دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Muntakhab Hadeesen | منتخب حدیثیں

book_icon
منتخب حدیثیں

فوائد و مسائل : (۱)اس حدیث کو امام بخاری نے ’’مَغازی ‘‘اور’’دِیَات ‘‘میں بھی ذکر فرمایا ہے اور امام مسلم نے کتاب الا یمان میں اور نسائی نے کتاب العلم میں اور ابن ما     جہ نے کتاب الفِتَن میں تحریر فرمایا ہے۔ ([1])

(۲)مسلمان کے قتل کو حلال سمجھ کر کسی مسلمان کا خون کردینا کفر ہے اور مسلمان کے قتل کو حرام جانتے اور مانتے ہوئے کسی مسلمان کو ناحق قتل کردینا گناہ کبیرہ ہے جس پر قرآن مجید میں عذاب شدید کی وعید آئی ہے۔

(۳) عالِموںکی تقریر کے لیے بات چیت کرنے والے مجمع کو خاموش کرانا جائز ہے۔ (۴)وعظ و تقریر کے وقت حاضرین مجلس کو خاموش ہو کر سکون و اطمینان کے ساتھ وَعْظ اور خطبہ سننا لازم ہے ۔فقط واﷲ   تَعَالٰی  اعلم۔

کتے کو پانی پلانے والا

حدیث : ۱۵

            عَنْ اَبیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ رَجُلًا رَاٰی کَلْبًا یَأْکُلُ الثَّریٰ مِنَ العَطَشِ فَاَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّہٗ فَجَعَلَ یَغْرِفُ لَہٗ بِہٖ حَتّٰی اَرْوَاہُ فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہٗ فَاَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ۔([2])   

   (بخاری، ج۱، باب اذا شرب الکلب فی الاناء، ص۲۹)

            ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ ایک آدمی نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاس کی و   جہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس میں چلو سے پانی بھر کر اس کتے کو پلایا یہاں تک کہ وہ سیراب ہوگیا تو  اللہ   تَعَالٰی  کو اس کا یہ کام پسند آیا اور اس کو جنت میں داخل کردیا۔

فوائد و مسائل :  (۱)یہ حدیث بخاری شریف میں ’’ شُرب‘‘ ’’مَظالِم‘‘ ’’اَدَب‘‘ ’’ذِکر ِبنی اِسرائیل‘‘ کے بابوں میں بھی مذکور ہے اور مسلم نے ’’باب الحیوان‘‘اور ابو داود نے ’’کتاب الجہاد‘‘ میں بھی نقل کیا ہے۔ ([3])

(۲)یہ حدیث بخاری شریف کی ایک روایت میں یوں بھی آئی ہے کہ اس حدیث کو سُن کر صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کیاکہ یارسول  اللہ  !  عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکیا چوپایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں بھی ہم کو ثواب ملے گا؟تو ارشاد فرمایا کہ ہاں ’’فِیْ کُلِّ کَبِدٍ رَطْبَۃٍ اَجْرٌ ‘‘ ([4])  ہر گیلے جگر میں یعنی ہر جاندار کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں ثواب ہے۔(قسطلانی ، ج۱، ص۴۴۲) اور یہی حدیث انہی حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی روایت سے اسی بخاری شریف میں اس طرح بھی آئی ہے کہ

            ایک شخص پر راستہ چلتے ہوئے پیاس کا غلبہ ہوا تو اس کو ایک کنواں ملا اُس نے کنویں میں اُتر کر پانی پی لیا پھر جب وہ کنویں میں سے نکلا تو ناگہاں یہ دیکھا کہ ایک کتا زبان نکالے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے تو اس آدمی نے دل میں یہ سوچا کہ جیسی پیاس مجھ کو لگی تھی ایسی ہی پیاس اس کتے کو بھی لگی ہے تو وہ کنویں میں اتر کر اپنے موزہ میں پانی بھرکر لایا پھر کتے کو پلایاتو اس کا یہ عمل خدا کو پسند آگیا اور اس کو بخش دیا۔یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول  اللہ  ! عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکیا ہمارے لیے چوپایوں کے ساتھ احسان کرنے میں ثواب ہے ؟تو ارشاد فرمایا کہ ہاں! ہر گیلے جگر میں یعنی ہر جاندار کے ساتھ احسان کرنے میںثواب ہے۔  ([5])

(۳)اس روایت میں تو یہ واقعہ بنی اسرائیل کے ایک مرد کا ہے مگر بخاری شریف کی ایک دوسری روایت میںاسی قسم کا ایک واقعہ زنا کار عورت کا بھی بیان ہوا ہے چنانچہ

 اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہغُفِرَ لِامْرَأَۃٍ مُوْمِسَۃٍ مَرَّتْ بِکَلْبٍ عَلٰی رَأْسِ رَکِیٍّ یَلْھَثُ قَالَ : کَادَ یَقْتُلُہُ الْعَطَشُ فَنَزَعَتْ خُفَّھَا فَاَوْثَقَتْہُ بِخَمَارِھَا فَنَزَعَتْ لَہٗ مِنَ الْمَائِ فَغُفِرَ لَھَا بِذَالِکَ  ([6]) (بخاری، باب اذا وقع الذباب، ج۱، ص۴۶۷)

            یعنی ایک زنا کار عورت کی مغفرت اس طرح ہوگئی کہ وہ ایک کتے کے پاس سے گزری جو ایک کنویں کے پاس زبان نکالے ہوئے تھا اور قریب تھا کہ پیاس کی شدت اس کو مارڈالے تو اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اور اس کواپنے دوپٹے میں باندھ کر کنویں میں سے پانی بھر کر اس کو پلایا تو  اللہ   تَعَالٰی  نے اس عمل کے اجر میں اس کو بخش دیا۔

(۴)اس حدیث میں تمام مخلوق پر رحم و کرم کرنے کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے اور یہ کہ  اللہ   تَعَالٰی  فاعل ِمختار ہے وہ چاہے تو ایک بہت ہی ادنیٰ سے نیک عمل کرنے والے کو اپنے فضل و کرم سے بخش دے ۔اس کے دربار میں عمل کے وزن اور مقدار کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کی بارگاہ میں خلوصِ نیت اور اخلاصِ عمل کی قدر ہے، بہت ہی معمولی عمل اگر بندہ اِخلاص و نیک نیتی کے ساتھ کرے تو وہ ربّ ِکریم اس عمل کے ثواب میں بندے کو اپنے رضوان وغفران کی نعمتوں سے سرفراز فرماکر اس کو جنت الفردوس کا مکین بنادیتا ہے۔

رحمتِ حق بہانہ می جوید         رحمت حق بہا، نمی جوید

            خدا کی رحمت بندوں کو بخشنے کا بہانہ ڈھونڈتی ہے ۔خدا کی رحمت بندوں سے مغفرت کی قیمت نہیں طلب کرتی ہے۔

 



[1]      عمدۃ القاری، کتاب العلم، باب الانصات للعلماء، الحدیث : ۱۲۱، ج۲، ص۲۶۲۔۲۶۳

[2]      صحیح البخاری، کتاب الوضوئ، باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم۔۔۔ الخ،            الحدیث : ۱۷۳، ج۱، ص۸۳

[3]      عمدۃ القاری، کتاب الوضوئ، باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم۔۔۔الخ، تحت             الحدیث : ۱۷۳، ج۲، ص۴۹۱

[4]     ارشادالساری، کتاب الوضوئ، باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم ۔۔۔الخ، تحت             الحدیث : ۱۷۳، ج۱، ص۴۵۷

[5]      صحیح البخاری، کتاب المظالم والغصب، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن