30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خیال رہے کہ اس میں لوگو ں کی عام حالت مراد ہے کہ اگر عوام عمومًا بدعمل ہوجائیں تو حکام ظالم ہوں گے اگرچہ خاص خاص لوگ صالحین بھی ہوں لہذا اس حدیث کی بنا پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر امام حسین نیک ہوتے تو یزید پلید کیوں مسلط ہوتا،حدیث کی فہم صحیح ضروری ہے۔
|
3718 -[58] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«إِنَّ السُّلْطَانَ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَأْوِي إِلَيْهِ كُلُّ مَظْلُومٍ مِنْ عِبَادِهِ فَإِذَا عَدَلَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَعَلَى الرَّعِيَّةِ الشُّكْرُ وَإِذَا جَارَ كَانَ عَلَيْهِ الْإِصْرُ وعَلى الرّعية الصَّبْر» |
روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بادشاہ زمین میں اﷲ کا سایہ ہے ۱؎ جس کی طرف اﷲ کے بندوں میں سے ہر مظلوم پناہ لیتا ہے تو اگر انصاف کرے تو اس کے لیے ثواب ہے اور رعایا پر شکر واجب ہے ۲؎ اور جب ظلم کرے تو اس پر بوجھ ہےاور رعایا پر صبر واجب ہے۳؎ |
۱؎ سایہ سے مراد رحم وکرم ہے کہ جیسے درخت کے سایہ میں دھوپ سے پناہ لی جاتی ہے ایسے ہی لوگوں کی شر سے سلطان کی پناہ لی جاتی ہے،دنیا میں سلطان پناہ ہے آخرت میں عرش اعظم کا سایہ پناہ ہوگا۔
۲؎ کیونکہ رحم دل منصف حاکم اﷲ تعالٰی کی بڑی نعمت ہے اور ظاہر ہے کہ شکریہ بقدر نعمت چاہیے شکر سے نعمت بڑھتی ہے۔
۳؎ یعنی ظالم سلطان سایہ شیطان ہے مگر یہ ارادہ رحمان ایسے ظالم بادشاہ کی بغاوت کرنے کی بجائے اپنے اعمال کی اصلاح کرو کیونکہ بغاوت سے بڑا فساد ہوتا ہے۔
|
3719 -[59] وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَفْضَلَ عِبَادِ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامٌ عَادِلٌ رَفِيقٌ وَإِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِمامٌ جَائِر خرق» |
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اﷲ کے بندوں میں افضل بندہ اﷲ کے نزدیک درجہ میں قیامت کے دن انصاف والا نرم دل بادشاہ ہے ۱؎ اور قیامت کے دن اﷲ کے نزدیک لوگوں میں بدترین درجہ والا ظالم سخت دل بادشاہ ہے ۲؎ |
۱؎ رقیق یا تو ف سے ہے یا ق سے،رفق کے معنے ہیں نرمی و ہمراہی یعنی اہل قرابت،اجنبی شریف ضعیف سب کے ساتھ رہے یا رقیق القلب ہو دل میں اس کے سختی نہ ہو،ایسے بادشاہ کے زیر سایہ رعایا امان سے رہے گی اور ملک میں امن وامان رہےگی ،اس وجہ سے یہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک بڑے درجہ والا ہوگا۔
۲؎ خرق خ کے فتحہ اور ر کے کسرہ سے صفت مشبہ ہے خرق سے،خرق رفق کا مقابل ہے بمعنی سخت دل ظالم،اسی لیے خرق پھٹنے کو بھی کہتے ہیں،چونکہ سخت دلی کا نتیجہ ظلم ہے اس لیے اسے جور کے ساتھ جمع فرمایا یعنی قوم سے بدترین آدمی ظالم اور سخت دل بادشاہ ہے کہ اس سے اﷲ کے بندوں کو دکھ پہنچتے رہتے ہیں۔
|
3720 -[60] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من نَظَرَ إِلَى أَخِيهِ نَظْرَةً يُخِيفُهُ أَخَافَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَى الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى هَذَا: مُنْقَطع وَرِوَايَته ضَعِيف |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے بھائی کی طرف ۱؎ ڈرانے کے لیے گھورے اسے اﷲ تعالٰی قیامت کے دن ڈرائے گا۲؎ یہ چاروں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں اور یحیی کی حدیث کے متعلق فرمایاکہ یہ منقطع ہے۳؎ اور اس کی روایت ضعیف ہے۴؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع