30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث لاعدوی واقامتہ علی روایۃ لایوردن ان ذٰلك کان ظنہ التضاد بینھما، اقول: لیس لمثلی الکلام مع مثل الامام رحمہ اﷲ لکن الذی یعرفہ قاصر مثلی ان انکار الروایۃ لاینحصر فی ظن التضاد بل نسی عنہ سمعہ من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فما وسعہ الا انکارہ حتی لوفرض مودی الحدیثین واحدا من کل جھۃ وانما الالفاظ غیر الالفاظ ونسی سماع احدھما وقیل لہ رویت ھذا الحدیث ھٰکذا لم یسعہ الا الاباء،نعم ھو مذھب الامام المطلبی محمد بن ادریس الشافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال المناوی فی فیض القدیر(اتقوا المجذوم)ای اجتنبوا مخالطتہ فانہ یعدی المعاشر کما جزم بہ الشافعی فی موضع وحکاہ عن الاطباء
|
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس حدیث لاعدوی کا انکارکیاتھا اور لایوردن والی حدیث کو اس کے مقابل پیش کیاتھا درحقیقت وہ اپنے گمان کے مطابق ان دونوں کے درمیان تضاد سمجھتے تھے،اقول:(میں کہتاہوں کہ)مجھ جیسے ناقص شخص کے لئے امام رحمہ اﷲ تعالٰی جیسی بلند پایہ شخصیت کے ساتھ ہمکلام ہونازیب نہیں دیتا سوائے اس کے جو اسے پہچانتاہے،مجھ جیسے تو اس کی معرفت سے قاصر ہیں البتہ کسی روایت سے انکار کرناتضاد کے گمان پرمنحصر نہیں بلکہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اس حدیث کا سماع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بھول گئے،اس لئے ان کے لئے سوائے انکار کے کوئی گنجائش نہ رہی لیکن اگر یہ فرض کرلیا جاتا کہ ہرجہت سے دونوں کامفہوم(مودّی)ایك ہے البتہ دونوں کے الفاظ مغایر اور الگ الگ ہیں اور جبکہ وہ ایك کا سماع بھول گئے،چنانچہ ان سے کہاگیا آپ نے اس حدیث کو اس طرح روایت کیاہے تو انہیں سوائے انکار کے کوئی اور گنجائش نہ رہی۔ہاں وہ امام مطلبی محمد بن ادریس شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کا مذہب ہے،چنانچہ علامہ مناوی نے فیض القدیر(شرح جامع صغیر)میں فرمایا حدیث"جذامی سے بچو اور پرہیزکرو"یعنی اس کے میل جول اور اختلاط سے اجتناب کرو،اس لئے میل ملاپ کرنے والے میں مرض سرایت کرتاہے،جیسا کہ امام شافعی نے ایك جگہ اس پر اظہار یقین کیا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع