Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

محمد ابنِ سیرین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِیْن اپنے گھر تشریف لائے، ایک ہزار دِرہم اُٹھائے اور اُس دُکھیارے کے پاس آئے اور سارے درہم اُسے عطا فرمائے اور فرمایا : 500دِرہم سے قَرض ادا کیجئے اور 500 گھر کے خَرْچ میں اِستِعمال فرمائیے۔ پھر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے عَہْد کیا کہ ’’  کسی سے حال نہیں  پوچھوں گا۔ ‘‘  حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمدبن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی یہ حکایت نَقْل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ’’ حضرتِ سیِّدُناامام محمد ابنِ سِیرِینعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِیْننے اِس خوف سے آیَندہ کسی سے حال دریافْتْ نہ کرنے کا عَہْد کیاکہ اگرخودپوچھ کر خبر معلوم کرنے کے بعد میں نے اُس کی مدد نہ کی تو پوچھنے کے مُعامَلے میں منافِق ٹھہروں گا۔ ‘‘ وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔  (کیمیائے سعادت،ج۱ ص ۴۰۸ )  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

مجھے دے خود کو بھی اور ساری دنیا والوں کو

سُدھارنے کی تڑپ اور حوصَلہ یاربّ

 (وسائلِ بخشش ص ۹۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اخبار پڑھنا کیسا؟

سُوال: اَخباربینی کرنا کیسا؟

جواب: جو اَخبار شَرْعی تقاضوں کے مطابِق ہو اُسے پڑھناجائز ہے اور جو اَخبار ایسا نہیں اُس کا مُطالَعہ صِرْف اُس کے لئے جائز ہے جو بے پردہ عورَتوں کی تصاویر اور فلمی اشتِہارات کے فُحش مناظِر وغیرہ سے نگاہوں کی حفاظت پر قدرت رکھتا ہو، گناہوں بھری تحریرات وغیرہ بِلااجازت ِشَرْعی نہ پڑھتا ہو۔بعض اخبارات میں بسااوقات واہِیات وخُرافات کے ساتھ ساتھ گمراہ کُن کلمات بلکہ کبھی تو مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکفریات تک لکھے ہوتے ہیں !  ایسے اخبارات پڑھنے والے کے خیالات میں جو فسادات پیدا ہو سکتے ہیں وہ ہر باشُعُور شخص سمجھ سکتا ہے۔ یہاں یہ بات عرض کرتا چلوں اگر کبھی کسی عالمِ دین بلکہ عام آدَمی کو بھی اخبار بینی کرتاپائیں تو ہرگز بدگُمانی  نہ فرمائیں بلکہ ذہن میں حسنِ ظن جمائیں کہ یہ شَرْعی احتیاطوں کو مَلحوظ رکھتے ہوئے مُطالَعہ کر رہے ہوں گے۔ عام آدَمی کیلئے ایسا اَخبار جو گناہوں بھرا ہو اُسے پڑھنے کے دَوران خود کو معصیت وگمراہی سے بچانا نہایت مشکل ہے اور چُونکہ بعض اوقات غیر محتاط اخبارات کی تحریرات میں کُفریات بھی ہوتے ہیں اِس لئے ان کا مُطالَعہ مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکُفْر کے گہرے گڑھے میں جا پڑنے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ رہے کُفّار کے اخبار تو ان کی طرف توعام مسلمان کو دیکھنا بھی نہیں چاہئے کہ جب مسلمانوں کے کئی اخباربے قَیدی کا شکار ہیں تو اُن کا کیا پوچھنا! ظاہِر ہے ان میں تو کُفریات کی بھر مار ہو گی اور وہ اپنے باطِل مذہب کا پَرچار بھی کرتے ہوں گے۔ بَہَرحال مسلمان کوصِرْف اخبار بینی ہی نہیں ہر کام کے آغاز سے قبل اُس کے اُخرَوی  (اُخ۔رَ۔وی)  انجام پر غور کر لینا چاہئے اور ہر اُس کام سے بچنا چاہئے جس میں آخِرت کے بگاڑ کا اندیشہ ہو۔ یاد رکھئے !  ’’  بنانا ‘‘ بَہُت مشکل ہے جبکہ ’’  بگاڑنا ‘‘  نہایت آسان۔دیکھئے !  مکان بنانا کس قَدَر دشوارکام ہے مگر اِسے گِرانا ہو تو آن کی آن میں گرا دیا جاتا ہے ! اسی طرح لکھنا یا نقشہ وغیرہ بنانا مشکِل اُسے بگاڑ دینا نہایت آسان، فرنیچر بنانا مشکل اُسے توڑ پھوڑ کر بگاڑنا آسان ، کھانا پکانا مشکل پکے ہوئے کو بگاڑنا آسان، کسی کو قریب کر کے دوست بنانابَہُت مشکل مگر دو لفظ مَثَلاً  ’’  دَفْعْ ہو جا!  ‘‘  کہہ کر دوستی بگاڑ دینابالکل آسان،اَخبار کو مختلف مَراحِل سے گزار کر



Total Pages: 24

Go To