Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

فائنل کرناپھر چھاپنا وغیرہ مشکل مگر پھاڑ کر بگاڑ دینا آسان، اِسی طرح آخِرت کو بھی سمجھئے کہ اِسے بہتربنانے کیلئے خوب عبادت و رِیاضت کرنی،ہر گناہ سے بچنا اور خواہِشاتِ نفسانی مارنی ہوتی ہیں جبکہ بگاڑنانہایت آسان ہے جیسا کہ شیطان نے لاکھوں سال عبادت کر کے ایک مقام حاصِل کیا تھا مگر تکبُّر کے باعِث نبی کی توہین کر کے لمحے بھر میں آخِرت بگاڑ لی اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنَّمی ہو گیا۔ ’’ اللہقدیرعَزَّ وَجَلَّ کی خُفْیہ تدبیر  ‘‘ سے لرزہ بَراَندام رہتے ہوئے ہر مُعامَلے میں آخِرت کی بھلائی کی طرف نظر رکھنا ہر مسلمان کیلئے ضَروری ہے ۔ پارہ 28سُوْرَۃُ الْحَشْر آیت نمبر 18 میں فرمانِ الٰہی ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-

ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو!  اللہسے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کیلئے کیا آگے بھیجا۔

کچھ نیکیاں کمالے جلد آخِرت بنالے

کوئی نہیں بھروسا اے بھائی!  زندَگی کا

 (وسائلِ بخشش ص۱۹۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

صَحافی کہیں آپ کے مُخالِف نہ ہو جائیں

سُوال: آپ کو لگتا نہیں کہ آپ کے اِس طرح کے جوابات سے صَحافی حضرات آپ کے مخالِف ہو جائیں گے؟

جواب: میں صِرْف اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والے مسلمانوں سے مخاطِب ہوں ، میں نے جو کچھ عرض کیا ہے میرا حُسنِ ظن ہے کہ قلبِ سیلم رکھنے والا ہر باضَمیر صَحافی اُس کو دُرُست تسلیم کریگا۔ میں نے ملک و ملّت اور آخِرت کی بھلائی کی باتیں ہی تو عرض کی ہیں ، جب شریعتِ اسلامیہ سے ہٹ کربلکہ مُلکی قانون کے بھی خلاف کوئی کلام نہیں کیا تو کوئی مسلمان صَحافی مجھ سے کیوں اِختِلاف کرنے لگا! نفس کی حیلہ بازیوں میں آ کر ،غیر شَرْعی مَصلَحتوں کو آڑ بنا کر میری طرف سے پیش کردہ خیرخواہا نہ اسلامی اَحکامات کی مخالَفَت کر کے کوئی مسلمان اپنی آخِرت کیوں بگاڑے گا! ہاں خدانخواستہ میں نے کوئی بات ملکی قانون سے ٹکرانے والی یا خلافِ شریعت کر دی ہے تو برائے کرم!  قانونی اور شَرْعی دلائل کے ساتھ میری اِصلاح فرما دیجئے مجھے اپنے مَوقِف پر بِلا وجہ اَڑتا نہیں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شکریہ کے ساتھ رُجوع کرتا پائیں گے۔ بے شک میں مانتا ہوں کہ بے راہ رَوی کا دَور دَورہ ہے اور پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے اِس لئے شاید میری یہ التجائیں صد ابَصَحرا بن کر ہی رہ جائیں اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ کوئی نادان دوست، اَدھوری باتیں سُن کریا سُنی سنائی باتوں میں آکر مجھ سے ’’ روٹھ ‘‘  ہی جائے۔ ایسوں کیلئے میں صِرْف کسی کایہ شعر ہی پڑھ سکتا ہوں :    ؎

ہم  ’’ دعا ‘‘  لکھتے رہے وہ ’’ دغا ‘‘  پڑھتے رہے

ایک نُقطے نے ہمیں  ’’  مَحرم ‘‘  سے ’’ مُجرم ‘‘  کر دیا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اخبار کیسا ہونا چاہئے

سُوال: اخبار نکالنا جائز ہے یا نہیں ؟  اگرجائز ہے تو اخبار کیسا ہونا چاہئے ؟  اِس کی اشاعت کیلئے کچھ مَدَنی پھول دے دیجئے۔

 



Total Pages: 24

Go To