30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتی رہے گی پھر وہ جَراثیم کا اَنبار بن جائے گا اور وہ جَراثیم بچے کو کاٹتے رہیں گے جس سے بچہ بے چین ہو گا اور اس کو شدید تکلیف بھی ہو گی جس کے نتیجے میں وہ رونے لگے گا ۔ دیر تک ڈائیپر باندھے رہنے سے بچے کی جِلد لال ہو جاتی ہے ، جِلد پر پھوڑے اور خارش وغیرہ بھی ہو سکتی ہے اس سے بچنے کے لیے ڈائیپر صرف ضَرورت کے تحت ہی باندھا جائے اور تھوڑی دیر بعد کھول دیا جائے ۔ آہستہ آہستہ بچے کو پیشاب وغیرہ کا بتانا بھی سکھانا چاہیے ۔ جب بچہ تھوڑا سمجھ دار ہوتا ہے تو وہ اپنی زبان میں بتاتا ہے جس کو بچے کی ماں سمجھ جاتی ہے کہ اسے پیشاب آیا ہے ، مگر یہ سکھانے کے بعد ہی ممکن ہے ۔
کیا بات تِری مجرم کیا بات بنائی ہے
سُوال : اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے اِس شعر کا مَطلب بیان فرما دیجیے :
مَچلا ہے کہ رَحمت نے اُمّید بندھائی ہے
کیا بات تری مُجرم کیا بات بنائی ہے (مَرکز الاولیا لاہور سے سُوال)
جواب : جیسے ہی مُجرم کو اپنے جُرم پر نَدامت ہوئی اور وہ اِس کی وجہ سے بے قرار ہوگیا تو اسے فوراً رَحمت نے ڈھارَس بندھائی اور تسلی دے دی ۔ تو اس مُجرم کی بھی کیا بات ہے کہ تھوڑی سی نَدامَت اور شَرمِندَگی ہوئی اور اللہ پاک کی رَحمت پر نظر جَما لی اور پیارے مُصْطَفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی شَفاعَت کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا تو اس کا کام ہاتھوں ہاتھ ہوگیا ۔ اِس شعر کے دوسرے مِصرعے میں لفظ”بنائی“ پر سَکْتہ کر کے نون کو اَلِف سے جُدا کر کے ”بَن آئی“ پڑھنا دُرُست نہیں بلکہ نون کو اَلِف کے ساتھ مِلا کر ”بنائی“پڑھا جائے ۔
مَچْلا ہے کہ رَحمت نے اُمید بَندھائی ہے
کیا بات تری مُجرم کیا بات بنائی ہے (حَدائِقِ بخشش)
شیطان کی اِنسان سے دُشمنی کب ہوئی؟
سُوال : شیطان کی اِنسان سے دُشمنی کتنی پُرانی ہے ؟ (مَرکز الاولیا لاہور سے سُوال)
جواب : شیطان کی اِنسان سے کبھی دوستی ہوئی ہی نہیں ہے ۔ شیطان ہمیشہ سے اِنسان کا دُشمن رہا ہے ، یہ اِنسان کا نہ کبھی دوست تھا، نہ ہے اور نہ کبھی ہو گا کیونکہ قرآنِ پاک میں ہے : (اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸))(پ۲، البقرة : ١٦٨)ترجمۂ کنز الایمان : بیشک وہ تمہارا کُھلا دُشمن ہے ۔
سُوال : دُعا کے معنیٰ بتا دیجیے ۔
جواب : دُعا کے لَفظی معنیٰ پکارنا ہے اور ہم جس کو دُعا بولتے ہیں اس کا مَطلب اللہ پاک کی بارگاہ میں دَرخواست کرنا ہوتا ہے ۔
فقراءُ المدینہ کا مطلب کیا ہے ؟
سُوال : آپ نے بنگلہ دیش والوں کو فقراءُ المدینہ فرمایا اس کا کیا مَطلب ہے ؟
جواب : فقراء المدینہ کا مَطلب ہے مدینے کے فقیر ۔ میں نے بنگلہ دیش میں بہت غُربت دیکھی ہے اور وہاں کے کئی غریب لوگ دعوتِ اِسلامی سے وابستہ بھی ہیں ۔ عام طور پر بنگلہ دیش کے باسِیوں کو مدینہ شَریف سے بڑی مَحَبت ہوتی ہے اور یہ غَوثِ پاک سے بھی بہت مَحَبت کرتے ہیں ۔ دُنیا میں بنگلہ دیش واحد مُلک ہے جہاں سالانہ گیارھویں شریف کی گورنمنٹ سَطح پر چھٹی ہوتی ہے اسی وجہ سے میں انہیں پیار سے ”فقراء المدینہ اور فقراء ُالغوثِ الاعظم “بولتا ہوں ۔ واقعی ہم سب مدینے کے بھکاری اور غوثِ پاک کے فقیر ہیں ۔ ”فقراءُ المدینہ“ کسی اَرب کھرب پتی کو بھی بولیں گے تو وہ خوش ہو گا کہ مجھے مدینے کا فقیر بولا ہے اور میں مدینے کا فقیر ہوں بھی کہ میں مدینے کے ٹکڑوں پر پلتا ہوں اس بات کا کوئی بھی عاشقِ رسول مسلمان اِنکار نہیں کرے گا ۔ ہاں! مدینے کے عِلاوہ اگر دُنیا کے کسی ملک کا فقیر بولا جائے کہ تم فُلاں کے فقیر ہو، تو وہ غصے میں آ جائے گا ۔ اگر کوئی مجھے بھی کہہ دے کہ تم فُلاں منسٹر کے فقیر ہو تو میں بھی بَرداشت نہیں کروں گا اور مجھے بھی مَزہ نہیں آئے گا بلکہ دِل آزاری ہو گی ۔
کسی کا اِحسان کیوں اُٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتائیں
تم ہی سے مانگیں گے تم ہی دوگے تمہارے دَر سے ہی لَو لگی ہے
کوئی بندہ کسی کو کچھ دے تو وہ لیتے ہوئے شرمائے گا اور چُھپاکر لے گا لیکن جسے مُصطَفٰے کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم عطا فرمادیں تو وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہے گا کہ یہ مجھے میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے عطا فرمایا ہے ۔ یہی فرق ہے عام فقیر میں اور اس دَر کے فقیر میں تو ہم اِسی دَر کے فقیر ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع