30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تفریعات
(۸)فتوی ۵ کاقول مدعیہ وارث شرعی ہے اس کے حق میں وصیت نہ سمجھی جائے اس لئے کہ وارث کے واسطے وصیت جائزہے۔ مسئلہ وارث واحدکے حکم سے غفلت ہے۔
(۹)طرفہ یہ کہ خود فتوی۵ نے سند میں عبارت درمختار لالوارثہ الخ(وارث کے لئے جائزنہیں۔ت)نقل کی جس کے آخرمیں موجود یعنی عندوجودوارث اٰخر[1] (دوسرے وارث کی موجودگی میں۔ت)
(۱۰)زیوربعد موت عوض مہر میں دئیے جانے کولکھنابھی وصیت ہوا لکونہ ایجابا بعد الموت(موت کے بعد ایجاب ہونے کی بناپر)توفتوی۵ کاکہناکہ بلکہ یہ زیورات حق مہرکے عوض سمجھے جائیں اوراسے منافی وصیت جانناعجیب ہے۔
(۱۱)استفتاء مرتبہ ڈسٹرکٹ ججی خانپور کے سوال میں آتاہے کہ جوزیورات مدعیہ کوملے ہیں ان کی نسبت وہ کہتی ہے کہ مجھ کو حق مہر میں شوہردے گیاان سے بھی ہرگز مفہوم نہ ہواکہ یہ دیاجاناصحت میں تملیك فی الحال تھا جب وہ لکھ گیاکہ میرے بعد یہ زیور میری زوجہ کے ہیں تو ضرور وصیت ہی ہوئی اگرچہ بعوض مہردینامرادہو اوراس صورت میں عورت کاکہناکہ مجھ کوحق مہر میں شوہردے گیا بلاشبہہ صادق ہے توفتوی۵ کاقول کہ بلکہ زیورات مہرکے عوض سمجھے جائیں جیساکہ خودمدعیہ کاقول ہے محض نامفید مقصودہے۔
(۱۲)ہم واضح کرچکے ہیں کہ وصیت نامہ کاصریح مفاد تملیك بعدالموت ہے وہ نص کرچکاکہ جب تك میں حیات ہوں کسی کا تعلق نہیں بعد میں تقسیم ہوں گے توفتوی۵ کاقول کہ خودعبارت وصیت نامہ کامحمل قوی یہ ہے،عجیب ہے۔
افادہ رابعہ
وصیت جس طرح رقبہ شیئ کی صحیح ہے یوں ہی تنہامنفعت کی،یونہی یہ بھی کہ ایك کے لئے رقبہ کی وصیت کرے دوسرے کے لئے منفعت کی پہلی صورت میں متروکہ ملك وارثہ ہوگا اوراس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع