دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 1 Part 1 | فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱ (حصہ اول)

(۱۶)سید جلال الدین کرلانی کفایہ میں فرماتے ہیں : “ خروج بغیر بہنے کے متحقق نہیں ہوتا اس لئے کہ ہر جلد کے نیچے رطوبت ہے جب جلد ہٹ جائے تو رطوبت ظاہر ہو گی خارج نہ ہو گی جیسے گھر گر جائے تو اندر رہنے والا ظاہر ہو گا اپنی جگہ سے منتقل نہ ہو گا “ اھ۔

(۱۷) علامہ اکمل الدین بابرتی عنایہ میں فرماتے ہیں : “ زندہ انسان کے بدن سے نجس چیز کا نکلنا ہمارے نزدیك جس طرح بھی ہو ناقضِ طہارت ہے اور یہی عشرہ مبشرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکا مذہب ہے اھ۔

اس میں یہ بھی ہے : جسے حکمِ تطہیر لاحق ہے اس جگہ تجاوز کی شرط اس صورت سے احتراز ہے جب نجس صرف نمودار ہو ، نہ نکلے ، نہ آگے بڑھے کیونکہ اسے خارج نہیں کہا جا تا۔ تو یہ شرط خروج کی تفسیر اور امام زفر کے اس گمان کی تردید ہے کہ ظاہر ہونے والا ، نکلنے والا ہے اھ۔

(۱۸) خود مولانا بحر العلوم نے اسی کتاب میں صراحت کی ہے کہ ثابت ہو گیا کہ طہارت ٹوٹنے کی علّت خروجِ نجاست ہے تو جو نجاست بھی خارج ہو گی 

فکلما خرج من النجاسۃ ینقض الطہارۃ[1] اھ

ومن نظر الی تظافر ھذہ النصوص ایقن ان خروج النجس الی ظاھر البدن اذا تحقق لایتوقف بعدہ ثبوت الحدث وان تحققہ فی غیر السبیلین یحصل بانتقال ماعن موضعہ لا یشترط فیہ ان یکون ذراعا اوشبرا مثلا ، ولذلك لما ظھر لمحمد فیما روی عنہ ان بالعلو علی راس الجرح یحصل انتقال الدم من مکانہ حکم بالنقض من دون توقیف علی انحدار ایضا فضلا عن اشتراط امتداد مسافۃ واصحابنا جعلوا رأس الجرح من مکانہ فما دام علیہ ولم یجاوزہ لم ینتقل من مکانہ وان انتقل من تحت۔

قال فی الدرر عن المحیط بعد ما قدمنا وحد السیلان ان یعلو فینحدر عن رأس الجرح ھکذا فسر ابو یوسف لانہ مالم ینحدر عن رأس الجرح لم ینتقل عن مکانہ فان مایوازی الدم من اعلی الجرح            

ناقض طہارت ہو گی اھ۔

جو ان نصوص کی کثرت اور باہمی موافقت دیکھے گا اس بات کا یقین کرے گا کہ ظاہر بدن کی طرف نجس چیز کا خروج جب متحقق ہو جائے تو اس کے بعد حدث کا ثبوت کسی اور بات پر موقوف نہیں رہتا اور یہ بھی یقین کرے گا کہ غیر سبیلین میں خروج کا تحقق اپنی جگہ سے کچھ ہٹ جانے سے ہو جاتا ہے اس میں یہ شرط نہیں کہ ایك ہاتھ یا ایك بالشت ہو مثلًا اسی لئے جیسا کہ روایت ہے جب امام محمد پر ظاہر ہوا کہ سر زخم پر چڑھنے سے خون کا اپنی جگہ سے منتقل ہونا حاصل ہو جاتا ہے تو انہوں نے وضو ٹوٹنے کا حکم کر دیا ، نیچے ڈھلکنے پر بھی موقوف نہ رکھا ، کسی مسافت میں پھیلنے کی شرط لگانا تو دور کی بات ہے اور ہمارے اصحاب نے سر زخم کو اس کی جگہ قرار دیا ہے جب تك خون اس پر رہے اور تجاوز نہ کرے تو وہ اپنی جگہ سے منتقل نہ ہوا اگرچہ نیچے سے اوپر گیا ہے ۔

درر میں محیط کے حوالہ سے سابقًا نقل کردہ عبارت کے بعد ہے : اور سیلان کی حد یہ ہے کہ اوپر جا کر سر زخم سے ڈھلك آئے ، امام ابو یوسف نے اسی طرح تفسیر فرمائی ۔ اس لئے کہ جب تك سر زخم سے نہ اترے وہ اپنی جگہ سے منتقل نہ ہوا اس لئے کہ خون کے مقابل زخم کا بالائی حصہ خون ہی

مکانہ [2] اھ

فالورم المنبسط المنفجر من اعلاہ اذا انحدر القیح من راسہ تحقق الخروج والانتقال والسیلان قطعا لامحل فیہ لارتیاب فما ھی الا عبارۃ عن معنی واحد ولن یسبقن الی وھم احد ان الورم ان استوعب ید انسان من کتفہ الی رسغہ فانفجر من اعلی الکتف وجعل الدم یثج ثجا حتی ملأ الکتف ثم العضد ثم المرفق ثم الساعد لم یکن کل ھذا خروجا حتی یتجاوز الی الکف۔

و۱۱۶عدم لحوق فــــ حکم التطہیر عند العذر ظاھر المنع بل قد لحق وتاخر طلب ایقاعہ بالفعل حتی یزول ولذا اذا زال ظھر فکان من باب الوجوب لانعقاد السبب وتأخر وجوب الاداء بخلاف داخل العین فانہ من باطن البدن شرعا فی باب التطھیر من کل وجہ لم یلحقہ           

کی جگہ ہے اھ۔ تو پھیلا ہوا ورم جو اوپر سے پھوٹ جائے جب پیپ اس کے سر سے نیچے اُتر آئے تو خروج ، انتقال اور سیلان قطعًا متحقق ہو گیا جس میں کسی شك و شبہہ کی گنجائش نہیں کہ یہ سب ایك ہی معنی سے عبارت ہیں اور ہرگز کسی کو یہ وہم نہیں ہو سکتا کہ ورم اگر کسی انسان کے ہاتھ میں شانے سے گِٹّے تك کے حصے کو گھیر لے پھر شانے کے اوپر سے پھوٹے اور خون تیزی سے بہنے لگے یہاں تك کہ شانہ بھر جائے پھر بازو پھر کہنی پھر کلائی بھی بھر جائے ان سب کے باوجود خروج ثابت نہ ہو گا یہاں تك کہ خون تجاوز کر کے ہتھیلی پر آ جائے ۔

عذر کے وقت حکمِ تطہیر لاحق نہیں اس پر منع ظاہر ہے۔ یہ ہمیں تسلیم نہیں بلکہ حکم لاحق ہے مگر عذر ختم ہونے تك بالفعل اسے عمل میں لانے کا مطالبہ مؤخر ہو گیا ہے ۔ اسی لئے جب عذر ختم ہوجائے تو حکم ظاہر ہوتا ہے تو یہ اس باب سے ہوا کہ سبب متحقق ہونے کی وجہ سے وجوب ثابت ہے اور وجوب ادا مؤخر ہے اور داخل چشم کا معاملہ ایسا نہیں اس لئے کہ باب تطہیر میں وہ ہر طرح شرعًا باطن بدن سے شمار ہے

 



[1]   رسائل الارکان کتاب الطہارۃ بیان نواقض الوضوء مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۶

[2]   درر الحکام شرح غرر الاحکام کتاب الطہارۃ ، بیان نواقض الوضوء ، میر محمد کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن