30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گیا اور بہت مالدار ہوگیا ۔
دنیا کی محبت میں بہت بڑا مالدارہوجانا یہ بھی اس بزرگ کی بددعا سے ہوا ، مالدار ہونا کوئی سعادت نہیں جو آپ سمجھتے ہیں کہ اس کو تو بڑا نوازا ہے بڑی دولت ہے در اصل آفت ہے ، اللہ میرے بچوں کو بھی مالدار نہ بنائے یعنی ایسا مالدار نہ بنائے کہ غفلت ہو۔ کہ وہ دولت جو دین سے غافل کردے بری ہے جو دولت دین سے غافل نہ کرے وہ بری نہیں۔ سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بھی مالدار تھے۔ ([1]) ان کی دولت کیا کہنے ، حضرت عبدالرحمن بن عوف صحابہ کرام میں سب سے بڑے مالدار تھے۔ ([2]) مگران حضرات کی دولت یقیناً حلال کی تھی ، یہ افرادقطعی جنتی ہیں مگرہم لوگوں کا جو حال ہے کہ دولت آتی ہے تو جو نخرا چڑھتا ہے آپ سب سمجھتے ہیں۔ عبدُ اللہ کہتے ہیں کہ واقعی میرے کانوں تک دنیا آگئی۔ محاورہ ہے یعنی میں دنیا کے دھندوں میں ڈوب گیا ، شیخ عبدالقادرجیلانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے حق میں بھی یہ دعا قبول ہوئی۔ بشارت قبول ہوئی اور وہ وقت آیا کہ وہ برسرمنبر جلوہ فرما ہو کر یہ اعلان کیا کہ '' تمام اولیاء کی گردنیں میرے قدموں تلے ہیں''اور روئے زمین کے اولیاء کرام نے گردنیں جھکا دیں۔ ([3])
جو ولی قبل تھے ، بعد ہوئے یا ہوں گے سب ادب رکھتے ہیں دل میں میرے آقا تیرا
سرِ بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا اولیاء ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا
دیکھا آپ نے غوث اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کیسے باادب تھے کہ نیت یہی کی کہ میں صرف زیارت کروں گاان کا کوئی امتحان نہیں لوں گا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ، اللہ پاک ہم سب کو بے ادبیوں سے بچائے ۔ حدیث قدسی موجود ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے کہ جو میرے ولی سے دشمنی کرتا ہے میں اس کے لیے اعلان جنگ کرتا ہوں ۔ ([4]) جو ولی کا دشمن ہوتا ہے گستاخ ہوتا ہے ، ا گر اس نے توبہ نہیں کی تواس کا ایمان بہت ہی خطرے میں ہے ، ہم اللہ سے رحمت کی بھیک مانگتے رہتے ہیں۔ دل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع