30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رکھی اور اس کی تعمیر میں بنفسِ نفیس حصہ لیا۔ یہ آپ کی بعثت کے بعد اسلام کی پہلی مسجد ہے جو آپ کے مبارک ہاتھوں سے تعمیر ہوئی۔ قرآنِ پاک کی گواہی کے مطابق اس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔ مسجد کی تعمیر کیلئے حضرت کلثوم نے اپنی ایک ایسی بنجر زمین پیش فرمائی جس میں وہ کھجوریں خشک کیا کرتے تھے۔1 مسجدکی تعمیر کے بعد آپ نے مدینہ شریف جانے کاارادہ فرمایا۔ یہ جمعہ کی مبارک صبح تھی، ہر طرف اجالے ہی اجالے تھے، غلاموں کے چہرے نورِ ایمان سے جگمگا رہے تھے۔ حضرت انس فرماتے ہیں: جس روز مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مدینے میں تشریف لائے، اَضَاءَ مِنْہَا کُلُّ شَیْءٍ تو آپ کے نور سے مدینہ شریف کی ہر چیز چمک اٹھی۔(گویا ہر طرف نور ہی نور تھا) 2
پہلا جمعہ اور بنو نجار میں آمد:
یہ کاروانِ رحمت جب بنی سالم بن عمرو بن عوف کے محلے میں پہنچا تو سورج ڈھل گیا اور جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا۔ وہیں نمازِ جمعہ ادا کرنے کاحکم ہوا۔3آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نماز سے پہلے تقویٰ کے موضوع پر خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس فصیح و بلیغ خطبے میں قرآنی آیات اس خوبصورتی کے ساتھ گفتگو میں شامل ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے ہار میں چن چن کر ہیرے جڑ دیئے گئے ہوں۔ نماز کے بعد آپ پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور اس کی مہار ڈھیلی چھوڑ دی، ساتھ ارشاد فرمایا: خَلُّوْاسَبِیْلَہَا فَاِنَّہَا مَامُوْرَۃٌ یعنی میری اونٹنی کا را ستہ چھوڑ دو! یہ حکمِ الٰہی کی پابند ہے ۔ اونٹنی چلتےچلتے آپ کے ننھیال کے محلے بنو عدی بن نجار پہنچی تو
1 بخاری ، 2/594، حدیث:3906-سبل الہدی والرشاد، 3/267
2ترمذی،5/355،حدیث:3638
3دلائل النبوۃ للبیہقی، 2/500
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع