30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والنظم للدر، لا یجوزان یعمل عملا یصل بہ الی الضعف فیخبز نصف النھار ویستریح الباقی فان قال لا یکفینی کذب باقصر ایام الشتاء[1]۔ |
درکے الفاظ میں کوئی ایسا عمل جائز نہیں جو کمزور کردے تو نانبائی مثلًایوں کرے کہ نصف دن روٹی پکائے اور باقی دن آرام کرے، پس اگر وہ شخص کہے کہ اس قدر عمل مجھے کفایت نہیں کرتا تو اس کی تکذیب کی جائے سردیوں کے سب سے چھوٹے دن ہیں (ت) |
دیکھو نان پزکو فرماتے ہیں اگر گرمی کے دنوں میں سارے دن روٹی لگانے سے وہ ضعف پیدا ہوکہ ادائے صیام میں خلل انداز ہوتوآدھے دن پکائے کہ چھوٹے دنوں میں دن بھر پکاتا تھا، نمازوں وغیرہ کے وقت نکال کر گرمیوں کا نصف دن اسی کے قریب قریب ہوجائے گا، یہ نہیں فرماتے کہ ضعف توجب آئے گا آئے گا اور چوتھائی دن درکنار روٹی پکانے سے دُھواں جو حلق و دماغ میں جاکر روزہ ہی کھودے گا۔ثانیا : ۳۸سراجیہ وغیرہا میں ہے:
|
امۃ افطرت فی رمضان متعمدۃ لضعف اصابھا من عمال السید من طبخ او غیرہ کان واسعا وقضیۃ للمملوك ان یمتنع عما یعجزہ عن اداء الفرائض [2]۔ |
وہ لونڈی جس نے اپنے مالك کی خدمت مثلًاکھانا پکانا وغیرہ پیداہونے والے ضعف کے پیش نظر مجبورًا روزہ توڑدیا تو جائز ہے اور غلام کو یہ حکم ہے کہ وہ ایسے کاموں سے رُك جائے جوادائے فرائض سے عاجز کردینے والے ہوں(ت) |
یہ فرمایا کہ کنیز کو پکانے کی محنت سے ضعف ایسا لاحق ہوا کہ مجبورًا روزہ توڑنا پڑا ،جائز ہے اور قضا رکھے، یہ کیوں نہیں فرماتے کہ سرے سے پکانا ہی سببِ افطار ہے، اور کنیز کو جائز نہیں کہ اس میں مولٰی کی اطاعت کرے۔ ۳۹ظہیریہ و۴۰ولوالجیہ و بحرالرائق وغیرہا میں ہے:
|
للامۃ ان تمتنع من امتثال امرالمولٰی اذا کان ذلٰك یعجزھا عن اقامۃ الفرائض لانھا مبقاۃ علی اصل الحریۃ فی حق الفرائض[3]۔ |
لونڈی کے لئے مولی کے ایسے احکام سے رك جانا ہے جس سے وہ ادائے فرض سے عا جز آجائے گی کیونکہ ادائے فرض کے اعتبار سے وہ اصلا آزاد ہے ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع