30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جیسے نماز کے لیے وضو، نیت، استقبال، تکبیر اور کسی عمل کے فرائض وہ ہیں جن کے ترك عــــہ۱ سے عمل باطل ہوجائے اور واجبات کے ترك سے باطل نہیں ہوتا، اس میں خلل آتا ا ور ناقص ہوجاتا ہے جیسے نماز میں الحمد، سورت، التحیّات وغیرہا۔
م: للحج ارکان تعد ستۃ لابد ان تحفظھن البتۃ
ت: حج عــــہ۲ کے چھ رکن ہیں ضرور ہے کہ تو انھیں یاد کرے جزمًا
|
عــــہ: یہ تعریف رکن وشرط دونوں کو شامل ، تو فرض ان سے عام ہے،وفی المسلك المتقسط الفرائض اعم من الارکان والشرائط وغیرھما کا لاخلاص فی العبادۃ [1] اقول یظھر لی ان ھذا فی الفرض فی نفسہ ومنہ الاخلاص فانہ فرض بحیالہ ولیس من فرائض الصلوۃ مثلا والا لبطلت بالریاء اما الفرض فی غیرہ فلا بدان یتوقف وجودہ علیہ بمعنی انہ لایصح الا بہ فان دخل فرکن وان کان خارجا موقوفا علیہ و ھذا ھو معنی الشرط نعم قدیوخذ فی الشرط تقدمہ وجودًا والمعیۃ بقاء کشروط الصلٰوۃ [2] واسطۃ کترتیب مالا یتکرر فی رکعۃ فافھم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م) |
مسلك متقسط میں ہے کہ فرائض،ارکان وشرائط وغیرہ سے عام ہیں جیسا کہ عبادت میں اخلاص اقول میرے ہاں ظاہر یہ ہے کہ یہ معاملہ نفس فرض کا ہے جس میں سے اخلاص بھی ہے کہ یہ مکمل فرض ہے حالانکہ یہ نماز کے فرائض میں سے نہیں ہے ورنہ نماز ریاکاری سے فاسد ہوجائے، لیکن غیر میں کوئی فرض ہو تو اس کے لیے ضرور ی ہے کہ اس فرض پر اس غیر کا وجود موقوف ہو یعنی اس کے بغیر اس غیر کی صحت نہ ہوسکے، تو اب یہ فرض اس غیر میں داخل ہو تو رکن کہلائے گا اور اگر خارج ہو کر موقوف علیہ بنے تو شرط ہوگا، ہاں شرط میں کبھی وجود کے اعتبار سے مقدم ہونا اور بقاء کے اعتبار سے موقوف کے ساتھ رہنا بھی ملحوظ ہوتا ہے جیسا کہ نماز کی ان شرائط کی ترتیب جو ایك رکعت میں مکرر نہیں آتیں۔ |
عــــہ۲: یہ چھ کہ مصنف نے ذکر فرمائے ان میں ہمارے نزدیك تو اکثر رکن نہیں اور بعض بطور شافعیہ بھی محلِ کلام، فقیر نے ایضاح امام نووی میں کہ شافعیہ کے عمدہ مذہب واحد الشیخین میں مطالعہ کیاکہ انھوں نے ارکان حج صرف پانچ گنے ترتیب کو واجبات میں شمار کیا ولعل ھذہ روایۃ اخری فی مذھھم(ہوسکتا ہے کہ ان کے مذہب کی یہ دوسری روایت ہو۔ ت والله تعالیٰ اعلم ۱۲منہ )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع