Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

حدیث ۵۷)  اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہفرماتے ہیں : ’’  ہر فردِاسلام کی خیرخواہی  (یعنی بھلائی چاہنا )   ہرمسلمان پر فرض ہے ۔ ‘‘  (فتاوٰی رضویہ ج ۱۴ ص ۴۱۵)  مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ  الحَنّان فرماتے ہیں : جس مسلمان کی غیبت کی جا رہی ہو، اُس کی عزت بچانے والے کو فرشتہ پلْ صراط پر پروں میں ڈھانپ کر گزارے گا تا کہ دوزخ کی آگ کی تپش اُس تک نہ پہنچ پائے۔ (مراٰۃ ج۶ ص ۵۷۲ ملخصاً)   وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ وَصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔   

غمِ حیات ابھی راحتوں میں ڈھل جائیں

تری عطا کا اشارہ جو ہوگیا یاربّ

 (وسائلِ بخشش ص ۹۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مارے جانے والے ڈاکوؤں کی مَذَمَّت

سُوال : آپ نے ’’  غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘  کے اِقتِباس میں تو ڈاکوؤں ،دہشت گردوں وغیرہ جِنہوں نے لوگوں کا سُکون برباد کرکے رکھ دیا ہے اُن کے قتل ہوجانے یا پھانسی لگ جانے کے بعد ان کی بھی مَذَمَّت کرنے سے مَنْع کردیا !

جواب : میں نے ہر صورت کومَنْع نہیں کیا اور نہ ہی اپنی طرف سے مَنْع کیا،صِرْف حکمِ شریعت بیان کیا ہے،جو مسلمان واقِعی چور یا ڈاکوتھے اور اپنے کیفرِ کردارکو پَہُنچ گئے اب ہو سکے تواُن کیلئے دُعائے مغفِرت کی جائے، اُن کوبِغیر صحیح مقصد کے ہرگز بُرا بھلا نہ کہا جائے کہ احادیثِ مبارَکہ میں اپنے مُردوں کو بُرائی کے ساتھ یاد کرنے کی مُمانَعَت ہے،بلکہ وہ زندہ ہوں اُس وَقت بھی بِلا مَصلَحتِ شَرْعی انہیں بُرا بھلا کہنے کی اِجازت نہیں ،مذَمَّت کی مُتَعَدَّد صورَتوں میں سے بعض ناجائز صورَتیں ہمارے زمانے میں یہ بھی ہیں کہ مَحض ٹائم پاس کرنے، گپیں مارنے ،بُرائی بیان کرنے یامَحض ایک خبر بنانے کے طور پر مذکورہ بالا افراد کو بُرا کہاجاتا ہے، ہاں ،اخبار والے اگر اِس نیّت سے ایسوں کی مذمَّت بھری خبر چھاپیں تا کہ ان کے انجام سے مسلمانوں کو عبرت حاصِل ہو تو جائز بلکہ کارِ ثواب ہے۔ وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ وَصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔   

وہ اِس وَقْت جنّت کی نَہروں میں غوطے لگا رہاہے

          دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُالمدینہ کی مطبوعہ 505 صَفْحات پر مشتمل کتاب، ’’  غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘  صَفْحَہ191پر ’’  سُنَنِ ابوداوٗد ‘‘  کے حوالے سے مَرقوم ہے : حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  ماعِزاَسْلَمیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب رَجم کیا گیا تھا، (یعنی زِنا کی  ’’ حد ‘‘  میں اِتنے پتّھر مارے گئے کہ وفات پا چکے تھے)  دو شخص آپَس میں باتیں کرنے لگے، ایک نے دوسرے سے کہا: اسے تو دیکھو کہ اللہ عَزَّوَجَل نے اس کی پردہ پوشی کی تھی مگر اس کے نَفْس نے نہ چھوڑا ، رُجِمَ رَجْمَ الْکَلْبِ یعنی کُتّے کی طرح رَجْم کیا گیا۔حُضُورِ پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سن کرسُکُوت فرمایا  (یعنی خاموش رہے) ۔کچھ دیر تک چلتے رہے، راستے میں مَرا ہوا گدھا ملا جو پاؤں پھیلائے ہوئے تھا۔ سرکارِ والا تبار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان دونوں شخصوں سے فرمایا: جاؤ اِس مُردار گدھے کا گوشت کھاؤ۔ انھوں نے عرض کی: یا نبیَّ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!  اِسے کون کھائے گا!  ارشاد فرمایا: وہ جو تم نے اپنے بھائی کی آبروریزی کی، وہ اس گدھے کے کھانے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ قسم ہے اُس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!  وہ  (یعنی ماعِز )  اِس وَقت جنَّت کی نَہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔ ( ابوداوٗد ج۴ ص۱۹۷حدیث ۴۴۲۸ )  وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ وَصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔   

تُو مرنے والے مسلماں کو مت بُرا کہنا

 



Total Pages: 24

Go To