دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۱؎ اہل عرب کا عقیدہ تھا کہ بیماریوں میں عقل و ہوش ہے جو بیمار کے پاس بیٹھے اسے بھی اس مریض کی بیماری لگ جاتی ہے وہ پاس بیٹھنے والے کو جانتی پہچانتی ہے یہاں اسی عقیدے کی تردید ہے۔موجودہ حکیم ڈاکٹر سات بیماریوں کو متعدی مانتے ہیں: جذام،خارش،چیچک،موتی جھرہ ،منہ کی یا بغل کی بو،آشوب چشم،وبائی بیماریاں اس حدیث میں ان سب وہموں کو دفع فرمایا گیا ہے۔(مرقات و اشعہ)اس معنی سے مرض کا اڑ کر لگنا باطل ہے مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کسی بیمار کے پاس کی ہوا متعفن ہو اور جس کے جسم میں اس بیماری کا مادہ ہو وہ اس تعفن سے اثر لے کر بیمار ہوجاوے اس معنی سے تعدی ہوسکتی ہے اس بنا پر فرمایا گیا کہ جذامی سے بھاگو لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔غرضکہ عددی یا تعدی اور چیز ہے کسی بیمار کے پاس بیٹھنے سے بیمار ہوجانا کچھ اور چیز ہے۔

۲؎ اہلِ عرب کا خیال تھا کہ میت کی گلی ہڈیاں الو بن کر آجاتی ہیں اور الو جہاں بول جاوے وہاں ویرانہ ہوجاتا ہے یہ عقیدہ غلط ہے،بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس مقتول کا بدلہ نہ لیا جاوے اس کی روح الو کی شکل میں آکر لوگوں سے کہتی ہے اسقو،اسقو مجھے پانی پلاؤ یہ سب باطل خیالات ہیں۔

۳؎  صفر سے مراد یا تو ماہ صفر ہے جسے اب بھی بعض منحوس جانتے ہیں یا اس سے مراد پیٹ کا درد ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ پیٹ کا درد ایک سانپ ہے جو پیٹ میں رہتا ہے اس کا مروڑہ کھانا پیٹ کا درد ہے اس میں ان دونوں خیالات کی تردید ہے۔(مرقات)اس کی اور بہت شرحیں ہیں۔بعض لوگ صفر کے آخری چہار شنبہ کو خوشیاں مناتے ہیں کہ منحوس شہر چل دیا یہ بھی باطل ہے۔

۴؎  یہ حکم عوام کے لیے ہے جن کا عقیدہ بگڑ جانے کا خوف ہو کر اگر کوڑھی کے پاس بیٹھنے سے اتفاقًا انہیں بھی کوڑھ ہوجائے تو سمجھیں کہ کوڑھ اڑ کر لگ گئی ان کے لیے کوڑھی سے علیحدگی اچھی ہے،خاص متوکل لوگ جن کے دلوں پر اس سے کوئی اثر نہ پڑے ان کے لیے یہ حکم نہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

4578 -[3]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صفر» . فَقَالَ أَعْرَابِي: يَا رَسُول فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ لَكَأَنَّهَا الظباء فيخالها الْبَعِير الأجرب فيجر بِهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمن أعدى الأول» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مرض کا اڑ کر لگنا ہے  نہ کوئی چیز ہے اور نہ صفر تو ایک دیہاتی نے عرض کیا یارسول اللہ اونٹ کا کیا حال ہے کہ وہ ریگستان میں ہرن کی طرح ہوتا ہے ۱؎  پھر اس سے خارشی اونٹ ملتا ہے تو اسے خارشی کردیتا ہے۲؎  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو پھر پہلے اونٹ کو کس نے خارشی کردیا۳؎(بخاری)

۱؎  یعنی جب تک اونٹ ریگستان میں الگ تھلگ رہتا ہے ہرن کی طرح صاف ستھرا بے عیب ہوتا ہے۔

۲؎  مقصد یہ ہے کہ حضور مرض کی تعدی کا انکار فرماتے ہیں مگر تجربہ شاہد ہے کہ تعدی ہوتی ہے مرض اڑکر لگتا ہے ہم نے اپنے اونٹوں میں اس کا مشاہدہ کیا ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن