30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ: ازقادری گنج ضلع بیر بھوم ملك بنگال مرسلہ سید ظہور الحسن صاحب قادری رزاقی مرشدی کرنالی ۲۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
پیر مرشد کے مزار کا طواف کرنا، اورمزار کی چوکھٹ کو بوسہ دینا اورآنکھوں سے لگا نااور مزار سے اُلٹے پاؤں پیچھے ہٹ کے،ہاتھ باندھے ہوئے واپس آنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص بخانہ کعبہ ہے۔ مزار کوبوسہ دینا نہ چاہئے ، علماء اس میں مختلف ہیں۔ اور بہتر بچنا ، او ر اسی میں ادب زیادہ ہے آستانہ بوسی میں حرج نہیں، اور آنکھوں سے لگانا بھی جائز کہ اس سے شرع میں ممانعت نہ آئی۔ اور جس چیز کو شرع نے منع نہ فرمایا منع نہیں ہوسکتی قال اﷲ تعالٰی اِنِ الْحُکْمُ اِلَّالِلہِ ؕ[1](اﷲ کا ارشاد ہے : حکم نہیں مگر اﷲ کا ۔ ت)ہاتھ باندھے الٹے پاؤں واپس آنا ایك طرز ادب ہے۔، اور جس ادب سے شرع نے منع نہ فرمایا اس میں حرج نہیں، ہاں اگر اس میں اپنی یا دوسرے کی ایذاء کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز کیا جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۳: مزارات اولیائے کرام علیہم رحمۃ المنعام کے چومنے کو کفر یا شرك کہنا کیسا ہے؟
الجواب:
فی الواقع بوسہ قبر میں علماء مختلف ہیں ، اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایك امر ہے کہ دو چیزوں داعی ومانع کے درمیان دائر، داعی محبت ہے او رمانع ادب ، تو جسے غلبہ محبت ہو اس پر مواخذہ نہیں کہ اکابر صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ثابت ہے۔ اور عوام کے لیے منع ہی احوط ہے، ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مزارِ اکابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو، پھر تقبیل کی کیا سبیل! عالمِ مدینہ علامہ سید نورالدین سمہودی قدس سرہ خلاصۃ الوفاء شریف میں جدارِ مزار انور کے لمس وتقبیل وطواف سے ممانعت کے اقوال نقل کرکے فرماتے ہیں:
|
فی کتاب العلل والمسؤلات لعبد اﷲ بن احمد بن حنبل سألت ابی عن الرجل یمس منبر النبی صلی اﷲ تعالٰی |
یعنی امام احمد بن حنبل کے صاحبزادہ امام عبداﷲ فرماتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے پوچھا کوئی شخص نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے منبر کوچھوئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع