30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴۷اقول : وبہ انتفٰی الاستدلال بو زنہ علی کراھۃ مسحہ کما قال الترمذی فی جامعہ و من کرھہ انما کرھہ من قبل انہ قیل ان الوضو یوزن [1]الخ
فھٰذا الحدیث مع تصریحہ بالوزن نص علی نفی الکراھۃ فان ذلك انما ھواستحباب ومعلوم فـــــ ١ان ترك المستحب لایوجب
جو بات رائے سے نہ کہی جا سکتی ہو وہ اس پر محمول ہوتی ہے کہ سرکار سے مروی اور مرفوع ہے جب کہ راوی اسرائیلیات سے لے کر بیان کرنے والا نہ ہو بلکہ تمام نے فوائد میں اور ابنِ عساکر نے تاریخ میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے یہ حدیث روایت کی ہے ۔ ت) یعنی نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : جو وضو کر کے پاکیزہ کپڑے سے بدن پونچھ لے تو کچھ حرج نہیں اور جو ایسا نہ کرے تو یہ بہتر ہے اس لئے کہ قیامت کے دن آبِ وضو بھی سب اعمال کے ساتھ تولا جائے گا۔
اقول : آب وضو کے وزن کئے جانے سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ اسے پونچھنا مکروہ ہے جیسا کہ امام ترمذی نے اپنی جامع میں لکھا کہ اس کا م کو جس نے مکروہ کہا ہے اسی وجہ سے مکروہ کہا ہے کہ فرمایا گیا ہے : یہ پانی روزِ قیامت نیکیوں کے پلّے میں رکھا جائے گا ۔ مذکورہ بالا حدیثِ ابو ھریرہ سے یہ استدلال رَد ہو جاتا ہے کیوں کہ اس میں وزن کئے جانے کی صراحت کے ساتھ کراہت کی نفی ، اور اس کے صرف مستحب
فـــــ۱ : ترك المستحب لایوجب کراھۃ تنزیہ۔
کراھۃ التنزیہ کما حققہ فی البحر والشامی و غیرھما۔
ہونے پر نص موجود ہے -----اور یہ معلوم ہے کہ ترك مستحب ، کراہتِ تنزیہ کا مُوجب نہیں۔ جیسا کہ محقق بحر اور علامہ شامی وغیرہما نے اس کی تحقیق فرمائی ہے ۔ (ت)
اس کے سوا اس کی ممانعت یا کراہت کے بارے میں اصلاً کوئی حدیث نہیں بلکہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے متعدد حدیثوں میں اس کا فعل مروی ہوا۔ جامع ترمذی میں ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی الله تعالٰی سے ہے :
قالت کان لرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم خرقۃ یتنشف بھا بعد الوضوء[2]
۴۸قلت : ونحوہ للدار قطنی فی الا فراد[3] عن ابی بکر الصدیق رضی الله تعالٰی عنہ
رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایك رومال رکھتے کہ وضو کے بعد اُس سے اعضائے منوّر صاف فرماتے۔
قلت : اسی طرح امام دار قطنی نے یہ حدیث افراد میں حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے(ت)
نیز جامع ترمذی میں معاذبن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے :
قال رأیت النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذا توضأ مسح وجہہ بطرف ثوبہ [4]
میں نے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ جب وضو فرماتے اپنے آنچل سے روئے مبارك صاف کرتے۔
سُنن ابن ماجہ میں سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے :
ان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم توضأ فقلب جبۃ صوف کانت علیہ فمسح بھا وجہہ [5]
رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے وضو فرما کر اُونی کُرتا کہ زیبِ بدن اقدس تھا اُلٹ کر اُس سے چہرہ انور پونچھا۔
۴۸اقول : یہ چاروں حدیثیں اگرچہ ضعیف ہیں مگر تعددِطرق سے اس کا انجبار ہوتا ہے معہذا حلیہ میں فرمایا کہ جب حدیث فـــــ۱ ضعیف بالاجماع فضائل میں مقبول ہے تو اباحت میں بدرجہ اولیٰ ، علاوہ بریں یہاں ایك حدیث حسن قولی بھی موجود امام ابو المحاسن محمد بن علی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکتاب الالمام فی آداب دخول الحمام میں روایت فرماتے ہیں : اخبرنا محمد بن اسمٰعیل انا ابو اسحٰق الارموی اخبرتنا کریمۃ القرشیۃ انا ابو علی بن المحبوبی انا ابو القاسم المصیصی اناابو عبدالرحمٰن بن عثمٰن انا ابرٰھیم بن محمد بن احمد بن ابی ثابت ثنااحمد بن بکیر یعلی ثنا سفین عن لیث عن زریق عن انس
[1] سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل الخ بعد الوضوء حدیث ۵۴دا رلفکر بیروت۱ / ۱۲۰
[2] سنن الترمذی ، ابواب الطہارۃ ، باب ما جاء فی المندیل ، بعد الوضوء حدیث۵۳دا رلفکر بیروت۱ / ۱۱۹
[3] کنزالعمال قط فی الافرادعن ابی بکر حدیث ۲۶۹۹۷ موسسۃ الرسالہ بیروت۹ / ۴۷۰
[4] سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل بعد الوضوء حدیث۵۳دا رالفکر بیروت ۱ / ۱۲۰
[5] سنن ابن ماجہ ، ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل بعد الوضو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع