Book Name:Aasan Nekiyan

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود شریف کام آگیا

       قِیامت کے دن کسی مسلمان کی نیکیاں مِیزان(یعنی ترازو) میں ہلکی ہو جائیں گی تو سَروَرِ کائنات، شاہِ موجودات، مَحْبوبِ ربِّ الْارضِِ وَالسَّمٰوٰت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک پرچہ اپنے پاس سے نکال کرنیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیں گے تو اس سے نیکیوں کاپلڑا وَزنی ہو جائے گا۔وہ عَرض کرے گا :  میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کون ہیں ؟حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فرمائیں گے :  میں تیر ا نبی محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) ہوں اور یہ تیرا وہ دُرُودِ پاک ہے جو تُونے مجھ پر پڑھا تھا۔ (موسوعۃ ابن ابی دنیا فی حسن الظن باللّٰہ ج۱ ص۹۱ حدیث۷۹)

     وہ پرچہ جس میں لکھا تھا دُرُود اس نے کبھی

                                                               یہ اُس سے نیکیاں اِس کی بڑھانے آئے ہیں          (سامانِ بخشش، ص۱۲۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 صرف ایک نیکی چاہئے

        حضرتِ سیِّدُناعِکْرَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَرْوی ہے : قِیامت کے دن ایک شخص اپنے باپ کے پاس آ کر کہے گا : اَبو جان!کیا میں آپ کا فرماں بَردار نہ تھا؟کیا میں آپ سیمَحَبَّت بھرا سُلوک نہ کرتا تھا؟ کیا میں آپ کے ساتھ بھلائی نہ کرتا تھا؟ آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں کس مصیبت میں گِرِفتار ہوں !مجھے اپنی نیکیوں میں سے صِرف ایک نیکی عطا کر دیجئے یا میرے ایک گناہ کا بوجھ اُٹھا لیجئے۔باپ کہے گا :  ’’میرے بیٹے! تو نے مجھ سے جو چیز مانگی وہ آسان تو ہے لیکن میں بھی اُسی چیز سے ڈرتا ہوں جس سے تم ڈر رہے ہو۔‘‘اس کے بعد باپ بیٹے کو اپنے اِحسانات یاد دِلاکر یِہی مُطالَبَہ کرے گا تو بیٹا جواب دے گا : آپ نے بَہُت تھوڑی چیز کا سُوال کیا ہے لیکن مجھے بھی اِسی بات کا خوف ہے جس کا آپ کو ڈرہے۔(تفسیر قرطبی، ج۷، الجزء ۱۴، ص۲۴۷)

قِیامت کی گرمی میں سایہ عطاہو     کرم سے تِرے عرش کا یاالٰہی

خُدایا مجھے بے حساب بخش دینا      مِرے غوث کا واسِطہ یاالٰہی

جَوار اپنی جنت میں مجھ کو عطاکر

تِرے پیارے محبوب کا یاالٰہی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ہر نیکی اہم ہے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ قیامت کے دن جب نَفْسانَفْسی اور سَخْت پریشانی کا عالَم ہوگا تو دنیا میں بیٹے کی ہر فرمائش پوری کرنے کا جذبہ رکھنے والا باپ بھی اُسے اپنی ایک نیکی دینے یا اس کے ایک گناہ کا بوجھ اُٹھانے سے صاف اِنکار کردے گا، اسی طرح دنیا میں باپ کے ہر حُکْم کی تعمیل کے لئے کوشاں رہنے والا بیٹااُسے اپنی ایک نیکی دینے یا باپ کا ایک گناہ اپنے ذِمے لینے سے مَنْع کردے گا ۔ اُس وَقْت ہمیں نیکیوں کی صحیح قدروقیمت اورگناہ سے بچنے کی اہمیت معلوم ہوگی ۔ بہرحال کوئی نیکی چھوٹی سمجھ کر چھوڑنی نہیں چاہئے اورکسی گناہ کو معمولی سمجھ کر کرنا نہیں چاہئے تاکہ میدانِ محشر میں پچھتاوے سے بچا جاسکے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بروزِ قیامت نیکی خوشخبریاں سنائے گی

        قیامت کے دن نیکیاں کرنے والے شاداں و فَرحاں جبکہ برائیوں کے عادی حیران وپریشان ہوں گے ، رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِرشاد فرمایا :  بروزِقیامت نیکی اوربدی کولوگوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا ۔ نیکی اپنے کرنے والوں کو بِشارتیں دے گی اوراُن سے بھلائی کا وعدہ کرے گی جبکہ بُرائی کہے گی :  مجھ سے دُور ہوجاؤ، مگروہ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے بلکہ برائی کے ساتھ چمٹیں گے ۔ (المسندللامام احمدبن حنبل، ج۷، ص۱۲۳،  الحدیث  : ۱۹۵۰۴ملخصًا)

گناہوں نے میری کمر توڑ ڈالی         مِرا حَشْر میں ہوگا کیا یا الٰہی

عبادت میں گزرے مِری زندگانی       کَرَم ہو کَرَم یاخدا یاالٰہی

 (وسائلِ بخشش ، ص۷۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

شیر دھاڑتے وَقْت کیا کہتا ہے؟

         حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِرشاد فرمایا :  ’’تمہیں معلوم ہے شیر دھاڑتے وَقْت کیا کہتا ہے؟‘‘ صحابہ کرام رضوانُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِم اَجمعین نے عَرْض کی :  ’’ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  اوراس کا رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بہترجانتے ہیں ۔‘‘ اِرشاد فرمایا : شیر کہتا ہے : اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے کسی نیک شخص پر مُسَلَّط نہ فرمانا۔(الفردوس بماثورالخطاب، باب التاء، ج۱، ص۲۹۷،  الحدیث  : ۲۱۵۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 49

Go To