دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

یعنی جب پہچل موقوف ہوئی اور لوگ سورہے ان کی والدہ اُم الخیر اور حضرت فاروق اعظم کی بہن ام جمیل   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   انھیں لے کر چلیں ، بوجہ ضعف دونوں پر تکیہ لگائے تھے ، یہاں تك کہ خدمت اقدس میں حاضر کیا ، دیکھتے ہی “ پروانہ وارشمع رسالت پر گر پڑے “ ( پھر حضور کو بوسہ دیا) اور صحابہ غایت محبت سے ان پر گرے۔ حضور اقدس   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ان کے لئے نہایت رقت فرمائی۔

حدیث سیز دہم۱۳ : حافظ ابو سعید شرف المصطفی   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  میں انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے راوی :

قال صعد رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم المنبر ثم قال این عثمان بن عفان؟ فوَثَبَ وقال انا

حضور سرور عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  منبر پر تشریف فرما ہوئے پھر فرمایا : عثمان کہاں ہیں ؟ عثمان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  بے تابانہ اُٹھے اور عرض کی : حضور ! میں یہ

ذایارسولَ اﷲ فقال اُدْنُ مِنِّیْ فَدَنَا مِنْہُ فَضَمَّہ اَلٰی صَدْرَہٖ وقَبَّلَ بَیْنَ عَیْنَیْہِ [1] الخ    حاضر ہوں ۔ رسول اﷲ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : میرے پاس آؤ۔ پاس حاضر ہوئے۔ حضور اقدس   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے “ سینہ سے لگایا “ اور آنکھوں کے بیچ میں بوسہ دیا۔

حدیث چہاردہم۱۴ : حاکم صحیح مستدرك میں بافادہ تصحیح اور ابویعلٰی اپنی مسند اور ابو نعیم فضائل صحابہ میں اور برہان خجندی کتاب اربعین مسمّی بالماء المَعِین اور عمر بن محمد ملاّ سیرت میں جابر بن عبداﷲ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روای :

قال بینا نحن مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی نفر من المھاجرین منھم ابوبکروعمر و عثمان وعلی و طلحۃ والزبیر و عبدالرحمٰن بن عوف وسعدبن ابی وقاص فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لِیَنْھَضْ کُلُّ رَجُلٍ الی کفوہ ونَھَضَ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی عثمان فاعتنقہ ، وقال اَنْتَ وَلِیّی فِی الدُنْیاَ والْاٰخِرَۃ  [2]۔                                            

ہم چند مہاجرین کے ساتھ خدمتِ اقدس حضور سید المرسلین   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  میں حاضر تھے حاضرین میں خلفائے اربعہ و طلحہ و زبیر و عبدالرحمن بن عوف وسعد بن ابی وقاص   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  تھے ، حضور اقدس   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا : تم میں ہر شخص اپنے جوڑ کی طرف اٹھ کر جائے اور خود حضور والا   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  عثمانِ غنی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی طرف اُٹھ کر تشریف لائے ان سے “ معانقہ “ کیا اور فرمایا : تو میرا دوست ہے دُنیا و آخرت میں ۔

حدیث پانزدہم ۱۵ : ابن عساکر تاریخ میں حضرت امام حسن مجتبٰی وُہ اپنے والد ماجد مولٰی علی مرتضی کرم اﷲ تعالٰی وجوہما سے راوی :

ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عَانَقَ عثمان بن عفان وقال قد عَانَقْتُ اَخِیْ عثمان فَمَنْ کانَ لَہ اَخ فَلْیُعَانَقْہُ۔  [3]

حضور سید عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے عثمان غنی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے معانقہ کیا اور فرمایا : میں نے اپنے بھائی عثمان سے معانقہ کیا جس کے کوئی بھائی ہو اسے چاہئے اپنے بھائی سے “ معانقہ کرے “

اس حدیث میں علاوہ فعل کے مطلقًا حکم بھی ارشادہوا کہ ہر شخص کو اپنے بھائیوں سے معانقہ کرنا چاہئے۔

حدیث شانزدہم ۱۶ : کہ حضور اقدس   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حضرت بتول زہرا سے فرمایا کہ عورت کے حق میں سب سے بہتر کیا ہے؟ عرض کی کہ نامحرم شخص اُسے نہ دیکھے۔ حضور نے “ گلے لگالیا اور فرمایا : ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍؕ- [4] ( یہ ایك نسل ہے ایك دوسرے سے ۔ ت)اوکما ورد عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہ وبارك وسلم ( یا جیسا کہ نبی کریم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے وارد ہے۔ ت)بالجملہ احادیث اس بارے میں بکثرت وارداور تخصیص سفر محض بے اصل وفاسد۔ بلکہ سفر وبے سفر ہر صورت میں معانقہ سنت ، او رسنت جب ادا کی جائے گی سنت ہی ہوگی تاوقتیکہ خاص کسی خصوصیت پر شرع سے تصریحًا نہی ثابت نہ ہو ، یہاں تك کہ خود امام الطائفہ مانعین اسمٰعیل دہلوی رسالہ نذور میں کہ مجموعہ زبدۃ النصائح میں مطبوع ہوا صاف مُقِر کہ معانقہ روز عید گو بدعت ہو بدعت حسنہ ہے۔ حیث قال ( یوں کہا ۔ ت) ف١ :

ہمہ وقت از قرآن خوانی فاتحہ خوانی وخورانیدن طعام سوائے کندن چاہ وامثال دعاواستغفار واُضحیہ بدعت ست

کُنواں کھود نے ۔ اور اسی طرح حدیث میں سے ثابت دوسری چیزوں ، اور دعا استغفار ، قربانی کے سوا تمام طریقے ، قرآن خوانی ، فاتحہ خوانی ، کھانا کھلانا

 

ف۱ : مولوی اسمٰعیل دہلوی پیشو یان علماء دیوبندی کی اس عبارت میں چند باتیں قابل غور ہیں :

(۱) ایصال ثواب کے لئے کنواں کھدوانا ، دعا ، استغفار ، قربانی اور اسی طرح کی دوسری چیزیں بدعت نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہیں ۔

(٢) قرآن خوانی ، فاتحہ خوانی ، کھانا کھلانا اوراس طرح کے دوسرے طریقے بدعت ہیں مگر بدعت حسنہ ہیں ۔

(۳) اس سے بدعت کی دو قسمیں معلوم ہوئیں : ۱ بدعتِ حسنہ۔ ۲ بدعتِ سیئہ۔ لہذا ہر بدعت بُری نہیں ۔ او رہر نیا کام صرف بدعت ہونے کے باعث ناجائز و حرام نہیں ہوسکتا بلکہ بعض کام بدعت ہوتے ہوئے بھی حسن اور اچھے ہوتے ہیں

(۴) روزِ عید کا معانقہ ، اور ہر روز فجر وعصر کے بعد مصافحہ بدعت حسنہ جائز اور اچھا ہے ع

 



[1]    شرح المصطفی ( شرف النبی) باب بیست ونہم میدان انقلاب تہران ص ٢٩۰

[2]    المستدرك باب فضائل عثمان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  مطبوعہ بیروت ٣ /  ۹۷

[3]    کنز العمال بحوالہ ابن عساکر حدیث ۳۶۲۴۰ مطبوعہ دارالکتب الاسلامی حلب ۱۳ /  ۵۷

[4]    القرآن ۳ /  ۳۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن