دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

قال :  جاء جبریل الی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، فقال :  قم ، فصل! وذلك لدلوك الشمس حین مالت ، فقام رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فصلی الظھر اربعا ، ثم اتاہ حین کان ظلہ مثلہ ،  فقال :  قم ، فصل! فقام فصلی العصر اربعا ،  ثم اتاہ من الغد حین کان ظلہ مثلہ ، فقال ببلہ :  قم فصل! فقام فصلی الظھر اربعا [1]۔                                                                                                                                                                                                                                                                                

کہا : جبریل نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے پاس آئے اور کہا کہ اُٹھئے اور نماز پڑھئے! اور یہ سُورج ڈھلنے کا وقت تھا ، جب وہ ایك طرف جھُك گیا تھا تو رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اٹھ کر ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں ۔ پھر دوبارہ آئے جب اُن کا سایہ ان کے برابر تھا اور کہا کہ اُٹھئے اور نماز پڑھئے! تو آپ نے اٹھ کر عصر کی چار رکعتیں پڑھیں ۔ پھر دوسرے دن آئے ، جب ان کا سایہ ان کے برابر تھا اور کہا کہ اُٹھئے اور نماز پڑھئے ، تو آپ نے اُٹھ کر ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں ۔ (ت)

حدیث ۵ : ابن راہویہ مسند میں عبدالرزاق سے اور عبدالرزاق مصنف میں بطریق اخبرنا معمر عن عبدالله بن ابی بکر بن محمد بن عمروبن حزم عن ابیہ عن جدّہ [2]  عمروبن حزم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :

قال :  جاء جبریل ، فصلی بالنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، وصلی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بالناس ، حین زالت الشمس ،  الظھر ، ثم صلی العصر حین کان ظلہ مثلہ ، قال :  ثم جاء جبریل من الغد ، فصلی الظھر بالنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، وصلی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بالناس ، الظھر ، حین کان ظلہ مثلہ [3]۔

کہا : جبریل آئے اور نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ظہر کی نماز پڑھائی اور نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کو نماز پڑھائی جب سورج کا زوال ہوگیا تھا ، پھر عصر پڑھی جب ان کا سایہ ان کے برابر تھا۔ راوی نے کہا : پھر دوسرے دن جبریل آئے اور انہوں نے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ، اور نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی جب ان کا سایہ ان کے برابر ہوگیا تھا۔ (ت)

حدیث ۶ : دارقطنی سنن اور طبرانی معجم کبیر اور ابن عبدالبر تمہید میں بطریق ایوب بن عتبۃ عن ابی بکر بن حزن عن عروۃ بن الزبیر حضرت ابو مسعود انصاری وبشیر بن ابی مسعود دونوں صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی :

ان جبریل جاء الی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حین دلکت الشمس ، فقال :  یامحمد! صل الظھر ، فصلی؛ ثم جاء حین کان ظل کل شیئ مثلہ ، فقال :  یامحمد! صل العصر ، فصلی ، ثم جاء ہ الغد حین کان ظل کل شیئ مثلہ ، فقال :  صلی الظھر۔ الحدیث[4]۔                    

جبریل ، نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے پاس آئے جب سورج ڈھل چکا تھا اور کہا : یامحمد! ظہر کی نماز پڑھئے! تو آپ نے ظہر پڑھی۔ پھر دوبارہ آئے جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا اور کہا : یا محمد! عصر کی نماز پڑھئے! تو آپ نے عصر پڑھی۔ پھر دوسرے دن آئے جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر تھا اور کہا : ظہر پڑھئے! الحدیث۔ (ت)

والکل مختصر ان سب حدیثوں میں کل کی عصر کی نسبت یہ ہے کہ جب سایہ ایك مثل ہوا نماز پڑھائی اور بعینہٖ یہی لفظ آج کی ظہر میں ہیں کہ جب سایہ ایك مثل ہُوا پڑھائی اور روایت ترمذی تو صاف صاف ہے کہ آج کی ظہر اُس وقت پڑھی جس وقت کل عصر پڑھی تھی حالانکہ مقصود اوقات کی تمیز اور ہر نماز کا اول وآخر وقت میں جداجدا بنانا ہے لاجرم امام ابوجعفر وغیرہ نے ظہر امروزہ میں ان لفظوں کے یہی معنی لیے کہ جب سایہ ایك مثل کے قریب آیا پڑھائی ، معانی الآثار میں فرمایا :

احتمل ان یکون ذلك علی قرب ان یصیر ظل کل شیئ مثلہ ، وھذا جائز فی اللغۃ ، قال عزوجل ،  فذکر الایۃ ، وشرح المراد ، وافاد واجاد [5]۔

احتمال ہے کہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھی ہو جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہونے کے قریب ہو۔ اور یہ لغت کے اعتبار سے جائز ہے۔ الله  تعالٰی فرماتا ہے۔ یہاں طحاوی نے آیت ذکر کی (یعنی فاذا بلغن اجلھن) اور مراد کی تشریح کی اور مفید وعمدہ گفتگو کی۔ (ت)

حدیث ۷ : سائل نے جو خدمت اقدس حضور سیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممیں حاضر ہوکر اوقاتِ نماز پُوچھے اور حضورِ والا نے ارشاد فرمایا ہے کہ دو۲ دن حاضر رہ کر ہمارے پیچھے نماز پڑھ۔ پہلے دن ہر نماز اپنے اول وقت میں اور دوسرے دن ہر نماز آخر وقت پڑھا کر ارشاد ہوا ہے : الوقت بین ھذین (وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے)اس حدیث میں نسائی وطحاوی نے جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی :

سأل رجل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عن مواقیت الصلاۃ ، فقال :  صل معی ، فصلی الظھر حین زاغت الشمس ، والعصر حین کان فی کل شیئ مثلہ ، قال :  ثم صلی الظھر حین کان فیئ الانسان مثلہ [6]۔

ایك آدمی نے رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے نماز کے اوقات کے بارے میں پُوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ نماز پڑھ! تو آپ نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب سُورج ڈھل گیا اور عصر کی اس وقت جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا۔ راوی نے کہا کہ پھر (اگلے دن) ظہر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا۔ (ت)

اس حدیث میں بھی عصر دیروز وظہر امروز کا وہی حال اور علماء کے وہی مقال۔

حدیث ۸ : سُنن ابی داؤد میں بسند صحیح عــہ ابوموسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے حدیث سائل

عـــہ حیث قال$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن