Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

{13} اِلیکڑانک میڈیا کے گناہوں بھرے پروگراموں کی فِہرس شائع نہ کی جائے۔

 {14} شَرْعی طورپر جُرم ثابت ہوجانے کی صورت میں بھی چُونکہ شخصِ مُعَیَّن کی بِلامَصلَحَت خبر مُشتَہَر کرنے کی شَرْعاً اجازت نہیں لہٰذا اُس کی پردہ پوشی کی جائے اورمُمکِنہ صورت میں نجی طورپر نیکی کی دعوت کے ذَرِیعے ایسے مجرم کی اِصلاح کی صُورت نکالی جائے۔ ڈھندورا پیٹنے اور اخباروں میں خبریں چمکانے سے سُدھار کے بجائے اکثر بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور بسااوقات ضِد میں آکر  ’’  چھوٹا مجرِم  ‘‘  بڑے مجرم کا رُوپ دھار لیتا ہے !  

 {15} جانداروں کی تصویریں نہ چھاپی جائیں  (جوعُلماءِ کرام مووی اور تصویر میں فرق کرتے ہوئے مُووی کو جائز کہتے ہیں انہیں کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی ’’  مَدَنی چینل  ‘‘ کے ذَرِیعے دُنیا بھر میں اسلام کی خدمت کرنے میں کوشاں ہے)

 {16} بہتر یہ ہے کہ اخبار میں آیات ِ قُراٰنیہ اور ان کا ترجَمہ نہ چھاپا جائے کیوں کہ جہاں آیت یا اس کا ترجَمہ لکھا ہو وہاں اور اُس کے عین پیچھے بِغیر طہارت کے چُھونا حرام ہے اور اکثر لوگ بے وُضو اخبار پڑھتے ہوں گے اور مسئلہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے چُھونے کے گناہ میں پڑ تے ہوں گے۔

میں تحریر سے دِیں کا ڈنکا بجادوں

عطا کر دے ایسا قلم یاالٰہی

 (وسائلِ بخشش ص۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اخبارکے دفتر میں کام کرنا کیسا؟

سُوال: گناہوں بھرے اخبار کے دفتر میں کام کرنا اور اخبار کی چھپائی وغیرہ میں مُعاوَنَت کرنا کیسا؟  تنخواہ جائز ہوگی یاناجائز؟

جواب: گناہوں بھرا اخبار مکمَّل طورپر گناہوں بھرا نہیں ہوتا، اس میں جائز تحریرات بھی شامل ہوتی ہیں ، اگر صِرْف جائز مَضامین کی نوکری ہے تو جائز اور اِس کی تنخواہ بھی جائز اور اگر ناجائز کام ہی کرنا پڑتا ہے تو نوکری بھی ناجائز اور تنخواہ بھی ناجائز ۔ اگر دونوں طرح کے کام کرنے پڑتے ہیں تو جتنا جائز کام کیا اُس پر ملنے والی اُجرت جائز اور جتنا ناجائز کام کیا اتنی اُجرت ناجائز۔ مذکورہ دفتر میں ایسا کام کرنا جائز ہے جس میں گناہ میں کسی طرح سے مدد نہ کرنی پڑتی ہو۔ مَثَلاً چوکیداری وغیر ہ ۔

اخبار بیچنا کیسا؟

سُوال: اَخباربیچناجائزہے یانہیں ؟

جواب: وہ اخبار جو بُنیادی طور پر خبروں پر مشتمل ہولیکن کچھ حصّہ ہر قسم کے اشتہارات پربھی مشتمل ہو ان کا بیچنا اخبار فروشوں کیلئے جائز ہے اورآمدنی بھی حلال ہے جبکہ جو اخبار بنیادی طور پر فلموں یا ناجائز کاموں کی تشہیر ہی کیلئے ہوں ان کا بیچناناجائز ہے۔ 

رزق حلال دے مجھے اے میرے کبریا

دیتا ہوں تجھ کو واسِطہ تیرے حبیب کا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

طالبِ غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و

بے حساب  جنّت الفردوس  میں آقا کا پڑوس

۶شعبان المعظم۱۴۳۳ھ

2012-6-27



Total Pages: 24

Go To