30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ ایک بار تو حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے اپنے کمبل شریف میں لے کر دعا دی،دوسری بار جب حضرت ابن عباس نے حضور صلی الله علیہ و سلم کے وضو کے لیے پانی رکھا حضور صلی الله علیہ و سلم استنجاء خانہ میں تشریف لے گئے تھے باہر تشریف لائے پانی رکھا ہوا دیکھ کر دعا دی۔(اشعہ،مرقات)جب حضرت عبدالله ابن عباس کو قبر میں رکھا گیا تو لوگوں نے غیبی آوازسنی"یٰۤاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً"دیکھو اشعۃ اللمعات۔ حکمت سے مراد ہے قرآن مجید کا علم، حدیث شریف کی باریکیوں تک ذہن کی رسائی،قرآن و حدیث سے مسائل شرعیہ فرعیہ کا استنباط۔
|
6161 -[27] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَنِّيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِين. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جناب جعفر فقراء سے بہت محبت کرتے تھے ۱؎ اور ان کے پاس بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے ۲؎ وہ آپ سے باتیں کرتے تھے رسول الله صلی الله علیہ و سلم آپ کی کنیت ابو المساکین رکھتے تھے۳؎(ترمذی) |
۱؎ اگرچہ تمام صحابہ و اہل بیت مساکین سے محبت کرتے تھے مگر حضرت جعفر ابن ابی طالب ان سے بہت ہی زیادہ محبت کرتے تھے اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر فرمایا۔
۲؎ یعنی حضرت جعفر کی اکثر نشست و برخاست زیادہ بات چیت غرباء و مساکین سے ہوتی تھی۔
۳؎ عربی میں ابو بہت معنی میں آتا ہے باپ،والا،مہربان یہاں آخری دو معنی میں ہے یعنی مسکینوں والے یا مسکینوں پر بہت مہربان۔
|
6162 -[28] وَعَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں نے جناب جعفر کو فرشتوں کے ساتھ جنت میں اڑتے دیکھا ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یہ فرمان عالی حضرت جعفر کی شہادت کے بعد کا ہے،آپ غزوہ موتہ میں شہید ہوئے لہذا یہاں دیکھنے سے مراد معراج میں دیکھنا نہیں بلکہ بیداری میں مدینہ منورہ سے دیکھنا مراد ہے۔معلوم ہوا کہ حضور کی نگاہ مدینہ میں رہ کر جنت کو دیکھتی ہے تو یقینًا ہم کو بھی دیکھتی ہے،حضور بفضلہ تعالٰی ناظر ہیں بلکہ حاضر ہیں کہ نماز کسوف میں حضور نے ہاتھ بڑھایا پھر سمیٹ لیا بعد میں فرمایا کہ جنت کا خوشہ ہم نے پکڑ لیا تھا مگر چھوڑ دیا،جب ان کی نگاہ ان کا ہاتھ مدینہ میں رہتے ہوئے جنت میں پہنچ سکتا ہے تو ہم غریبوں کے پاس بھی پہنچ سکتا ہے ؎
اے فروغت صبح آثار و دھور چشم تو بینندہ ما فی الصدور
اس حدیث کی بنا پر آپ کا لقب ہے جعفر طیار۔
|
6163 -[29] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شباب أهل الْجنَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں ۱؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع