30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیدائش وخاندا ن
شیراہل سنت حضرت مولانامفتی غلام رسول قادری اشرفی رحمۃ اللہ علیہ فاضل دار العلوم حزب الاحناف،استاذ العلماء، جامع معقول ومنقول، شیخ الحدیث والتفسیر، پیر طریقت، خلیفہ شاہ ابو البرکات اور مفتی اہل سنت تھے۔ آپ (1) کی ولادت اگست 1940ء کو محلہ کوٹ مراد خاں(2)،قصورسٹی (3)کے حضرت صوفی میاں جمال الدین چشتی صاحب کے گھر میں ہوئی۔میاں جمال الدین دین دار تاجر تھے، انھوں نے شیراہل سنت کی پیدائش کے بعدان کا چہرہ دیکھا تو فرمایا کہ میرایہ بیٹاعالم دین بنے گا،مَیں نے اسے آج ہی دین کے لیے وقف کردیا ہے۔
میاں جمال الدین کاتعارف
شیراہل سنت کے والدگرامی حضرت صوفی میاں جمال الدین چشتی مرحوم 1920ء کو قصورمیں پیداہوئے اوریہیں 65سال کی عمرمیں 1985ء میں انتقال فرمایا۔تدفین قبرستان سہاری روڈ،رکن پورہ قصورسٹی میں ہوئی۔آپ نمازی اور تہجدگزار تھے، پیشے کے اعتبارسے تاجر تھے، شرافت اوربزرگی میں اس علاقے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے آپ کے پاس آتے اور ان کے مسائل احسن انداز سے حل کیا کرتے تھے۔
تعلیم وتربیت
شیراہل سنت نے ابتدائی تعلیم گھرمیں حاصل کرکے گورنمنٹ ہائی سکول لاری اڈا قصور سے میٹرک کیا۔درس نظامی کے ابتدائی اسباق دارالعلوم جامعہ حنفیہ قصور میں شیخ الحدیث ابوالعلا مفتی محمدعبد اللہ قادری اشرفی سے پڑھ کر جامعہ حنفیہ دار العلوم اشرف المدارس ملتان روڈ اوکاڑہ سٹی میں داخل ہوئے،یہاں انہیں دیگراساتذہ کے علاوہ شیخ الحدیث علامہ ابوالبیان غلام علی اوکاڑوی سے شرف تلمذحاصل ہوا۔اس کے بعد آپ لاہور آگئے اوردارالعلوم حزب الاحناف میں تعلیم حاصل کرنے لگے۔شیخ الحدیث صدر المدرسین مولانامحمد مہرالدین جماعتی،شارح بخاری علامہ سیدمحموداحمد رضوی،مفتی عبدالقیوم ہزاروی اوردیگرعلما سے خوب استفادہ کیا۔دورہ حدیث مفتی اعظم حضرت شاہ ابو البرکات سیداحمدقادری سے کرکےتقریباً 1961ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت وخلافت
شیراہلسنت اپنے استاذگرامی سَندالمحدثین مفتی شاہ ابوالبرکات سیداحمد قادری صاحب سے بے حدمتاثرتھے۔انہیں سےبیعت اوربعد میں خلافت سے نوازے گئے۔ سرکارِ کلاں حضرت مولانا پیرسیّدمحمدمختاراشرفی نےبھی سلسلہ چشتیہ اشرفیہ کی خلافت عطا فرمائی۔بلاشبہ آپ جیدعالم دین،مفتی اسلام ہونے کے ساتھ ساتھ پیرکامل اورتقوی وپرہیزگاری کے پیکرتھے۔
درس وتدریس
درسِ نظامی سے فراغت کے بعد آپ نے تدریس کا آغاز اپنی مادرِ علمی دار العلوم حزب الاحناف لاہور سے کیا۔آپ کے شاگردحضرت مولانا غلام سرورچشتی برکاتی قصوری فرماتے ہیں کہ میں نے علامہ غلام رسول قادری اشرفی صاحب سے اسی دوران درس نظامی کی کتب پڑھیں۔مزیدفرماتے ہیں کہ سیدصاحب قبلہ بھی ان کی علمی قابلیت کے معترف تھے چنانچہ ایک مرتبہ پاکستان کے محکمہ تعلیم کی جانب سے ایک آفیسر دار العلوم میں ایک قابل عالم دین کو لینے آئے تاکہ ان کے ذریعے عربی ٹیچر کی آسامیوں کے لیے درخواست دینے والے علما کا ٹیسٹ دلوایا جائے۔میں نے سیدصاحب قبلہ کو ان کے آنے کے مقصدسے آگاہ کیاتو آپ نے استاذی علامہ غلام رسول قادری اشرفی صاحب کو ان کے ساتھ بھیجنے کا فرمایا۔(4)
صدرالمدرسین کے عہدے پر فائز ہونا
حضور شیر اہلسنت 1962ء میں مرکز اہلسنت دارالعلوم جامعہ حنفیہ،لاری اڈا قصور تشریف لے گئے اور وہاں تقریباً 16سال مدرس اوربعدمیں صدر المدرسین کے عہدے پر فائز رہے۔یہ وہ دورتھا جس میں انہیں شیخ الحدیث علامہ عبد اللہ محدث قصوری کی خاص نوازشات حاصل رہیں،ان کی شفقت اور رہنمائی کی برکت سے آپ کو درس نظامی کی کتب پڑھانے میں رسوخ حاصل ہوا۔یہاں کثیر علمانے آپ سے استفادہ کیا،ان علما میں برطانیہ کے مشہورعالم دین علامہ خورشیداحمد قصوری بھی ہیں۔(5)
پیکوجامع مسجدبادامی باغ میں امامت و خطابت
شیراہل سنت نے اپنے پیرومرشد مفتی اعظم علامہ شاہ ابوالبرکات قادری کے حکم پر 16شوال1398ھ مطابق 20ستمبر1978ءکو پیکوجامع مسجدبادامی باغ لاہور میں تشریف لائے اورامامت وخطابت فرمانے لگے۔آپ اس علاقے کےمرجع تھے۔ علما وعوام مسائل دینیہ کے حل کے لیے آپ کے پاس آتے اورآپ ان کی رہنمائی فرمایا کرتے تھے۔آپ تحریری فتاویٰ بھی دیا کرتے تھے۔
جامع مسجدحنفیہ غوثیہ شادباغ میں خدمات
شادباغ کی مرکزی جامع مسجدحنفیہ غوثیہ(6)میں خطیب کی حاجت تھی۔وہاں کی انتظامیہ آپ کی خدمت میں حاضرہوئی اوروہاں جانے کی درخواست کی۔آپ نے ان کے اصرار پر وہاں خطبہ جمعہ کی ذمہ داری قبول کرلی۔جب جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہورکے شیخ الحدیث،قطب لاہورمفتی عزیزاحمد بدایونی کا وصال ہواتو آپ کے بارے میں جوکلمات لکھے اس میں اپنا نام یوں تحریرکیا:فقیرقادری ابوالارشادغلام رسول اشرفی برکاتی خطیب جامع مسجدحنفیہ غوثیہ شادباغ لاہور۔(7)
ادارہ معارف نعمانیہ شادباغ کی سرپرستی
خطابت کے ساتھ آپ مسجدسے متصل جامعہ حنفیہ غوثیہ میں ناظم اعلیٰ بھی مقرر ہوئے۔ اس مسجدسے متصل اہل سنت کا ایک اشاعتی ادارہ بنام ادارہ معارف نعمانیہ شادباغ لاہورقائم تھا،آپ نے بطور سرپرست اعلیٰ اس میں اپنا کرداراداکیا۔
وصال وتدفین
شیراہلسنت نے 17 رمضان المبارک 1416ھ مطابق 7 فروری 1996 بروز بدھ پیکو جامع مسجدکے حجرے میں وصال فرمایا اور بعد نماز جنازہ اسی احاطے میں تدفین ہوئی۔
آپ کے صاحبزادے اور جانشین حضرت مولانا محمد احمد قادری اشرفی صاحب آپ کاعرس ہرسال شوال کے تیسرے ہفتہ کوآپ کے مزار شریف پرمنعقد کرتے ہیں جس میں علماومشائخ اہلسنت شریک ہوتے ہیں۔
صوفی اللہ دتہ نقشبندی
مفتی غلام رسول قادری قصوری رحمۃ اللہ علیہ کے مزارپر حاضری کے بعد ہم وسن پورہ روانہ ہوئے جہاں ہمیں زمانہ قریب کے بزرگ حضرت مولاناصوفی اللہ دتہ نقشبندی کے مزار پر جاناتھا۔10، 15 منٹ سفرکرکے ہم صوفی صاحب کے مزار پر پہنچے جوعظیم الشان مسجدکے مین گیٹ کے اندر خارج مسجد میں موجود ہے۔فاتحہ کے بعد اس مسجد کے امام صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ماشاء اللہ الکریم بااخلاق اورحسن ظاہری سے متصف تھے، ان کے چہرے کی مسکراہٹ ان کے خاندانی شرافت کی عکاسی کرتی تھی۔ انھوں نے ہم سے گفتگوکی جس کا خلاصہ یہ کہ میں استاذ العلماءحضرت علامہ مفتی عبداللطیف جلالی رحمۃ اللہ علیہ کا بیٹاہوں،حفظ قرآن کے بعد درس نظامی میں داخل ہوااوراس کے چار درجات پڑھے ہیں ابھی والدصاحب کی ترغیب پر اس مسجد میں بطورخطیب دینی خدمات سرانجام دے رہاہوں،میرے دیگرتین بھائی بھی والد صاحب کی ترغیب پر مختلف مساجد میں امامت وخطابت فرمارہے ہیں۔انھوں نے امیراہل سنت سے محبت کا اظہارکرتے ہوئے ملاقات کی خواہش کاذکر کیا اوردعوت اسلامی کے بارے میں محبت بھرے کلمات ارشاد فرمائے۔ذیل میں صوفی اللہ دتہ صاحب کے حالات زندگی رقم کئے جاتے ہیں:
1شیراہل سنت حضرت مولانامفتی پیر غلام رسول قادری اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق معلومات آپ کے صاحبزادے اور جانشین حضرت مولانا محمد احمد قادری اشرفی صاحب نے تحریری طورپر دیں۔اس پر راقم ان کا شکرگزارہے۔
2کوٹ مرادخاں(Kot Murad Khan) قصورشہرکے بارہ کوٹوں میں سے ایک ہے۔یہ مین شہرسے جانب جنوب چراغ شاہ روڈ اورروحی نالہ روڈکی جانب ہے اس میں بچیوں کا ہائی اسکول اورگورنمنٹ چراغ شاہ ڈگری کالج اہم تعلیمی ادارے موجود ہیں۔اہم مساجدمیں مبارک علی شاہ ہمدانی مسجدہے۔
3قصور(Kasur)پنجاب پاکستان کاایک قدیم شہرہے۔یہ لاہورشہرسے جانب جنوب 55کلومیٹردورہے۔پہلے یہ ضلع لاہور کی ایک تحصیل تھا۔یکم جولائی 1976ء میں اسے ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔اس کی چارتحصیلیں ہیں: قصور، پتوکی، چونیاں اور رادھا کشن۔ قصور شہر ضلعی ہیڈکوارٹر بھی ہے۔جسے بارہ کوٹوں میں تقسیم کیاگیا ہے،ماضی میں ہر کوٹ کاایک دروازہ ہوتا تھا مگریہ سب ختم ہوگئے البتہ کوٹ موجودہیں۔قصورشہرکی آبادی چارلاکھ کے قریب ہے۔
4پیکوجامع مسجد (Peco Mosque )بادامی باغ لاہورجنرل بس اسٹینڈ المعروف لاری اڈاکے جانب مشرق صرف ڈیڑھ کلومیٹر پیکوروڈپر واقع ہے۔اس کے مشرق میں شادباغ اورمغرب میں شاہی قلعہ اوربادشاہی مسجدہے۔
5برطانیہ کے جید علماءاہل سنت اور مشائخ، 2/ 464
6مرکزی جامع مسجدحنفیہ غوثیہ(Jamia Masjid Hanfia Ghousia ) لاہورکے علاقے شادباغ (Shad Bagh)کی سب سے بڑی اورخوبصورت مسجدہے۔یہ شادباغ کےمشہورگول گراونڈ(Gol Ground) کے مشرق میں دوگلیوں کے بعد، پیکوجامع مسجدسے جانب مشرق ایک کلومیٹرکے فاصلے پر ہے۔
7احوال وآثارمفتی عزیزاحمدبدایونی،ص116
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع