30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی دوسری خوشخبری اور سنو اور خوش ہو،کیوں نہ خوش ہوں جب رب تعالٰی نے ہم کو ایسے بشیرونذیر کی امت میں بنایا یعنی ایک عمل ایسا بھی ہے جس سے عامل کو جنت کا اوپر والا درجہ ملتا ہے،جو سو درجے بلند ہے،ہر دو درجوں کا اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔
۴؎ اگرچہ اسلام میں جہاد بھی آگیا تھا مگر چونکہ یہ دوسرے اعمال سے بہت افضل ہے اور اس کا ثواب بہت زیادہ ہے اس لیے اسے خصوصیت سے علیٰحدہ بیان فرمایا یا مطلب یہ ہے کہ جسے جہاد نصیب ہوجائے اسی کے لیے درجے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد اکثر فرض کفایہ ہوتا ہے،مرقات نے اس سے یہ ہی مسئلہ مستنبط فرمایا۔
|
3852 -[65] وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسَى أَنْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت کے دروازے تلواروں کے سایہ تلے ہیں ۱؎ تو ایک فقیر الحال شخص کھڑا ہوگیا ۲؎ بولا اے ابو موسیٰ کیا تم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا ۳؎ فرمایا ہاں تو وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا ۴؎ پھر بولا میں تم کو سلام (وداعی)کرتا ہوں ۵؎ پھر اپنی تلوار کا غلاف توڑا اسے پھینک دیا ۶؎ پھر اپنی تلوار لے کر دشمن کی طرف چل پڑا اس سے دشمن پر حملہ کیا حتی کہ قتل کیا گیا ۷؎(مسلم) |
۱؎ تلواروں سے مراد جہاد کے ہتھیار ہیں،چونکہ اس زمانہ میں جہاد میں زیادہ استعمال تلواروں کاہوتا تھا اس لیے خصوصیت سے تلواروں کا ہی ذکر فرمایا۔آج کل توپوں،بندوقوں،راکٹوں کا بھی یہ حال ہے کہ ان کے نیچے جنت ہے جبکہ وہ جہاد میں استعمال ہورہے ہوں۔ان تلواروں سے مراد یا تو کفار کی تلواریں ہیں جو وہ غازی مسلمانوں کے مقابل کھینچیں یعنی ان تلواروں سے جنت بہت قریب ہے کہ مسلمان شہید ہوا اور جنت میں پہنچا۔جیسے فرمایا گیا کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے یا مراد خود مجاہدین کی اپنی تلواریں ہیں یعنی جب مجاہدین تلوار سونتے کفار پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو گویا جنت ان تلواروں کے سایہ میں ہوتی ہے اور سایہ میں تو خود مجاہدین ہیں تو وہ اس وقت ہی جنت میں ہیں مگر پہلی توجیہ زیادہ قوی ہے،مرقات نے اس ہی کو ترجیح دی ہے۔
۲؎ اس مقبول بندے کا نام معلوم نہ ہوسکا کوئی غریب شکستہ حال بے پرو جو اس جہاد میں آیا تھا وہ یہ بولا،رضی اللہ عنہ۔
۳؎ یعنی اے صحابی رسول کیا تم نے بلاواسطہ خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا ہے یا کسی ذریعہ سے تم کو یہ فرمان عالی پہنچا ہے اور کیا یہ فرمان یقینی ہے۔
۴؎ جو اس کے ساتھ جہاد میں آئے ہوئے تھے۔
۵؎ اب میں شہید ہونے جارہا ہوں لوٹ کر آنے کا ارادہ نہیں ہے،اب محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کے وصال کا وقت قریب ہے۔شعر
آئی نسیم کوئے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کھنچنے لگا دل سوئےمحمدصلی اللہ علیہ و سلم
۶؎ کیونکہ اب اس غلاف کی ضرورت نہ رہی تلوار بند کرنا نہیں ہے،اب مارنا ہے یہ ہے شوق شہادت،جذبہ جہاد حضرت زرا ابن ازدر رضی اللہ عنہ بغیر زرہ پوستین پہنے جہاد کرتے تھے۔شوق شہادت میں عاشقوں کے حالات بتارہے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع