30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1724 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوًى لَهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَاشِيَةٍ فَقَالَ: (قَدْ قَضَى؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا فَقَالَ: أَلَا تَسْمَعُونَ؟ أَنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ وَإِن الْمَيِّت لعيذب ببكاء أَهله |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضرت سعد ابن عبادہ کچھ بیمار ہوئے ۱؎ تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم عبدالرحمان ابن عوف،سعد ابن ابی وقاص اور ابن مسعود کے ساتھ ان کے پاس تشریف لے گئے جب وہاں پہنچے تو انہیں غشی میں پایا پوچھا کیا وفات ہوگئے۲؎ لوگوں نے کہا نہیں یارسول اﷲ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم روئے جب قوم نے نبی کا رونا دیکھا تو وہ بھی رونے لگےحضور نے فرمایا کیا تم سنتے نہیں کہ اﷲ تعالٰی آنکھ کے آنسوؤں دل کے غم سے عذاب نہیں دیتا اپنی زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ اس سے یہ عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے۳؎ اور میت کو گھر والوں کے رونے پر عذاب ہوتا ہے ۴؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ شاید راوی کو بیماری کا پتہ نہ لگا کہ انہیں کیا بیماری تھی۔خیال رہے کہ حضرت سعد اس بیماری میں فوت نہیں ہوئے بلکہ ۱۵ھ عہد فاروقی میں مقام حوراں علاقہ شام میں وفات پائی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ کو جنات نے قتل کیا۔
۲؎ خیال رہے کہ انبیاء و اولیاء کے حالات مختلف ہوتے ہیں کبھی اپنے سے بھی بے خبر ہوجاتے ہیں۔اسی کو شیخ سعدی فرماتے ہیں۔شعر
بگفت احوال مابرق جہاں است دمے پیدا و دیگر دم نہاں است
گہے برطارم اعلے نشینیم گہے برپشت پائے خود نہ بینیم
حضورصلی اللہ علیہ وسلم سب کی موت کے وقت اور جگہ سے خبردار ہیں کہ بدر میں ایک دن پہلے ہی ہر کافر کے قتل کی جگہ اور وقت بتادیا کہ کل یہاں فلاں مرے گا اور آج یہ فرمارہے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہ کلام عتابانہ تھا لوگ انہیں گھیرے ہوئے تھے،چادر اوڑھائی ہوئی تھی تو فرمایا کہ کیا یہ فوت ہوگئے ہیں جو تم نے چادر اوڑھادی تب تو مطلب بالکل ظاہر ہے۔
۳؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ رونا انکی موت کے خوف سے نہ تھا بلکہ ان کی تکلیف دیکھ کر رحمت کی بنا پر اور یہ کلام حکیمانہ مبلّغانہ تھا کہ کسی کی بیماری یا موت پر بے صبری یا نوحہ نہ کرنا چاہیئے۔مطلب یہ ہے کہ جو مصیبت پر حمد الٰہی کرتاہے اﷲ اس پر رحم کرتا ہے اور جو بکواس بکتا ہے وہ سزا پاتا ہے۔
۴؎ اس کی پوری شرح آگے آئے گی۔یہاں اتنا سمجھ لو کہ میت سے مراد وہ ہے جس کی جان نکل رہی ہو اور عذاب سے مراد تکلیف ہے یعنی اگر جان نکلتے وقت رونے والوں کا شور مچ جائے تو اس شور سے مرنے والے کو تکلیف ہوتی ہے،بلکہ بیمار کے پاس بھی شور نہ کرناچاہیئے کہ اس سے بیمارکو ایذا پہنچتی ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کسی کا گناہ میت پر کیوں پڑتاہے۔
|
1725 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ وہ ہم میں سے نہیں جو منہ پیٹے،گریبان پھاڑے اور جہالت کی باتیں بکے ۱؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ یعنی میت وغیرہ پر منہ پیٹنے،کپڑے پھاڑنے،رب تعالٰی کی شکایت،بے صبری کی بکواس کرنے والا ہماری جماعت یا ہمارے طریقے والوں سے نہیں ہے یہ کام حرام ہے،ان کا کرنے والا سخت مجرم ہے۔اس سے روافض عبرت پکڑیں جن کے ہاں سینہ کوبی کرنا اور حرام مرثیے پڑھنا عبادت ہے۔اس حدیث کی تائید قرآن کریم فرمارہا ہے:"وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصٰبَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ"۔اسی لیئےشہدائے کربلا،اہلِ بیت اطہار نے تا زیست یہ حرکتیں نہ کیں۔
|
1726 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أبي بردة قَالَ: أُغمي على أبي مُوسَى فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمِي؟ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَصَلَقَ وَخَرَقَ» . وَلَفظه لمسلم |
روایت ہے حضرت ابوبردہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ بے ہوش ہوئے تو ان کی بیوی ام عبداﷲ پر چیخ کر روتی آئیں ۲؎ پھر انہیں آرام ہوا تو فرمایا کیا تم جانتی نہیں آپ انہیں حدیث سنایا کرتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس سے بیزار ہوں جو سر منڈائے،چیخیں مارے،کپڑے پھاڑے۳؎ (مسلم،بخاری)لفظ مسلم کے ہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع