30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے ناراض ہو جائے (۴)…جس کی غیبت کی گئی ہے اس کے متعلق بدگمانی نہ کرے کیونکہ جو ا س کے بارے میں بتایا گیا اس کا ثبوت نہیں کہ اس نے ایسا ہی کیا اور (۵)…جو کچھ اسے بتایا گیا اس کی ٹوہ اور تلاش میں نہ پڑے یہاں تک کہ خود ہی ثابت ہو جائے۔ کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا (پ۲۶، الحجرات:۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان:بہت گمانوں سے بچوبے شک کوئی گمان گناہ ہوجاتاہے اور عیب نہ ڈھونڈھو۔
(۶)…جس بات سے چغل خور کو منع کر رہا ہے وہ بات اپنے لئے پسند نہ کرے یعنی اس کی چغلی آگے بیان نہ کرے کہ وہ یہ کہنے لگے کہ’’فلاں نے مجھے یہ بات بتائی۔‘‘ کیونکہ اس طرح یہ بھی چغل خور، غیبت کرنے والا اور جس چیز سے منع کر رہا تھا خود اس کا کرنے والا بن جائے گا۔
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے کسی کے بارے میں کوئی منفی (NEGATIVE)بات کی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے چغلی کھانے والے سے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم چاہتے ہو توہم تمہارے معاملے تحقیق کریں ! اگر تم جھوٹے نکلے تو اس آیت ِ مبارکہ کے مصداق قرار پاؤ گے: ’’ اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا(پ۲۶، الحجرات:۶) ترجمہ کنزالایمان:اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو۔‘‘ اور اگر تم سچے ہوئے تو یہ آیت ِمقدسہ تم پر صادق آئے گی :’’مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۱﴾ (پ۲۹،القلم:۱۱)ترجمہ کنزالایمان: بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا۔‘‘ اور اگر تم چاہو تو ہم تمہیں معاف کر دیں۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’یاامیرالمؤمنین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن! معاف کر دیجئے! آئندہ کبھی ایسا(یعنی غیبت اور چغل خوری)نہیں کروں گا۔‘‘ (۱)
خلیفہ سلیمان بن عبد الملک(متوفی۹۹ھ) نے حضرت سیِّدُنا امام زُہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی(متوفی۱۲۴ھ) کی موجودگی میں اس شخص پر اظہارِ ناراضی کیا جس کی اس سے چغلی کھائی گئی تھی تو اس شخص نے اس بات کا انکار کر دیا۔ خلیفہ نے کہا: ’’جس نے مجھے بتایا ہے، وہ سچا آدمی ہے۔‘‘ تو حضرت سیِّدُنا امام زہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی(متوفی۱۲۴ھ) نے ارشاد فرمایا : ’’چغل خور کبھی سچا نہیں ہو سکتا۔‘‘ تو سلیمان بن عبد الملک نے کہا: ’’ آپ نے سچ کہا، اے شخص! سلامتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء علوم الدین،کتاب آفات اللسان،بیان حد النمیمۃومایجب فی ردہا،ج۳،ص۱۹۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع