30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
میں نثار تیرے کلام پر ملی یوں تو کس کو زباں نہیں
وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو وہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں
تِرے آگے یوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑے بڑے
کوئی جانے منہ میں زباں نہیں نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں
کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جہاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں
اعلی حضرت لکھتے لکھتے جب مقطع پر پہنچے تو ریاست ”نان پارہ “ لفظ کےٹکڑے کردئیے اور لفظ خوبصورت انداز میں استعمال کیا :
کروں مدحِ اہلِ دُوَل رضا پڑے اس بلا میں مِری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین پارۂ ناں نہیں
شعر کا مطلب: ”اہل دول “پیسے والوں کو کہتے ہیں اور پارہ ناں کا مطلب روٹی کا ٹکڑا۔اعلی حضرت کہتے ہیں : اے رضا میں پیسوں والی کی تعریف کروں یہ بلا ہے اور اس بلا میں میری بلا ہی پڑے،میں تو اپنے آقا کا غلام اور بھکاری ہوں میرا دین روٹی کا ٹکڑا نہیں کہ تھوڑے پیسوں کے لئے دین بیچتا پھروں ۔
بس !آج ذہن بنالیجئے جب بھی حرام روزی نظر آئے،گناہ کی محفل دِکھے،غلط اور برے کام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع