ہونے یا پھر موٹرسائیکل وغیرہ پنکچر ہونے کا اِمکان(Chance)ہوتا ہے۔ (7)اپنے ڈول سے پانی ڈال دینا صَدَقہ ہے:نبیِّ کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تمہارا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا صَدَقہ ہے۔(ایضاً) حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالٰی  علیہ فرماتے ہیں:پانی ڈالنا بطورِ مثال بیان ہوا،مقصد یہ ہے کہ مسلمان بھائی کے ساتھ معمولی سی بھلائی کرنا بھی ثواب ہے۔(مراٰۃالمناجیح، ج3،ص103)اللہ تعالٰی ہمیں بھی اِن نیکیوں سے صَدَقے کا ثواب کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم