30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرتبہ جب آپ وہاں پہنچے تو وہ نوجوان ملنے نہيں آيا۔ آپ جلدی ميں تھے تو لشکر کے ساتھ چلے گئے جب جنگ سے فارغ ہو کر واپس رَقَّہ پہنچے تو لوگوں سے اس نوجوان کا حال دريافت کيا تو لوگوں نے بتا یا کہ کسی کا اس پر قرض چڑھ گيا تھا ، قرض خواہ نے اسے جيل ميں ڈلوا ديا ہے۔ پوچھا : اس پر کتنا قرض ہے؟ لوگوں نے جواب ديا : دس ہزار درہم۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے رات ميں قرض خواہ کو اپنے پاس بلوايا اور اسے دس ہزار درہم دے کر قسم دی کہ جب تک عبدُ اللّٰہ زندہ ہے تم اس کے بارے ميں کسی کو نہيں بتاؤ گے اور کہا کہ صبح تم اس نوجوان کو قيد سے آزاد کروا دينا۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔ نوجوان قید سے آزاد ہو کر جب شہر آيا تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آمد کی اِطّلاع ملی اورمعلوم ہوا کہ کل يہاں سے روانہ ہو گئے ہيں۔ یہ نوجوان اسی وقت پیچھے روانہ ہوا اور چند منزل بعد ملاقات ہو گئی ، آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمايا : کہاں تھے؟ ميں نے تمہیں مسافِر خانے ميں نہيں ديکھا۔ عرض کی : حضور!قرض کے سبب قيد خانے ميں تھا۔ فرمايا : پھر تمہیں آزادی کیسے ملی؟عرض کی : مجھے معلوم نہيں ، کسی نے ميرا قرض ادا کر ديا جس کی وجہ سے مجھے رہائی مل گئی۔ فرمايا : اے نوجوان! خدا کا شکر ادا کرو ، اللہ رَبُّ الْعِزَّت نے کسی کو تیرا قرض ادا کرنے کی توفيق دے دی ہو گی۔ اس نوجوان کو اِس حُسنِ سلوک کا پتا اس وقت چلا جب آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا وِصال ہو چکا تھا۔([1])
حضرتِ سیِّدُنا ابو عبدُ اللّٰہ بن قاسِمرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں بیس برس سے زیادہ عرصہ حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن محمد بن اسلم طُوسیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی کی صحبت میں رہا مگر جُمعۃ المُبارَک کے علاوہ کبھی آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو دو رَکعت نَفل پڑھتے بھی نہ دیکھ سکا۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہریاکاری کے خوف سے ایک بار فرمانے لگے : اگر میرا بس چلے تو میں کِراماً کاتبین (یعنی اَعمال لکھنے والے دونوں بُزرگ فرِشتوں)سے بھی چھپ کر عبادت کروں! آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہپانی کا کوزہ لیکر اپنے کمرۂ خاص میں تشریف لے جاتے اور اندر سے دروازہ بند کر لیتے تھے۔ میں کبھی بھی نہ جان سکا کہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کمرے میں کیا کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ایک دن آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مَدَنی مُنّا زور زور سے رونے لگا۔ اس کی امّی جان چُپ کروانے کی کوشش کر رہی تھیں ، میں نے کہا : مدنی مُنّا آخِر اس قَدَر کیوں رو رہا ہے؟بی بی صاحِبہ نے فرمایا : اس کے ابّو(حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن طُوسیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی)اس کمرے میں داخِل ہو کر تلاوتِ قرآن کرتے ہیں اور روتے ہیں تو یہ بھی ان کی آواز سُن کر رونے لگتا ہے۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے اُس کمرۂ خاص سے عبادت کرنے کے بعد باہَر نکلنے سے پہلے اپنا مُنہ دھوکر آنکھوں میں سُرمہ لگا لیتے تاکہ چہرہ اور آنکھیں دیکھ کر کسی کو اندازہ نہ ہونے پائے کہ یہ روئے تھے! ([2])
عطا کر دے اِخلاص کی مجھ کو نعمت
نہ نزدیک آئے ریا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع