دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 2 | فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

book_icon
فیضان ریاض الصالحین جلد دوئم

حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حکیمانہ انداز:

شارح بخاری حضرت علامہ مولانا  سید  محمود  احمد رضوی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ مطلب یہ کہ نفلی عبادت انسان کی اپنی مرضی پرمنحصر ہے،  اللہ تعالٰی نےلازم وواجب نہیں فرمائی۔ مذکورہ بالااحادیث میں نفلی روزوں کےمتعلق حضورسیدعالَمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کاعمل وکرداراورآپ کی ہدایت کاخلاصہ یہ ہے، عباداتِ نفلی میں حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نےاُمَّت کومیانہ روی کی تعلیم دی ہے۔نفلی روزوں اور نمازوں میں ایسےاِنہماک سےمنع فرمایاجس کی وجہ سےبندوں کےحقوق اورخوداپنی ذات کےحق مجروح ہوں یافرائض وواجبات کی ادائیگی میں کوتاہی ہو۔ حضرت عبد اللہ بن عَمروبن العاص  (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)  پانچ ممنوعہ دنوں کےعلاوہ سال بھرمسلسل روزےرکھتےتھےاوررات میں عبادت وریاضت میں مشغول ہو جاتے نہ دن میں افطار کرتے اور نہ رات میں سوتے۔حضورصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےانہیں ایسا کرنے سےمنع فرمایا اورنہایت حکیمانہ انداز میں انہیں بتایاکہ تم پرتمہارےجسم کابھی حق ہے۔جب مسلسل روزےرکھوگےتوکمزوری ہوگی اوراس انہماک سےخطرہ ہوگاکہ فرائض وواجبات کی ادائیگی میں خلل پیدا ہو۔ (فرمایا:تمہاری آنکھوں کابھی تم پر حق ہے) جب ساری رات شب بیداری میں گزار دو گے تو نگاہ کمزور ہوگی، جوانی میں نہ سہی آخری عمرمیں اس ریاضتِ شدیدہ سےتکلیف ہوگی۔ (فرمایا:تم پرتمہاری  بیوی  کابھی حق ہے) جب ساری رات عبادت میں اوردن روزےسے گزرے گا تو بیوی کےحقوق تلف ہوں گے، بچےتمہاری شفقت ومحبت اورتعلیم وتربیت سےمحروم رہ  جائیں گے۔ (فرمایا:تم پرتمہارے مہمان  کابھی حق ہے) جب رات دن عبادت وریاضت، صوم وصلوٰۃوتلاوت قرآن وذکرواَذکارمیں گزارو گے تو دوست واَحباب کےحقوق متأثر ہوں گے۔اس لیے عبادت وریاضت میں ایساانہماک جس سے حقوقُ اللہ وحقوقُ العبادتلف ہوں بہت ہی غیر مناسب ہے۔اسی لیے حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےفرمایا:جس نے عمر بھر روزےرکھےاس نے روزے رکھےہی نہیں ۔صحیح طریقہ اور حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی عام تعلیم یہ ہی ہے کہ عبادت نفلیہ  میں اعتدال وتوازن ضروری ولازمی ہےاوراس کی صورت یہ ہےکہ ہر مہینہ تین روزےرکھےجائیں ساری عمرکےروزےرکھنےکاثواب ملےگا۔ایک نیکی کاثواب دس گنا ملتا ہے توہرمہینہ تین روزوں کاثواب پورے مہینہ کےروزوں کا ہوگا۔ واضح ہوصحابۂ کرام  (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کی ایک جماعت  (جن میں امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم و ابن عُمروطلحہ وابواُمامہ وجنابِ سَیِّدَہ عائشہ صدیقہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنبھی ہیں ان تمام) نےمسلسل روزے رکھے ہیں مگر ان حضرات کی بات دوسری ہے، ان کاعبادت و ریاضت میں انہماک انہیں حقوق العبادات سے نہیں روکتاتھا لہذاممانعت عام لوگوں کےلیےقرار پائےگی خواص کےلیےنہیں ۔ ‘‘  ([1])

مدنی گلدستہ

جَنَّتِ ’’ فردوس ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

(1)  نفلی عبادات میں میانہ روی کو اختیار کرنا چاہیے،  ایسا اِنہماک کہ جس سے دیگر حقوق اللہ وحقوق العباد کی تلفی ہو ممنوع ہے۔

(2)  ایسی قسم کھانا منع ہے جسے توڑے بغیرکوئی چارہ نہ ہو۔

(3)  صومِ داؤدی  صومِ دہر  سے افضل ہے ۔

(4)  مؤمن کفارسے مقابلہ  کے وقت سیسہ پلائی ہو ئی دیوار کی طرح جم جاتا ہے پیٹھ پھیر کر بھاگنا مؤمن  کی شان نہیں ۔

(5)  رات میں کچھ دیر آرام کرنابہت فائدہ مندہے کیونکہ اس سے بدن کو تقویت ملتی ہے  اورعبادت میں   دل جمعی نصیب ہوتی ہے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نفلی عبادات میں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،  حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارےدلوں کوعبادت کی روشنی سے منور فرمائے ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 



[1]   فیوض الباری،۸ / ۷۴،۷۳۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن