30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
بروز اتوار ۲۶ ربیعُ النُّور شریف ۱۴۲۰ ھ بمطابِق 11.7.1999 بوقت دوپہرپنجاب کے مشہور شہرلالہ موسیٰکی ایک مَصروف شاہراہ پرکسی ٹرالر نے دعوتِ اسلامی کے ایک ذمّہ دار، مُبلِّغ دعوتِ اسلامی محمدمُنیر حسین عطاّری علیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری(مَحَلّہ ساکِن اسلام پورہ لالہ موسیٰ) کو بُری طرح کُچل دیا۔ یہاں تک کہ ان کے پیٹ کی جانب سے اُوپر اور نیچے کا حصّہ الگ الگ ہوگیا۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ پھر بھی وہ زندہ تھے ، اور حیرت بالائے حیرت یہ کہ حَواس اتنے بحال تھے کہ بُلند آواز سے الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ عَلَیْکَ یا رَسُوْلَ اللّٰہ اور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پڑھے جا رہے تھے۔ لالہ موسیٰ کے اَسپتال میں ڈاکٹروں کے جواب دے دینے پر انہیں شہرگجرات کے عزیز بھٹّی اَسپتال لے جایا گیا۔انہیں اَسپتال لے جانے والے اسلامی بھائی کا بَقَسم بیان ہے، اَلْحمدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ محمدمُنیر حسین عطاری علیہ رحمۃُاللّٰہِ الْبَاری کی زَبان پرپورے راستے اِسی طرح بُلند آواز سے دُرودو سلام اور کَلِمَۂ طَیِّبہ کا وِرْد جاری تھا۔ یہ مدنی منظر دیکھ کر ڈاکٹر ز بھی حیران و شَشدر تھے کہ ! یہ زندہ کس طرح ہیں ! اور حواس اتنے بحال کہ بُلند آواز سے دُرود وسلام اور کَلِمَۂ طَیِّبہ پڑھے جارہے ہیں ! انکا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی زندگی میں ایسا باحَوصَلہ اور باکمال مَرْد پہلی مرتبہ ہی دیکھا ہے ۔کچھ دیر بعد خوش نصیب عاشقِ رسول محمدمُنیر حسین عطاّری علیہ رحمۃُاللّٰہِ الْبَاری نیبارگاہِ محبوب ِباری عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں بصد بیقراری اِس طرح اِستِغاثہ کیا،
یارسولَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آ بھی جایئے
یارسولَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میری مدد فرمایئے
یارسولَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مجھے مُعاف فرما دیجئے
اِس کے بعد بآوازِ بلند لَآ اِلٰہَ اِلَّاا للّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پڑھتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ جی ہاں جو مسلمان حادِثہ میں فوت ہو وہ شَہْید ہے۔ اﷲ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
واسِطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سُنّی مرے
یوں نہ فرمائیں تِرے شاھِد کہ وہ فاجِرگیا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ واقِعہ ان دنوں مختلف اخبارات نے شائع کیا تھا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ شَہْیدِدعوتِ اسلامیمحمدمُنیر حسین عطاری علیہ رحمۃُاللّٰہِ الْبَاری دعوتِ اسلامی کے ذِمّہ دارمُبلِّغ تھے اور حادِثہ کے ایک روز قَبل ہی عاشِقانِ رسول کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلے کے ساتھ سفر کرکے لوٹے تھے ۔ مرحوم روزانہ صدائے مدینہ بھی لگاتے تھے ۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں نمازِ فجر کے لئے مسلمانوں کو جگانا ’’ صدائے مدینہ لگانا‘‘ کہلاتا ہے۔
اَلْحمدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ ایسا لگتا ہیمحمدمُنیر حسین عطاری علیہ رحمۃُاللّٰہِ الْبَاری کی خدمتِ دعوتِ اسلامی رنگ لائی اور انہیں آخِری وَقْت کَلِمَہ نصیب ہو گیا۔ اور جس کو مرتے وَقْت کَلِمَہ نصیب ہو جائے اُس کا آخِرت میں بیڑا پا ر ہے۔ چُنانچِہ نبیِّ رَحْمت، شفیعِ امّت، مالِکِ جنّت، محبوبِ ربُّ العزَّت عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنّت نشان ہے، جس کا آخِری کلام لَآ اِلٰہَ اِلَّاا للّٰہ ُ ہو وہ داخِلِ جنّت ہو گا۔ (ابوداوٗد شریف ج ۳ ص ۱۳۲ رقم الحدیث ۳۱۱۶)
فضل و کرم جس پر بھی ہُوا اُس نے مرتے دَمکَلِمَہ
پڑھ لیا اور جنّت میں گیا لَآ اِلٰہَ اِلَّاا للّٰہ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت (جلد اوّل)باب فیضانِ بسم اللہ ، ص۳۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے ، یہ اُن دنوں کی بات ہے جب بابُ المدینہ کراچی میں مُنْعَقد ہونے والے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے تین روزہ سنّتوں بھرے اجتِماع کی تیاّریاں زور و شور سے جاری تھیں ۔ مَدَنی قافِلے لانے کیلئے مُتَعَدَّد شہروں سے بابُ المدینہ کراچی کیلئے خُصوصی ٹرینوں کا سلسلہ تھا۔ انہیں دنوں ہمارے ایک عزیز فوت ہو گئے ۔ چند روز کے بعد گھر کے کسی فرد نے مرحوم کو خواب میں دیکھ کر جب حال پوچھا تو کہنے لگے، میں نے کراچی میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتِماع میں شرکت کی نیَّت سے خُصوصی ٹرین میں نِشَست بُک کروائی تھی۔ اور اﷲ عَزَّ وَجَلَّ نے اِس سچّی نیّت کے سبب میری مغفِرت فرما دی۔
رَحْمتِ حق’’ بہا‘‘ نہ می جوید رَحْمتِ حق ’’ بہا نہ‘‘ می جوید
( اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت ’’ بہا ‘‘ یعنی قیمت نہیں مانگتی ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمت تو ’’بہانہ ‘‘ڈھونڈتی ہے)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟ اچھی نیَّت کا کس قَدَر بُلند رُتبہ ہے کہ عمل کرنے کا موقع نہ ملنے کے باوُجُود اجتماع میں شرکت کی نیَّت کرنے والے خوش نصیب کی مغفِرت کر دی گئی ۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ، انسان کو چند روز کے عمل سے نہیں اچھی نِیّت سے جنّت حاصِل ہو گی۔ ( کیمیائے سعادت ج۲ص۸۶۱ )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع