30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتا ہے“موت کے برابر نہىں([1])۔([2])
(23)…(حضرت سیِّدُنا)امام غزالى(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی) لکھتے ہىں کہ(حضرت سیِّدُنا) عىسٰى عَلَیْہِ السَّلَام فرماتے ہىں : ”عالم باعمل“ کو ملکوتِ آسمان(آسمان کی سلطنت) مىں ”عظىم“ یعنى بڑا شخص کہتے ہىں۔([3])
اسى طرح فضائل وفوائد اِس صفت(علم) کے اخبار وآثار(احادیث وروایات) مىں بےشمار وارِد ہىں، صرف ىہ بات کہ وہ صفت جناب اَحَدىّت(اللہ عَزَّ وَجَلَّ) اور حضرت رسالت(حضرت سیِّدُنا محمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کى ہے، اُس کى فضىلت مىں کفاىت کرتى(کافی) ہے([4])۔ بھلائى دونوں جہان کى علم سے حاصل ہوتى ہے اور سعادتِ دارىن بوسىلہ اِس صفت کے(یعنی دونوں جہاں کی بھلائی علم کے سبب) ہاتھ آتى ہے۔ جاہل درحقىقت حىوان مطلق ہے کہ فضل انسان کا(انسان کی فضیلت) ”ناطق“ (کلام) ہے پس آدمى کو لازم ہے کہ اِس دولتِ عُظمى کى تحصىل (علم حاصل کرنے) مىں کوشش کرتا رہے([5]) اور اس کے موانع(روکنے والے امور) کو دفع(دور) کرے۔
علم کی رکاوٹوں اور ا ن کے علاج کا بیان
علم کے موانع([6]) اور ان کے دفیعے([7]) :
اورموانع اِس صفت کے(یعنی علم کی راہ میں رکاوٹیں) آٹھ(8) ہىں۔
مانع اوّل(پہلی رکاوٹ) :
شىطان کہ جس قدر عداوت(دشمنی) علم سے رکھتا ہے دوسرى صفت سے نہىں رکھتا اور جس قدر وسوسے اِس کام سے روکنے کے لئے دل مىں ڈالتا ہے کسى کام سے روکنے کے لئے نہىں ڈالتا۔
مگر بطرىق دفع(دور کرنے کا طریقہ) اس کا سہل(آسان) ہے کہ جب مسلمان علم کى فضل وبزرگی اور طالب علم کے ثواب کو کہ شمّہ(یعنی کچھ اجروثواب) اُس کا مذکور ہوا تصور کرے گا(تو) شىطان کى بات ہرگز نہ سنے گا۔ آىت وحدىث کے مقابلہ مىں اس ملعون کا وسوسہ کىا اعتبار رکھتا ہے؟
نفس کہ محنت ومَشَقّت سے متنفر(نفرت کرتا) اور آسائش وراحت کى طرف مائل ہے۔ لىکن جب آدمى خىال کرتا ہے کہ دنىا دارِفانى(فنا کا گھر) اور آخرت عالَم جاوِدانی (ہمیشگی کا گھر) ہے، اگر ىہاں(دنیا میں) طلب علم مىں تھوڑى محنت کہ ہزاروں لُطف وکىفىت سے خالى نہىں اختىار کرونگا اُس عالم(آخرت) مىں بڑے بڑے مرتبے پاؤنگا تو محنت ومَشقّت اُسے سہل(آسان) ہوجاتى ہےىہاں تک کہ بعد اىک عرصہ کے اىسا مزہ اور لُطف حاصل ہوتا ہے کہ اگر اىک روز کتاب نہىں دىکھتا دل بےچىن ہوجاتا ہے۔
خَلق(مخلوق) کہ تعلق اس سے تحصىل علم کو مانع(رکاوٹ) ہوتا ہے۔ لىکن ابتداءِ امر(شروع) مىں تھوڑا وقت اس کام کے واسطے خاص کرسکتا ہے اور جب کىفىت(لُطف ولذت) علم کى حاصل ہوتى ہے (تو)اَزخود(اپنے آپ) کتاب کے سوا تمام عالَم سے نفرت ہوجاتى ہے۔ ؎
ہَمْنَشىنے بِہ اَز کتاب مَخواہ کہ مُصاحِب بَوَد گَہ و بےگاہ
اِىں چُنِىں ہَمدَم و رَفىق کہ دِىد کہ نَرَنْجِىد و ہَم نَرَنْجانىد([8])
طلَبِ عزت۔اور اَدنیٰ تأمُّل(معمولی غور وفکر)سے ظاہرہوتاہے کہ عزتِ دنىا کى، عزتِ آخرت کے مقابلہ مىں کچھ حقىقت نہىں رکھتی۔ جو شخص دنىا کے لئے علم کو کہ عزتِ آخرت کا سبب ہے ترک کرتا ہے، درحقىقت اپنى جان ذلت مىں ڈالتا ہے اور جو علم کو دنىا کى جاہ وحشمت(عزت وعظمت) پر ترجىح دىتا ہے خدائے عَزَّ وَجَلَّ اُسے دنىا کى عزت بھى عناىت کرتا ہے۔
(حضرت سیِّدُنا)ابواسود(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) کہتے ہىں : علم سے کسى چىز کى عزت زىادہ نہىں۔ بادشاہ سب لوگوں کے حاکم ہىں اور علما بادشاہوں کے۔([9]) دىکھو اس زمانہ (مىں۱۲) بھى جو کچھ لکھ دىتے ہىں حکام وقت اہل اسلام کے مقدمات مىں اس پر عمل کرتے ہىں۔
[1] یعنی ایک ہزار عبادت گزاروں کی موت ایک باعمل عالم کی موت کے برابر نہیں۔
[2] جامع بیان العلم وفضلہ، باب تفضیل العلم علی العبادة، ص۴۲، حدیث : ۱۱۵
[3] الزھد للامام احمد، مواعظ عیسی علیہ السلام، ص۹۷، حدیث : ۳۳۰
[4] یعنی علم کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوررسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صفت ہے۔
[5] اُغْدُ مُعَلِّمًا اَوۡمُتَعَلِّمًا اَوۡمُسۡتَمِعًا اَوۡمُحِبًّا وَلَاتَکُنِ الْـخَامِسَ فَتَھۡلِکَ(ترجمہ : )صبح کو نکل معلّم (سکھانے والا) ہوکر ىا متعلّم(سیکھنے والا) ہوکر ىا سامِع(علم کی بات سننے والا) ہوکر یا علم دوست ہوکر اور پانچواں نہ بن کہ ہلاک ہو۔۱۲م
(شعب الایمان، باب فی طلب العلم، فضل فی طلب العلم وشرف مقدارہ، ۲/ ۲۶۵، حدیث : ۱۷۰۹)
[8] کتاب سے زیادہ بہتر دوست تو مت چاہ! کیوں کہ یہ وقت وبے وقت(ہر حال میں) ساتھ رہے، ایسا رفیق وہمنشیں کسی نے دیکھا؟ کہ جو نہ ناراض ہو اور نہ ستائے۔
[9] احیاءالعلوم، کتاب العلم، الباب الاول فی فضل العلم…الخ، ۱/
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع