دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

            حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔(مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)

اَفَمَنِ  اتَّبَعَ  رِضْوَانَ  اللّٰهِ  كَمَنْۢ  بَآءَ  بِسَخَطٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  وَ  مَاْوٰىهُ  جَهَنَّمُؕ-

وَ  بِئْسَ  الْمَصِیْرُ(۱۶۲)هُمْ  دَرَجٰتٌ  عِنْدَ  اللّٰهؕ-وَ  اللّٰهُ  بَصِیْرٌۢ  بِمَا  یَعْمَلُوْنَ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلاوہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہکا غضب اوڑھا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے  اور کیا بری جگہ پلٹنے کی۔وہ اللہ کے یہاں درجہ درجہ ہیں اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  کیا وہ شخص جو اللہ کی خوشنودی کے پیچھے چلا وہ اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کے غضب کا مستحق ہوا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہو؟ اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے ۔ لوگوں کے اللہ  کی بارگاہ میں مختلف درجات ہیں اور اللہ ان کے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے ۔

{اَفَمَنِ  اتَّبَعَ  رِضْوَانَ  اللّٰهِ:کیا وہ شخص جواللہ کی خوشنودی کے پیچھے چلا۔ }اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مستحق دونوں برابر نہیں ہوسکتے ۔ کہاں وہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے سچی محبت کرنے والا، اس کی اطاعت کرنے والا ، اس کی خوشنودی کیلئے سب کچھ قربان کردینے والا جیسے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور ان کے بعد کے صالحین  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اور کہاں اللہتعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا، اس کے احکام سے منہ موڑنے والا، اس کی ناراضی کی پرواہ نہ کرنے والا اور اپنی خواہش کو رب عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر ترجیح دینے والاجیسے کفارو منافقین اور ان کے پیروکار نافرمان لوگ، یہ دونوں برابر کیسے ہوسکتے ہیں ؟ ان لوگوں کے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مختلف درجات ہیں ، ہر ایک کی منزلیں اور مقامات جدا گانہ ہیں۔ بروں کے الگ مقام اور اچھوں کے الگ جیسا کہ اس سے اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے ۔

لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْ  اَنْفُسِهِمْ  یَتْلُوْا  عَلَیْهِمْ  اٰیٰتِهٖ  وَ  یُزَكِّیْهِمْ  وَ  یُعَلِّمُهُمُ  الْكِتٰبَ  وَ  الْحِكْمَةَۚ-وَ  اِنْ  كَانُوْا  مِنْ  قَبْلُ  لَفِیْ  ضَلٰلٍ  مُّبِیْنٍ(۱۶۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشکاللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشکاللہنے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں ایک رسول مَبعوث فرمایا جو انہی میں سے ہے ۔ وہ ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اورانہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناًکھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

{لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ:بیشک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا۔ }عربی میں مِنَّت عظیم نعمت کو کہتے ہیں۔ مراد یہ کہ اللہ تعالیٰ نے عظیم احسان فرمایا کہ انہیں اپنا سب سے عظیم رسول عطا فرمایا۔ کیسا عظیم رسول عطا فرمایا کہ اپنی ولادتِ مبارکہ سے لے کر وصالِ مبارک تک اور اس کے بعد کے تمام زمانہ میں اپنی امت پر مسلسل رحمت و شفقت کے دریا بہار ہے ہیں بلکہ ہمارا تو وجود بھی حضور سید دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقہ سے ہے کہ اگر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نہ ہوتے تو کائنات اور اس میں بسنے والے بھی وجود میں نہ آتے ۔ پیدائشِ مبارکہ کے وقت ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہم امتیوں کو یاد فرمایا،شبِ معراج بھی ربُّ العالَمین عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں یادفرمایا، وصال شریف کے بعد قبرِ انور میں اتارتے ہوئے بھی دیکھا گیا تو حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لب ہائے مبارکہ پر امت کی نجات و بخشش کی دعائیں تھیں۔ آرام دہ راتو ں میں جب سارا جہاں محو اِستراحت ہوتا وہ پیارے آقا حبیب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنا بستر مبارک چھوڑ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ہم گناہگاروں کے لئے دعائیں فرمایا کرتے ہیں۔ عمومی اور خصوصی دعائیں ہمارے حق میں فرماتے رہتے۔قیامت کے دن سخت گرمی کے عالم میں شدید پیاس کے وقت ربِّ قہار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ہمارے لئے سر سجدہ میں رکھیں گے اور امت کی بخشش کی درخواست کریں گے ۔ کہیں امتیوں کے نیکیوں کے پلڑے بھاری کریں گے ، کہیں پل صراط سے سلامتی سے گزاریں گے ، کہیں حوضِ کوثر سے سیراب کریں گے ، کبھی جہنم میں گرے ہوئے امتیوں کو نکال رہے ہوں گے ،کسی کے درجات بلند فرما رہے ہوں گے ، خود روئیں گے ہمیں ہنسائیں گے ، خود غمگین ہوں گے ہمیں خوشیاں عطا فرمائیں گے ، اپنے نورانی آنسوؤں سے امت کے گناہ دھوئیں گے اوردنیا میں ہمیں قرآن دیا، ایمان دیا ، خدا کا عرفان دیا اور ہزار ہا وہ چیزیں جن کے ہم قابل نہ تھے اپنے سایہ رحمت کے صدقے ہمیں عطا فرمائیں۔ الغرض حضور سید دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے احسانات اس قدر کثیر در کثیر ہیں کہ انہیں شمار کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے ۔ اس آیتِ مبارکہ کے الفاظ کی وضاحت کیلئے سورہ بقرہ آیت نمبر129کی تفسیر دیکھیں۔

اَوَ  لَمَّاۤ  اَصَابَتْكُمْ  مُّصِیْبَةٌ  قَدْ  اَصَبْتُمْ  مِّثْلَیْهَاۙ-قُلْتُمْ  اَنّٰى  هٰذَاؕ-قُلْ  هُوَ  مِنْ  عِنْدِ  اَنْفُسِكُمْؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  عَلٰى  كُلِّ  شَیْءٍ  قَدِیْرٌ(۱۶۵)وَ  مَاۤ  اَصَابَكُمْ  یَوْمَ  الْتَقَى  الْجَمْعٰنِ  فَبِاِذْنِ  اللّٰهِ  وَ  لِیَعْلَمَ  الْمُؤْمِنِیْنَۙ(۱۶۶)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی تم فرما دو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔ اور وہ مصیبت جو تم پر آئی جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا جب تمہیں کوئی ایسی تکلیف پہنچی جس سے دگنی تکلیف تم پہنچا چکے تھے تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ اے حبیب! تم فرما دو کہ اے لوگو! یہ تمہاری اپنی ہی طرف سے آئی ہے۔بیشک اللہ ہر شے پر قادرہے ۔ اور دوگروہوں کے مقابلے کے دن تمہیں جو تکلیف پہنچی تووہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے (پہنچی)کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کرادے۔

{اَوَ  لَمَّاۤ  اَصَابَتْكُمْ  مُّصِیْبَةٌ:کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچی۔ }یہاں غزوہ اُحد کا بیان ہے ۔ اسی پیرائے میں یہاں بیان کیا جارہا ہے کہ تمہیں میدانِ اُحدمیں تکلیف پہنچی کہ تم میں سے ستّر شہید ہوئے جبکہ میدانِ بدر میں کفار کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر گرفتار ہوئے تو کفار کا نقصان تو دُگنا ہوا۔ اس پر فرمایا کہ جب تمہیں میدانِ احد میں ایسی تکلیف پہنچی جس سے دگنی تکلیف تم کافروں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن