دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qurbani Kay Fatawa | قربانی کےفتاویٰ

book_icon
قربانی کےفتاویٰ
            

قربانی کے گوشت اور کھال کا حکم

قربانی کا گوشت کب تک استعمال کر سکتے ہیں ؟

فتویٰ نمبر :48 قربانی کا گوشت قربانی کے بعد کتنے دن تک استعمال کر سکتے ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تین دن سے زیادہ گوشت استعمال نہیں کر سکتے،آپ شریعت کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔ سائل:حافظ محمد عارف ( اٹک) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ قربانی کا گوشت جب تک چاہیں،تین دن یا اس سے زیادہ بھی اس کو ذخیرہ کر سکتے ہیں اور اس کو کھا سکتے ہیں،شرعی اعتبار سے اس میں مخصوص ایام کی کوئی حد بندی نہیں ہے، پہلے نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو رکھنے اور کھانے سے منع فرمایا تھا، پھربعد میں اس کی اجازت عطا فرما دی۔ چنانچہ حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے،وہ فرماتے ہیں:’’ إن النبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قال لا یأکل أحدکم من لحم أضحیتہ فوق ثلٰثۃ أیام ‘‘بے شک نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایک بھی تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کے گوشت میں سے نہ کھائے۔ حضرت سلیمان بن بریدہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں:’’ قال رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کنت نھیتکم عن لحوم الأضاحی فوق ثلاث لیتسع ذو الطول علی من لا طول لہ فکلوا ما بدالکم و أطعموا و ادخروا ‘‘رسول اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو رکھنے سے منع کیا تھا تا کہ صاحب استطاعت لوگ غیر صاحب استطاعت لوگوں کے لیے وسعت پیدا کریں، تو اب تمہارے لیے جو ظاہر ہو اس کو خود کھاؤ، دوسروں کو کھلاؤ اور ذخیرہ کرو۔ امام ترمذی علیہ رحمۃ اللہ القوی ان دونوں احادیث مبارکہ کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ إنما کان النھی من النبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم متقدماً ثم رخص بعد ذٰلک ‘‘نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے پہلے نہی وارد ہوئی تھی، پھر اس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے رخصت عطا فرما دی۔ (ترمذی شریف، جلد1، ص277،مطبوعہ کراچی) فتاوی عالمگیری میں ہے:’’ و لہ أن یدخر الکل لنفسہ فوق ثلاثۃ أیام إلا أن إطعامھا و التصدق بھا أفضل إلا أن یکون الرجل ذا عیال و غیر موسع الحال فإن الأفضل لہ حینئذ أن یدعہ لعیالہ ویوسع علیھم بہ کذا فی البدائع ‘‘قربانی کرنے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ کے لیے قربانی کا سارا گوشت اپنے لیے ذخیرہ کر لے،مگر دوسروں کو کھلانا اور اس کو صدقہ کرنا افضل ہے ،الا یہ کہ وہ شخص زیادہ اہل و عیال والا اور تنگ دست ہو ،تو اس کے لیے اس وقت افضل یہ ہے کہ اپنے عیال کے لیے رکھ لے اور ان کے لیے اس گوشت کے ذریعے وسعت پیدا کرے، بدائع میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری ،جلد 5،ص 371، مطبوعہ کراچی) صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:’’(قربانی کا گوشت)تین دن سے زائد اپنے اور گھر والوں کے کھانے کے لیے رکھ لینا بھی جائز ہے اور بعض حدیثوں میں جو اس کی ممانعت آئی ہے ،وہ منسوخ ہے۔“ (بہار شریعت جلد3حصہ15 ص345 مکتبۃ المدینہ کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم الجواب صحیح مفتی محمد قاسم عطاری کتبـــــــــــــــــــــــــہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی محمد نوید چشتی 11ذوالقعدۃ الحرام 1435ھ/07 ستمبر 2014ء

میت کی طرف سے کی گئی قربانی کے گوشت کا حکم

فتویٰ نمبر :49 کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اپنی قربانی کے علاوہ جوقربانی کسی میت مثلاوالدین وغیرھماکی طرف سے کی جاتی ہے، توکیااس کاگوشت خودبھی کھاسکتے ہیں یاسب صدقہ کرناواجب ہے؟ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ میت کی طرف سے جوقربانی کی جاتی ہے، اس میں بھی اپنی قربانی کی طرح تین حصے کرناافضل ہے ،ایک حصہ فقراء و مساکین کے لیے،دوسرا حصہ اپنے دوست واحباب اور رشتہ داروں کے لیےاور تیسرا اپنے گھر والوں کے لیے،البتہ اگرسارا رکھ لے توبھی جائزہے،ہاں اگرمیت نے فوت ہونے سے پہلے وصیت کی تھی، توساراصدقہ کردے ،خودنہ کھائے،جیساکہ علامہ محمدامین ابن عابدین شامی قدس سرہ السامی لکھتے ہیں:’’ من ضحی عن المیت یصنع کمایصنع فی أضحیۃ نفسہ من التصدق والأکل والأجرللمیت والملک للذابح۔قال الصدر:والمختارأنہ ان بأمرالمیت لایأکل منھاوالایأکل ‘‘ ترجمہ:جس نے میت کی طرف سے قربانی کی توصدقہ اورکھانے میں اپنی ذاتی قربانی والامعاملہ کیاجائے اوراجروثواب میت کے لیے ہوگااورملکیت ذبح کرنے والے کی ہوگی اورصدرالشریعہ نے فرمایاکہ مختاریہ ہے کہ اگرمیت کی وصیت پرقربانی کی توخودنہ کھائے، ورنہ کھاسکتاہے۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار،کتاب الاضحیۃ،ج09،ص540،مطبوعہ کوئٹہ) اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن سے اسی طرح کاایک سوال کیاگیاکہ منجانب میت(میت کی طرف سے) جوقربانی دی جائے اس گوشت کوکس طرح تقسیم کیاجائے؟توآپ نے جواباارشادفرمایا:’’اس کے بھی یہی حکم ہیں جواپنی قربانی کے،کہ کھانے،کھلانے،تصدق،سب کااختیارہےاورمستحب تین حصے ہیں ایک اپنا،ایک اقارب،ایک مساکین کا،ہاں اگرمیت کی طرف سے بحکم میت کرے،تووہ سب تصدق کی جائے۔‘‘ (فتاوی رضویہ،ج20،ص455،مطبوعہ رضافاؤنڈیشن،لاہور) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم الجواب صحیح مفتی محمد قاسم عطاری کتبـــــــــــــــــــــــــہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی عبدالرب شاکر عطاری مدنی 03صفرالمظفر1437ھ/16نومبر2015ء

غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دینے کا حکم

فتویٰ نمبر :50 کیافرماتےہیں علمائےدین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارےمیں کہ غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دے سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتا دیں کہ ہمارے ہاں جو غیر مسلم ہیں وہ ذمی ہیں یا حربی؟ سائل:بلال رضا عطاری(کھاریاں،گجرات) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ غیر مسلم کوقربانی کا گوشت نہیں دینا چاہیے کہ قربانی شعارِ اسلام اور اعلیٰ درجے کی عبادت ہے،جسےلینے دینے کا تعلق بھی عابدین مسلمین یعنی خدا کو تنہا معبود ماننے والوں اور اس عبادت کو مسلمانوں تک پہنچانے والے سچے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ماننے والوں کے ساتھ ہی ہونا چاہیے۔ جہاں تک ہمارے ملک کے غیر مسلموں کا تعلق ہے کہ ذمی ہیں یا حربی تو اس کا جواب یہ ہے کہ ذمی وہ کافر ہوتاہے،جواسلامی حکومت کوجِزیہ دیتا ہو۔چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:’’ الذمی الذی یؤدی الجزیۃ ‘‘ترجمہ:ذمی وہ کافر ہے،جو(اسلامی حکومت کو)جِزیہ دیتاہے۔ (بدائع الصنائع،ج7،ص237،دارالکتب العلمیۃ،بیروت) فتاوی فیض الرسول میں ہے:’’ذمی اس کافر کو کہتے ہیں، جس کے جان و مال کی حفاظت کا بادشاہِ اسلام نے جِزیہ کے بدلے ذمہ لیا ہو۔‘‘ (فتاوی فیض الرسول،ج1،ص501،شبیر برادرز،لاہور) ذمیوں کے علاوہ سب حربی ہوتے ہیں الا یہ کہ مستامن ہوں او روہ بھی اصالتاً حربی ہی ہوتا ہے، لیکن اسے امان حاصل ہوتی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمارے ملک میں رہنےوالے غیر مسلم حربی ہیں اور انہیں قربانی کا گوشت نہیں دینا چاہیے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 02ربیع الثانی1441ھ/30نومبر2019ء

قربانی کے جانور کی کھال اجرت میں دینا کیسا ؟

فتویٰ نمبر :51 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی کا جانور ذبح کرنے والے قصاب کو ذبح کرنے اور گوشت بنانے کے بدلے قربانی کی کھال بطورِ اُجرت دے سکتے ہیں یا نہیں؟ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ قصاب کو اُجرت کے طور پر قربانی کے جانور کی کوئی چیز مثلاً گوشت، سِری، پائے یاکھال وغیرہ دینا جائز نہیں، بلکہ اس کے لیے الگ سے اُجرت طے کریں۔ علامہ علاؤ الدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: لَایُعْطٰي اَجْرُ الْجَزَّارِ مِنْھَا لِاَنَّہُ کَبَیْعٍ ترجمہ: ذبح کرنے والے کو قربانی میں سے کوئی چیز بطورِ اُجرت نہیں دے سکتے ،کیونکہ یہ بھی بیع(خرید و فروخت) ہی کی طرح ہے۔ ( درمختار،9/543) اعلیٰ حضرت امام ِاہلِ سنت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ایک مقام پر قربانی کی کسی چیز کو اُجرت کے طور پر دینے کا حکم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:اگر یہ اجرت قرار پائی تو حرام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 20/449) صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: قربانی کا چمڑا یا گوشت یا اس میں کی کوئی چیز قصاب یا ذبح کرنے والے کو اجرت میں نہیں دے سکتا۔ (بہار ِشریعت، 3/346) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی ابومحمد علی اصغر عطاری مدنی ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017ء

قربانی کی کھالیں مدرسے میں دینا اور اس کی رقم مدرسہ کی تعمیر اور بچوں پر خرچ کرنا کیسا ؟

فتویٰ نمبر :52 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ (1)کیاقربانی کے جانور کی کھال مدرسہ میں دے سکتے ہیں؟ (2)کھالیں وصول کرنے کے بعد مدرسہ انتظامیہ اسے بیچ کر مدرسہ کی تعمیر اور مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والےبچوں پر خرچ کر سکتی ہے یا نہیں؟ سائل عثمان عطاری (فیصل آباد) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ (1)جی ہاں !قربانی کے جانورکی کھال مدرسہ میں دے سکتے ہیں۔ قربانی کے متعلق نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :” فكلوا وادخروا واتجروا “ترجمہ :اسے کھاؤ،اٹھا رکھو اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرو۔ (سنن ابو داؤد ،کتاب الضحایا،باب فی حبس لحوم الاضاحی،ج2،ص40،لاہور) قربانی کے کھال کا مصرف بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں:”ہر قربت کے کام میں صرف کر سکتے ہیں ، جیسے مدرسہ دینیہ کی اعانت۔۔اس کار قربت مثل مسجد یا مدرسہ دینیہ یا تعلیم یتیماں میں صرف کرنے کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ خود اس نیت سے بیچ کر اس کار خیر میں صرف کرنے والوں کو دے دیں۔ “ (فتاوی رضویہ ،ج20،ص495،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) (2) مدرسہ کی انتظامیہ ان کھالوں کو بیچ کرمدرسہ کی تعمیر اور طلباء پر معروف طریقے سے خرچ کر سکتی ہے ۔ قربانی کی کھال کے متعلق اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں :”مسجد میں دے سکتے ہیں ۔۔ پھر مہتممان مسجد کو اختیار ہے کہ اسے بیچ کر مسجد کے جس کام میں چاہیں لائیں ،اگرچہ امام موذن یا فراش کی تنخواہ ۔۔مہتمم مدرسہ کو دے دے وہ تنخواہ میں دے ،یا جس کار دینی مدرسہ دینیہ میں چاہے صرف کرے ،مدرسہ دینیہ کی عمارت میں خرچ کر سکتا ہے کہ قربت ہے۔۔اسے کتابوں سے بدل کر طلبہ کو دے سکتے ہیں ۔“ (فتاوی رضویہ ،ج20،ص494تا496،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 26ذی القعدہ1439ھ/09اگست 8201ء

تنخواہ لینے والے امام کو قربانی کی کھالیں دینا کیسا ؟

فتویٰ نمبر :53 کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک امام مسجد ہیں جو خود صاحب نصاب ہیں، وہ نماز پنجگانہ، نماز جمعہ اور نماز جنازہ بغیر کسی اجرت یا تنخواہ کے پڑھاتے ہیں اور مسجد میں آنے والے بچوں کو ناظرہ بھی مفت میں پڑھاتے ہیں، البتہ عیدین کے موقع پر تقریباً تین چار ہزار روپیہ ان کو دیا جاتا ہے ، یہ امام صاحب تقریباً پچھلے پندرہ سال سے یہ خدمت کر رہے ہیں ، پوچھنا یہ ہے کہ ان امام صاحب کو قربانی کی کھالیں دی جا سکتی ہیں یا نہیں؟ شرعاً اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ امام کو قربانی کی کھالیں تنخواہ یا اجرت کے طور پر دینا تو جائز نہیں، البتہ اگر کھالیں تنخواہ اور اجرت کے طور پر نہ ہوں، بلکہ امام کو ہدیہ کے طور پر دی جائیں یا مسجد میں دی جائیں اور متولی مسجد وہ کھالیں بیچ کر ان سے حاصل ہونے والی رقم امام صاحب کوسالانہ وظیفہ کے طور پر دے جیسا کہ سوال میں بیان ہے ،تو جائز ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت اما م احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:’’ قربانی کی کھال امام مسجد کو دینا جائز ہے ،اگر وہ فقیر ہو اور بطور صدقہ دیں یا غنی ہو اور بطور ہدیہ دیں، لیکن اگر اس کی اجرت اور تنخواہ میں دیں، تو اس کی دو صورتیں ہیں، اگر وہ اپنا نوکر ہے ،تو اس کی تنخواہ میں دینا جائز نہیں اور اگر وہ مسجد کا نوکر ہے اور کھال مہتمم مسجد کو مسجد کے لیے دے دی اس نے مسجد کی طرف سے امام کی تنخواہ میں دے دی ،تو اس میں کچھ حرج نہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد20، ص 480،رضا فاؤنڈیشن، لاہور) سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:’’ (قربانی کی کھال) اگر تنخواہ میں دے ،تو امام اگر اس کا نوکر ہے جس کی تنخواہ اسے اپنے مال سے دینی ہوتی ہے، تو دینا، ناجائز کہ یہ وہی تمول ہوا جو ممنوع ہے اور اگر وہ مسجد کا نوکر ہے جس کی تنخواہ مسجد دیتی ہے، تو جائز ہے کہ یہ مسجد میں دےدے اور مسجد کی طرف سے امام کی تنخواہ میں دی جائے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد20، ص 480،رضا فاؤنڈیشن، لاہور) صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:چرم قربانی خود بھی استعمال میں لا سکتے ہیں اور دوسرے کو بھی دے سکتے ہیں، اگر امام کو دیا جب بھی حرج نہیں بشرطیکہ یہ دینا اجرت ِامامت میں نہ ہو، بلکہ بغرض اعانت ہو، در مختار میں ہے: ’’ و یتصدق بجلدھا أو یعمل منہ نحو غربال و جراب ۔‘‘ یوہیں نفلی صدقہ بھی امام کو دے سکتے ہیں، ہاں اگر صدقہ واجبہ ہے جیسے صدقہ فطر اور امام غنی ہو ،تو اسے نہیں دے سکتے اور اجرت ِامامت میں بھی نہیں دے سکتے، امام کو نوکر رکھنا مثلاً ماہانہ اتنا دیا جائے گا یہ جائز ہے، مگر یہ اجرت صدقہ فطر یا زکوٰۃ یا چرم قربانی سے ادا نہ کی جائے، بلکہ مسجد کی آمدنی سے یا چندہ کر کے تنخواہ ادا کریں۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد3، ص312، مکتبہ رضویہ، کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم الجواب صحیح مفتی محمد قاسم عطاری کتبـــــــــــــــــــــــــہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی محمد نوید چشتی 20شوال المکرم 1434ھ/28اگست 2013ء

صاحبِ نصاب امام مسجد سے تنخواہ بھی لیتا ہو ، تو اسے قربانی کی کھال دینا کیسا ؟

فتویٰ نمبر :54 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد کے امام صاحب تنخواہ لیتے ہیں اور صاحب نصاب بھی ہیں، اس حالت میں ان کو قربانی کی کھال دے سکتے ہیں یا نہیں؟شرعی رہنمائی فرما دیں۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ مسجد کے امام کو قربانی کی کھالیں تنخواہ یا اجرت کے طور پر براہ راست نہ دی جائیں ،البتہ اگر کھالیں تنخواہ اور اجرت کے طور پر نہ ہوں ،بلکہ امام کو ہدیہ کے طور پر دی جائیں، تو جائز ہے، اگرچہ امام مسجد سے تنخواہ لیتا ہو اور خود صاحب نصاب ہو، اسی طرح اگر کھالیں مسجد میں دی جائیں اور متولی مسجد وہ کھالیں بیچ کر ان سے حاصل ہونے والی رقم امام صاحب کوتنخواہ کے طور پر دے، تو یہ تنخواہ دینا بھی جائز ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت اما م احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ” قربانی کی کھال امام مسجد کو دینا جائز ہے، اگر وہ فقیر ہو اور بطور صدقہ دیں، یا غنی ہو اور بطور ہدیہ دیں، لیکن اگر اس کی اجرت اور تنخواہ میں دیں، تو اس کی دو صورتیں ہیں، اگر وہ اپنا نوکر ہے، تو اس کی تنخواہ میں دینا جائز نہیں اور اگر وہ مسجد کا نوکر ہے اور کھال مہتمم مسجد کو مسجد کے لیے دے دی اس نے مسجد کی طرف سے امام کی تنخواہ میں دے دی، تو اس میں کچھ حرج نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد20، ص 480،رضا فاؤنڈیشن، لاہور) سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن اسی طرح کے ایک اور سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:” (قربانی کی کھال) اگر تنخواہ میں دے ،تو امام اگر اس کا نوکر ہے جس کی تنخواہ اسے اپنے مال سے دینی ہوتی ہے، تو دینا ناجائز کہ یہ وہی تمول ہوا جو ممنوع ہے اور اگر وہ مسجد کا نوکر ہے جس کی تنخواہ مسجد دیتی ہے، تو جائز ہے کہ یہ مسجد میں دےدے اور مسجد کی طرف سے امام کی تنخواہ میں دی جائے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد20 ،ص 480،رضا فاؤنڈیشن، لاہور) صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:” چرم قربانی خود بھی استعمال میں لا سکتے ہیں اور دوسرے کو بھی دے سکتے ہیں ،اگر امام کو دیا جب بھی حرج نہیں بشرطیکہ یہ دینا اجرت ِامامت میں نہ ہو، بلکہ بغرض اعانت ہو، در مختار میں ہے: و یتصدق بجلدھا أو یعمل منہ نحو غربال و جراب ۔یوہیں نفلی صدقہ بھی امام کو دے سکتے ہیں، ہاں اگر صدقہ واجبہ ہے جیسے صدقہ فطر اور امام غنی ہو ،تو اسے نہیں دے سکتے اور اجرت ِامامت میں بھی نہیں دے سکتے، امام کو نوکر رکھنا مثلاً ماہانہ اتنا دیا جائے گا یہ جائز ہے، مگر یہ اجرت صدقۂ فطر یا زکوٰۃ یا چرم قربانی سے ادا نہ کی جائے، بلکہ مسجد کی آمدنی سے یا چندہ کر کے تنخواہ ادا کریں۔“ (فتاوی امجدیہ ،ج3، ص312، مکتبہ رضویہ کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم الجواب صحیح مفتی محمد قاسم عطاری کتبـــــــــــــــــــــــــہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی محمد نوید چشتی 16ربیع الثانی 1438ھ/15 جنوری 7201ء

قربانی کی کھال مسجدکی تعمیر میں دینا کیسا اور کیا قربانی کی کھال کا فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے ؟

فتویٰ نمبر :55 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ تعمیر مسجد کا کام جاری ہو، تو کیا قربانی کی کھالیں تعمیر مسجد میں صرف کی جا سکتی ہیں؟ (۲) کیا قربانی کی کھالوں میں کسی فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے؟ سائل:محمد یونس علی ( راولپنڈی) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ قربانی کی کھال ہر نیک، جائز اور ثواب والے کام میں صرف کی جا سکتی ہے اور تعمیر مسجد یا مصارف مسجد میں خرچ کرنا بھی نیک اور ثواب کا کام ہے، لہذا تعمیر مسجد میں قربانی کی کھالیں صَرف کی جا سکتی ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ حضور اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قربانی کے متعلق فرمایا:’’ فکلوا وادخروا واتجروا ‘‘ ترجمہ : پس کھاؤ، اٹھا رکھواور ثواب کے کام میں خرچ کرو۔‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الضحایا، باب حبس لحوم الاضاحی، جلد 2، صفحہ 40، مطبوعہ لاہور) فتاوی رضویہ میں ہے:’’قربانی کی کھال ہر اس کام میں صَرف کر سکتے ہیں، جو قربت و کارِ خیر و باعثِ ثواب ہو، حدیث میں ہے: ’’ فکلوا وادخروا وائتجروا ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 473، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) مزید فرماتے ہیں:’’قربانی کے چمڑوں کو للہ مسجد میں دے دینا کہ انہیں یا ان کی قیمت کو متولی یا منتظمانِ مسجد، مسجد کے کاموں مثلاً ڈول، رسی، چراغ، بتی، فرش، مرمت، تنخواہِ مؤذن، تنخواہِ امام وغیرہ میں صرف کریں، بلا شبہ جائز و باعثِ اجر و کارِ ثواب ہے، تبیین الحقائق میں ہے:’’ جاز لانہ قربۃ کالتصدق ‘‘ ترجمہ : جائز ہے، کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 476، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) فتاوی امجدیہ میں ہے:’’چرمِ قربانی مسجد میں صَرف کر سکتا ہے، یونہی بیچ کر اس کی قیمت سے مسجد کی مرمت کرنا یا لوٹا وغیرہ سامانِ مسجد خریدنا، جائز ہے، جبکہ اس کی نیت سے بیچا ہو، یا متولی مسجد کو چمڑا دیدیا، کہ اس نے بیچ کر ان چیزوں میں صَرف کیا ہو ( یہ جائز ہے)‘‘۔ (فتاوی امجدیہ، حصہ 3، صفحہ 307، مکتبہ رضویہ، آرام باغ، کراچی) (۲) قربانی کی کھالوں میں کسی فقیرِ شرعی کو مالک بنانا ضروری نہیں، کہ تملیکِ فقیر زکوۃ اور بعض صدقاتِ واجبہ میں شرط ہے، ہر صدقۂ واجبہ میں بھی لازم نہیں، جیسے کفارۂ صیام و ظہار و یمین میں، کہ ان کا کھانا کھلانے میں اباحت کافی ہے، جبکہ کھال کو صدقہ کرنا واجب بھی نہیں، ایک نفلی صدقہ ہے، اسی لیے نیک، جائز اور قربت والے کاموں میں صَرف کرنے کے علاوہ مخصوص شرائط کے ساتھ اپنے کام میں بھی لایا جا سکتا ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہی ہے:’’تصدق جس میں تملیکِ فقیر ضرور ہے، صدقاتِ واجبہ مثل زکوۃ میں ہے، ہر صدقہ واجبہ میں بھی نہیں، جیسے کفارۂ صیام و ظہار و یمین کہ ان کے طعام میں تملیکِ فقیر کی حاجت نہیں، اباحت بھی کافی ہے، کما فی فتح القدیر، وغیرہ عامۃ الکتب۔‘‘ چرم قربانی کا تصدق اصلاً واجب نہیں، ایک صدقۂ نافلہ ہے، اس میں اشتراطِ تملیک کہاں سے آیا، بلکہ ہر قربت جائز ہے، نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: ’’ کلوا وادخروا وائتجروا ‘‘ ترجمہ : کھاؤ اور ذخیرہ رکھو، اور ثواب کا کام کرو۔‘‘ کیا مسجد میں دینا ثواب کا کام نہیں، امام زیلعی تبیین الحقائق میں فرماتےہیں:’’ لانہ قربۃ کالتصدق ‘‘ ترجمہ: کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 488، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) مزید فرماتے ہیں:’’زکوۃ میں تملیک بلا عوض بہ نیتِ زکوۃ درکار ہے، بے اس کے اور وجوہِ تقرب مثل مسجد و مدرسہ و تکفینِ موتی وغیرہا میں اس کا صَرف کافی نہیں، ہاں مثلاً جو طلبہ علم مصرف ہوں، انہیں نقد یا کپڑے یا کتابیں بروجہ مذکور دے کر اعانتِ مدرسہ ممکن، کما یظھر من الدر وغیرہ۔ چرمِ قربانی میں تصدق بمعنی مسطور اصلاً ضرور نہیں، منسک متوسط میں ہے:’’ لا یجب التصدق بہ ‘‘ ترجمہ : اس کا صدقہ نہیں، مسلک متقسط میں ہے:’’ لا بکلہ ولا ببعضہ ‘‘ ترجمہ: نہ کل نہ بعض‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 497، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری 17ذوالقعدۃا لحرام1437ھ/21اگست 2016ء

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن