30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فــــ۴ : ۴۹معروضۃرابعۃ علی العلامۃ ط۔
تابعین اعلام وائمہ عظام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو خود بھی عارض ہوا ہو ایسی عموم بلوی کی چیز میں اگر نقض وضو کا حکم ہوتا تو ایك جہان اُس سے مطلع ہوتا مشہور ومستفیض حدیثوں میں اس کی تصریح آئی ہوتی ، کتب ظاہر الروایۃ سے لے کر متون وشروح وفتاوٰی سب اُس کے حکم سے مملو ہوتے نہ کہ بارہ سو برس کے بعد ایك مصری فاضل سید علامہ طحطاوی بعض عبارات سے اُسے بطور احتمال نکالیں اور خود بھی اُس کے اصل موضع بیان یعنی نواقض وضو کے ذکر تك اُس کی طرف اُن کا ذہن نہ جائے حالانکہ آبِ رمد وغیرہ کا مسئلہ درمختار میں وہاں بھی مذکور تھا ، باب الحیض میں جاکر خیال تازہ پیدا ہو ایسا خیال زنہار قابل قبول نہیں ہوسکتا تمام اصول حدیث واصول فقہ اس پر شاہد ہیں ہاں جسے رُعاف فــــ یعنی ناك سے خون جانے کا مرض ہے اور اسی حالت میں اُسے زکام ہوا اور خون نکلنے کے غیر اوقات میں جو ریزش زکام کی آتی ہے سرخی لیے متغیر اللون آتی ہے جس سے آمیزش خون مظنون ہے تو اس صورت میں نقضِ وضو کا حکم ظاہر ہے۔
وانما شرطنا ھھنا تغیر اللون المذکور لان العلۃ وان کانت موجودۃ فالمخاط لایحدث منھا اعنی من الرعاف فاذا کان صافیا کان من محض الزکام ، واذا تغیر استند تغیرہ الی الرعاف بناء علی الظاھر وان امکن استنادہ الی اسباب اخر ، ھذا ماعندی وارجو ان یکون صوابا ان شاء الله تعالٰی ورأیتنی کتبت علی ھامش نسختی الغنیۃ عند قولہ ناقض علی الاصح لانہ صدید
یہاں ہم نے رنگ مذکور کے بدل جانے کی شرط رکھی اس لیے کہ بیماری اگرچہ موجود ہے مگر اس سے یعنی نکسیر سے رینٹھ نہیں آتی تو اگر وہ صاف ہے تو خالص زکام سے ہے اور رنگ بدلا ہوا ہے تو ظاہر پر بنا کرتے ہوئے اس کے تغیر کی نسبت نکسیر کی جانب ہو گی ، اگرچہ دوسرے اسباب کی جانب بھی استناد ممکن ہے ، یہ وہ ہے جو میرے نزدیك ہے اور امید رکھتا ہوں کہ درست ہوگا اگر الله نے چاہا۔ اور میں نے دیکھا کہ اپنے نسخہ غنیہ کے حاشیہ پر اس کی عبارت “ ناقض علی الاصح لانہ صدید “ (برقول اصح وہ ناقض ہے اس لئے کہ وہ زخم کا پانی ہے ) کے
فــــ : مسئلہ : جسے ناك سے خون جاتاہو اسی حالت میں اُسے زکام ہو اور ریزش سرخی لئے نکلے اگرچہ اس وقت خون بہنا معلوم نہ ہو اس کی یہ ریزش بھی ناقض وضو ہے۔
مانصہ۔
قلت : تعلیلہ النقض بانہ صدید یبعد استظہار الطحطاوی النقض بالزکام لکونہ ماء سال من علۃ وتعقبہ الشامی بما صرحوا بان ماء فم النائم طاھر وان کان منتنا
اقول : لکن فیہ ان النوم یرخی والمکث ینتن فلم یلزم کونہ من علۃ وانما الناقض مامنھا فافھم۔
لکنی اقول : الزکام امر عام ولعلہ لم یکن انسان الاابتلی بہ فی عمرہ مرارا ومتیقن انہ وقع فی کل قرن وکل طبقۃ بل کل عام وفی عھد الرسالۃ و زمن الصحابۃ وایام الائمۃ بل لعلھم زکموا بانفسھم ایضا فلوکان ناقضا لوجب ان یشتھر حکمہ ویملأ الاسماع ویعم البقاع ، ویتدفق منہ بحار الاسفار قدیما وحدیثا لاان
تحت میں نے یہ لکھا ہے :
قلت : صدید (زخم کا پانی) ہونے سے نقض کی تعلیل علامہ طحطاوی کے اس استظہار کو بعید قرار دیتی ہے جو زکام کے ناقض وضو ہونے سے متعلق انہوں نے لکھا ہے اس لئے کہ وہ ایك بیماری سے بہنے والا پانی ہے اور علامہ شامی نے اس پر علماء کی اس تصریح سے تعاقب کیا ہے کہ سونے والے کے منہ کا پانی پاك ہے اگرچہ بدبو دار ہو ۔
اقول : لیکن اس پر یہ کلام ہے کہ نیند کی وجہ سے اعضاء ڈھیلے ہو جاتے ہیں (اس لئے منہ کا پانی باہر آ جاتا ہے) اور دیر گزرنے سے بدبو پیدا ہو جاتی ہے تو یہ لازم نہ آیا کہ وہ پانی کسی بیماری کی وجہ سے نکلا ہے اور ناقض وہی ہے جو کسی بیماری سے ہو---- تو اسے سمجھو ۔
لکنی اقول (لیکن میں کہتا ہوں) زکام ایك عام سی چیز ہے ، شاید کوئی انسان ایسا نہ گزرا ہو جسے اپنی عمر میں چند بار زکام نہ ہوا ہو اور یقین ہے کہ ہر قرن ہر طبقہ بلکہ ہر سال واقع ہوا ہے اور عہدِ رسالت ، زمانہ صحابہ اور دورِ ائمہ میں بھی ہوا ہے بلکہ خود ان حضرات کو بھی زکام ہوا ہو گا ، اگر یہ ناقضِ وضو ہوتا تو ضروری تھا کہ اس کا حکم مشہور ہو ، لوگوں کے کان اس سے خوب خوب آشنا ہوں کہ سارے علاقوں میں پھیل جائے اور فقہ و حدیث کی قدیم و جدید کتابیں اس کے ذکر
لایذکر فی شیئ من الکتب ویبقی موقوفا الی ان یستخرجہ العلامۃ الطحطاوی علی وجہ الاستظہار فی القرن الثالث عشر ، و قد علمت فــــ۱ ان ماکان ھذا شانہ لایقبل فیہ حدیث روی اٰحادا لان الاٰحادیۃ مع توفر الدواعی امارۃ الغلط۔
۷۵والذی یظنہفــــ۲٢ العبد الضعیف ان ماکان خروجہ معتادا ولا ینقض لاینقض ایضا اذا فحش وان عد حینئذ علۃ فیما یعد الاتری ان العرق لاینقض فاذا فحش جداکما فی بحران المحموم اوبعض الامراض لم ینقض ایضا وکذلك الدمع واللبن والریق فکذا المخاط ومن ادل دلیل علیہ ما اجمعوا علیہ ان من قاء بلغما فان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع