دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

ساجدا فی الصلاۃ لایکون حدثا فی ظاھر الروایۃ فان تعمد النوم فی سجودہ تنتقض طہارتہ  وتفسد صلاتہ ولو تعمد النوم فی قیامہ او رکوعہ لاتنتقض طہارتہ فی قولھم [1]  اھ فقولہ فی قولہم راجع الی مسألۃ القیام والرکوع دون السجود کما اقتضاہ اختصار الحلیۃ علی مافی نسختی کیف وعدم النقض ولو تعمد فی الصلاۃ ھو المعتمد وھو المذھب قال فی الہندیۃ ثم فی ظاھر الروایۃ لافرق بین غلبتہ وتعمدہ وعن ابی یوسف النقض فی الثانی والصحیح ما ذکر فی ظاھر الروایۃ ھکذا فی المحیط[2]  اھ فکیف یجوز ان یکون قولھم وسیاتی عن نص الحلیۃ نفسہا۔

ثم اقول :   لم یتعرض الامام قاضی خان ھھنا عن حکم الصلاۃ اذا تعمد النوم فی القیام اوالرکوع وعبارتہ فی مفسدات الصلاۃ ومن ثم نقل فی الفتح ھکذا اذا نام المصلی مضطجعا متعمدا فسدت صلاتہ ولو لم یتعمد فمال حتی اضطجع تنتقض طہارتہ ولا تفسد صلاتہ          

نماز میں سوگیا تو ظاہر روایت میں حدث نہ ہوگا کیونکہ قصدا سجدہ میں سوجانا طہارت کو بھی ختم کردیتا ہے اور نماز کو بھی ، جبکہ قصدا رکوع یا قیام میں سونا ہمارے ائمہ کے قول میں طہارت کو نہیں توڑ تا ہے اھ۔

اب اس عبارت میں “ فی قولھم “ قیام ورکوع کے مسئلہ کی طر ف راجع ہے نہ کہ سجود کی طر ف ، جیسا کہ حلیہ کے اختصار میں میرے نسخہ کے مطابق ہے اور یہی درست ہے کہ قصدا بھی نماز کے اندر اگر ایسا کرے تو نہ ٹو ٹے گا ، یہی معتمد ہے اور مذہب ہے ہندیہ میں کہا کہ “ نیند  کے غلبہ یا قصدا سونے کے درمیان ظاہر الروایۃ کے مطابق کوئی فر ق نہیں ہے ، او رابو یوسف سے وضو ٹوٹنے کی روایت ہے ، لیکن صحیح وہی ہے جو ظاہر الروایۃ میں ہے ھکذا فی المحیط اھ ۔ اب یہ کیونکر درست ہوسکتا ہے کہ یہ ائمہ کا قول ہو ، اور آگےاس کا بیان خود حلیہ کی عبارت سے آرہا ہے ۔

ثم اقول :  اس مقام پر قاضی خان نے قیام ورکوع کی حالت میں قصدا سونے کی صورت میں نماز کا حکم نہ بتایا ، مفسدات نماز میں ان کی عبارت یہ ہے وہیں سے فتح القدیر میں نقل کیا ہے “ جبکہ نمازی کروٹ قصدا سوگیا تو اس کی نماز فاسد ہوگئی ، اور اگر قصدا نہیں ہے اور اتنا جھکا کہ لیٹنے کی حد کو پہنچ گیا تو طہارت ٹوٹ جائے گی

ولو نام فی رکوعہ او سجودہ ان لم یتعمد ذٰلك لاتفسد صلاتہ وان تعمد فسدت فی السجود ولا تفسد فی الرکوع[3]  اھ فانما محط کلامہ طرا ان النوم ان کان ناقض الطہارۃ کما فی الاضطجاع کان تعمدہ مفسدا للصلاۃ لان تعمد الحدث یمنع البناء والا لاکنوم قائم و راکع ولذا لما حکم علی نوم الساجد العامد بافساد الصلاۃ افاد فی الفتح ماافاد فلیحفظ فان لہ شانا ان شاء الله تعالٰی۔

ثم قال فی الحلیۃ وذکر فی التحفۃ والبدائع ان النوم فی غیر حالۃ الاضطجاع والتورك فی الصلاۃ لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمد فی ظاھر الروایۃ انتھی والعلۃ المعقولۃ فی کون النوم ناقضا استرخاء المفاصل و زوال المسکۃ وھذا لم یوجد فی ھذہ المذکورۃ والاسقط ھذا کلہ فی الصلاۃ وان کان خارج الصلٰوۃ مضطجعا اومتکئا بمعنی ان یکون معتمدا

                                                مگر نماز نہیں ٹوٹے گی ، اوراگر رکوع وسجود میں سوگیا تو اگر قصد ا نہیں ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر قصدا ہے تو سجود میں فاسد ہے رکوع میں نہیں اھ سو ان کے تمام کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ نیندا اگر ناقض طہارت ہو جیسے کہ کروٹ لیٹنے کی صورت میں ہے تو قصدا ایسی نیند مفسد صلوۃ ہے ۔ اس لئے کہ کسی حدث کا قصدا ارتکاب نماز کی بناء کے منافی ہے اگر نیند ناقض طہارت نہ ہو جیسے رکوع یا قیام میں تو مفسد صلوۃ نہیں ۔ اس لئے جب سجدہ میں قصدا سوجانے کی بابت فساد نماز کا حکم کیا تو فتح میں وہ افادہ کیا جو اس میں موجود ہے تو اس کو محفوظ کرنا چاہئے کہ اس کے لئے ایك انوکھی شان ہے اگر الله تعالی چاہے ۔

پھر حلیہ میں فرمایا کہ تحفہ اور بدائع میں ذکر کیا کہ نماز میں کروٹ لیٹنے کی صورت کے  علاوہ سوجانا یا سرین پر بیٹھنے کی صورت کے علاوہ سوجانا حدث نہیں ہے خواہ اس پر نیند کا غلبہ ہوگیاہو یا قصدا ایسا کیا ہو ، ظاہر روایت میں یہی ہے اھ اور عقلی علت نیند کے ناقض ہونے میں جوڑوں کا ڈھیلا پڑجانا اور چستی وبندش کا ختم ہوجانا ہے ، اور یہ چیز مذکورہ صورت میں نہیں پائی گئی ورنہ وہ شخص گرجاتا  ، یہ سب صورتیں حالت نماز کی تھیں اور اگر نماز کے باہر کروٹ لیٹایا ٹیك لگائی بایں معنی کہ کسی کہنی پر ٹیك لگائے ہو جیسا کہ

علی احد مرفقیہ کما ھو معنی التورك فی التحفۃ والبدائع ومحیط رضی الدین نقض بلا خلاف[4] اھ ملتقطا۔

وفی ردالمحتار نام المریض وھو یصلی مضطجعا الصحیح النقض کما فی الفتح وغیرہ و زاد فی السراج وبہ ناخذ [5]  اھ

وفی الخانیۃ ظاھر المذھب ان النوم فی الصلاۃ لایکون حدثا الا ان یکون مضطجعا اومتکئا والاضطجاء علی نوعین ان غلبت عیناہ فنام ثم اضطجع فی نومہ فھو بمنزلۃ مالو سبقہ الحدث یتوضأ ویبنی وان تعمد النوم فی الصلاۃ مضطجعا فانہ یتوضأ ویستقبل ومن عجز فصلی مضطجعا فنام ینقض [6] اھ

 



[1]   فتاوٰی قاضی خان کتاب الطہارت ، فصل فی النوم  نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۰

[2]   فتاوی ہندیہ  کتاب الطہارت ، الباب الاول ، الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۲

[3]   فتاوٰی قاضی خان  کتاب الصلوۃ ، فصل فیما یفسد الصلوۃ  نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶۴

[4]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[5]   ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۹۶

[6]   فتاوی قاضی خاں  کتاب الطہارت ، فصل فی النوم   نولکشورلکھنو  ۱ / ۲۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن