30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یعنی دہ درہم جانب زیادت ہیچ تحدید نیست ہرچہ کہ بستہ شود ہماں قدر بحکم شرع محمد لازم آید صلی اﷲتعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہٖ واصحابہ بارك وسلم،قال اﷲ تعالٰی وَّاٰتَیۡتُمْ اِحْدٰىہُنَّ قِنۡطَارًا [1]، پس تعیین نتواں کدکہ ہمیں قدر مقدار مہر شرعی است نہ غیر او آرے ایں لفظ دربسیارے از عوام اہلِ حرفہ ایں بلاد شائع وذائع است مان کہ او را مقابل رسم شرفأومتمولانِ ہند نہادہ باشند آناں درمہور مغالات وافراط را از حد گزرا نیدہ برگردن کم مایہ پنجہ پنجاہ ہزار وصد ہزار وازاں ہم فزوں تر بارمی نہادند ایناں بتقلیل گرائیدہ مہر کمی سہل الحصول می بستند وایں را بمقاصد شرع مطہر نزدیك تردانستہ مہر شرع محمدی می گفتند تار فتہ رفتہ تسمیہ وتعیین از میان برخاست و در بسیارے از عقود ایشاں ہمیں لفظ بر ز با نہا مانداگر پسی چہ قدر مہر بستہ شد گویند شرع محمدی وگر ہیچ وچوں ایں لفظ اصطلاح خاص ایشاں ست واجب ست در فہم مرادش رجوع ہم ایشاں کردن فانہ یجب ان یحمل کلام کل عاقد وحالف وموص و واقف علی عرفہ [2] کما فی رد المحتار وغیرہ |
لیکن زیادہ سے زیادہ مقدار نہیں بلکہ جتنا بھی مقرر کردیا جائے وُہ شریعت محمدی میں لازم ہوگا صلی اﷲتعالٰی علیہ وعلی آلہٖ واصحابہ وبارك وسلّم۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے: اور تم ان عورتوں میں سے بعض کو بہت زیادہ مال دیتے ہو، اس لئے کوئی تعیین نہیں کی جاسکتی کہ یہ مقدارِ شرعیہ اوریہ نہیں ہے ہاں شرعی مہر کا لفظ اس علاقے کے اہل ہُنر لوگون میں مشہور ہے تاکہ اس کو بڑے مالدار لوگوں اور معزز خاندانوں کی رسم کے برابر رکھا جائے جو اپنے ہاں بہت بھاری مہر مقرر کرتے تھے وُہ اس حد تك بڑھ گئے کہ ولی اپنے سے کم مایہ لوگوں کی گردن پر بھی پچاس ہزار پچپن ہزار اور لاکھ اور اس سے بھی زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں، تو اہلِ ہنرنے مہر کا بوجھ کم کرنےکے لئے اور سہل اور معتدل کام کو شریعت کے قریب تر خیال کرکے اس کو شرعی مہر کہنا شروع کردیا اور آہستہ آہستہ یہ نام مشہور ہوگیا اور اکثر طور پر نکاح میں جب پوچھا جائے کہ کتنا مہر ہے تو جواب میں شرعی کہہ دیتے ہیں جب یہ لفظ خاص لوگوں کی اصطلاح بن گیا تو اب لازمًا اس کی مراد یا مقدار کا تعیّن معلوم کرنے کیلئے ان کی طرف رجوع کرنا ضروری ہواکیونکہ عقد، قسم، وصیّت اور وقف کرنے والے لوگوں کے کلام کوان کے عرف پر محمول کرنا ہوتا ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع