30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳۲)تفسیر کبیر میں ہے:
|
قولہ ولا اعلم الغیب یدل علی اعترافہ بانہ غیر عالم بکل المعلومات [1]۔ |
یعنی آیت میں جو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ کو ارشاد ہوا تم فرمادو میں غیب نہیں جانتا،اس کے یہ معنی ہیں کہ میرا علم جمیع معلومات الہیہ کو حاوی نہیں۔ |
(۳۳ و۳۴)امام قاضی عیاض شفا شریف اور علامہ شہاب الدین خفا جی اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں۔
|
(ھذہ المعجزۃ)فی اطلاعہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی الغیب(المعلومۃ علی القطع)بحیث لایمکن انکارھا اوالتردد فیہا لا حدٍ من العقلاء(لکثرۃ رواتھا واتفاق معانیھا علی الاطلاع علی الغیب) و ھذا لاینافی الاٰیات الدالۃ علی انہ لایعلم الغیب الا اﷲ و قولہ ولوکنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر فان المنفی علمہ من غیرواسطۃ وامّا اطلاعہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علیہ با علام اﷲ تعالٰی لہ فامر متحقق بقولہ تعالٰی فلایظھر علٰی غیبہ احدًا الّا من ارتضٰی من رسول [2]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا معجزہ علم غیب یقینًا ثابت ہے جس میں کسی عاقل کو انکار یا تردّد کی گنجائش نہیں کہ اس میں احادیث بکثرت آئیں اور ان سب سے بالاتفاق حضور کا علم غیب ثابت ہے اور یہ ان آیتوں کے کچھ منافی نہیں جو بتاتی ہیں کہ اﷲ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا اور یہ کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اس کہنے کا حکم ہوا کہ میں غیب جانتا تو اپنے لیے بہت خیر جمع کرلیتا،اس لیے کہ آیتوں میں نفی اس علم کی ہے جو بغیر خدا کے بتائے ہو اور اﷲ تعالٰی کے بتائے سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو علم غیب ملنا تو قرآن عظیم سے ثابت ہے،کہ اﷲ اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوا اپنے پسندیدہ رسول کے۔ |
(۳۵)تفسیر نیشا پوری میں ہے:
|
لا اعلم الغیب فیہ دلالۃ علی ان الغیب بالاستقلال لا یعلمہ الّا اﷲ[3]۔ |
آیت کے یہ معنی ہیں کہ علم غیب جو بذاتِ خود ہو وہ خدا کے ساتھ خاص ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع