30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ([1]) پھر لوگوں نے گھر میں داخل ہو کر دیکھا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ وفات پاچکے تھے۔ ([2]) (تاریخ الخلفاء ص۱۶۶)
(۲۲) حضرت امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بوقتِ وفات اپنے شاگرد خاص یحییٰ بن یحییٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ سنو ! الحمد للّٰہ الذی اضحک وابکی وامات واحیٰی یعنی اس خدا عَزَّ وَجَلَّ کے لیے حمد ہے جس نے ہمیں کبھی خوشی دے کر ہنسایا اور کبھی غم دیٖ کر رلایا۔ ہم اسی کے حکم سے زندہ رہے اور اسی کے حکم پر جان قربان کرتے ہیں ۔یاد رکھو کہ میں کسی مسلمان کو شریعت کا ایک مسئلہ بتا کر اس کے اعمال کی اصلاح کردینا یا کسی عالم سے ایک مسئلہ پوچھ کر اپنے اعمال کی اصلاح کرلینا ایک سو حج اور ایک سو جہاد سے بہتر سمجھتا ہوں ۔ ([3])
اس کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی آواز بالکل دھیمی پڑگئی اور پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا وصال ہوگیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا سال پیدائش ۹۳ھ اور وفات کا سال ۱۷۹ھ ہے اور قبر شریف جنۃ البقیع مدینہ منورہ میں ہے۔ ([4]) (اکمال وطبقات شعرانی و بستان المحدثین)
(۲۳) حضرت امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرت ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے جلیل القدر شاگرد اور خلیفہ ہارون الرشید عباسی کی حکومت کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) رہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فضائل و مناقب بہت زیادہ ہیں ۔ عین وفات کے وقت آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے گئے کہ کاش!میں اپنی اسی غریبی کی حالت میں مرتا جو شروع میں میری حالت تھی اور میں قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کا عہدہ قبول نہ کرتا۔ الٰہی! عَزَّ وَجَلَّ تو خوب جانتا ہے کہ میں نے کبھی جان بوجھ کر کوئی حرام کام نہیں کیا اور نہ کبھی کوئی درہم حرام کاکھایا۔([5])
عین وفات کے وقت یہ کہہ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی وفات ہوگئی۔ اس کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی آواز نہ سنی گئی۔ وفات سے پہلے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہ وصیت فرمائی کہ میرے مال میں سے چار لاکھ درہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور کوفہ اوربغداد کے محتاجوں کو دے دیئے جائیں ۔(شذرات الذہب لابن عمادوسیرۃ النعمان وغیرہ)
( ۲۴) حضرت ابراہیم نخعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
یہ حضرت امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے دادا استاذ اور کوفہ کے استاذ الفقہاء ہیں ۔عبادت، ریاضت اور خوفِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں بھی ان کا مقام بہت بلند ہے۔ یہ اپنی وفات کے وقت رونے لگے تو کسی نے رونے کا سبب پوچھا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ میں اللہ تَعَالٰی کے قاصد کا انتظارکررہا ہوں کہ وہ مجھے جنت کی خوشخبری سناتا ہے یا جہنم کی وعیدسناتا ہے۔ ([6])
یہ کلمات زبان مبارک سے نکلے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا وصال ہوگیا۔ (احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)
(۲۵)حضرت عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بہت ہی عظیم الشان محدث اور حضرت امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بہت ہی محبوب اور محب شاگرد رشید ہیں ۔ عبادت و ریاضت اور زہد و تقویٰ میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا مرتبہ بہت اعلیٰ ہے ، ان کو ان کے والد کی میراث سے بہت کثیر دولت ملی تھی اور ہمیشہ بہت ناز و نعمت کی زندگی بسر کی تھی اور بہت ہی نفاست پسند امیر کبیر تھے۔
وقت وفات انہوں نے اپنے غلام ’’ نصر‘‘ سے کہا کہ تم مجھے بستر سے اٹھا کرزمین پر رکھ دو اور میرے سر پر خاک ڈال دو۔ تو ’’ نصر‘‘ رو پڑا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ تم رو کیوں رہے ہو تو ’’نصر‘‘ نے عرض کیا کہ اے میرے مولیٰ! میں نے تمام عمر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو نازو نعمت میں زندگی بسر کرتے ہوئے دیکھا ہے اور موت کے وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک مسکین پردیسی کی طرح مرنے کا خیال رکھتے ہیں تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا کہ میں نے خدا عَزَّ وَجَلَّ سے یہ دعا مانگی تھی کہ اے اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ تو مجھے اغنیاء کی زندگی اور فقراء کی موت عطا فرما۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ تم صرف ایک مرتبہ مجھ کو کلمہ طیبہ کی تلقین کرنااور پھر جب تک میں کوئی دوسری بات نہ بولوں دوبارہ مجھے تلقین نہ کرنا۔
چنانچہ نصر نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ہدایت پر عمل کیا۔ پھر حضرت عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے آنکھ کھولی اور ہنسے اور یہ آیت تلاوت کی :
لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ(۶۱)([7])
یعنی ان جیسی نعمتوں کیلیے عمل کرنے والوں کو عمل کرناچاہیے
پھر ایک دم ان کا طائر روح عالم بالا کو پرواز کر گیا۔([8]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۰۹)
(۲۶) حضرت محمد بن منکدر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
[1] ترجمۂ کنزالایمان : یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اورنہ فساد اورعاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔(پ۲۰، القصص: ۸۳)
[2] تاریخ الخلفاء ، الموضوع عہد بنی امیۃ ، عمر بن عبدالعزیز، ص۱۹۶
[3] بستان المحدثین، ص۳۷، ۳۹
[4] تذکرۃالحفاظ، مالک بن انس، ج۱، ص۱۵۷۔ الطبقات الکبری للشعرانی، الامام مالک بن انس، ج۱، ص۷۶
[5]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع