Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

جواب: T.V.چینل ،اخبار ،ہفت روزہ، ماہنامہ وغیرہ کے مالِکان ، مدیران وذمّے داران کو علمِ دین کے زیور سے آراستہ ہونا چاہئے یاکم از کم  ’’ محتاط فِی الدّین ہوں  ‘‘  اور عُلَماءِ کرام کے ماتَحْت رہتے ہوئے اُن سے رہنُمائی حاصِل کرکے چینل چلاتے یا اخبار وغیرہ نکالتے ہوں ،یہ لوگ اگر علمِ دین سے عاری ، خوفِ خدا سے خالی، آزاد خیال اور  ’’  بے لگام ‘‘  ہوئے تواُن کا چینل اخبار یاماہنامہ وغیرہ مسلمانوں کیلئے بے عملی بلکہ گمراہی کا آلہ ثابِت ہو سکتا ہے۔

اللہ! اِس سے پہلے ایماں پہ موت دیدے

نقصاں مِرے سبب سے ہو سنّتِ نبی کا

 (وسائلِ بخشش ص۱۹۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

لوگوں کے حالات کی معلومات رکھنا

سُوال : لوگوں کے موجودہ حالات سے باخبر رہنے میں کوئی مُضایَقہ تو نہیں ؟

جواب : جائِز ذرائِع سے مُفید و جائز معلومات حاصِل کرنے میں کوئی مُضایَقہ نہیں ، بلکہ اچھّی نیّتیں ہوں تو ثواب ملے گا۔  ’’ شَمائلِ ترمِذی ‘‘  میں حضرتِ سیِّدُناہِند بن ابی ہالہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کردہ ایک طویل حدیث میں یہ بھی ہے کہ یَتَفَقَّدُاَصْحَابَہٗ  وَیَسْأَلُ النَّاسَ عَمَّا فِی النَّاسِ یعنی  شَہَنْشاہِ خیرُالْاَنام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَصَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَانکے حالات کی معلومات فرماتے اور لوگوں میں ہونے والے واقِعات کے متعلِّق اِستِفسارات (یعنی پوچھ گچھ)  کرتے۔  (شَمائل تِرمذی ص۱۹۲)  حضرت عَلَّامہعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِیاس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَصَحابہ جو صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَانحاضِر نہ ہوتے اُن کے بارے میں دریافْتْ فرماتے، اگر کوئی بیمار ہوتاتو اُس کی عیادت فرماتے یا کوئی مسافِر ہوتا تو اُس کے لیے دُعا کرتے ، اگر کسی کا انتِقال ہو جاتا تواُس کے لیے مغفِرت کی دُعافرماتے اور لوگوں کے مُعامَلات کی تحقیقات کر کے ان کی اِصلاح فرماتے۔(جمع الوسائل ج ۲ ص ۱۷۷) وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خبریں معلوم کرنے کی اچّھی اچّھی نیّتیں

سُوال : خبریں معلوم کرنے کیلئے کیا کیا اچھّی نیَّتیں ہونی چاہئیں ؟

جواب : ہر جائزکام سے قبل حسبِ موقع اچھّی اچھّی نیَّتیں کرلینی چاہئیں ۔کسی فرد کے بارے میں جائز معلومات حاصِل کرنے میں اِس طرح  نیَّتیں کی جاسکتی ہیں ۔مَثَلاً اِس کے بارے میں اچھّی خبر سُنوں گا تو مَاشَاءَ اللہ،بَارَکَ اللہ کہوں گا، اس کادل خوش کرنے کیلئے مُبارَکباد پیش کروں گا، اگر یہ پریشان ہوا تو تسلّی دے کر اِس کی دلجوئی کروں گا۔ ممکن ہوا تو اِس کی اِمداد کروں گا،ضَرورتاً اچّھا مشورہ دوں گا،سفر       پر ہوا تو دُعا کروں گا ۔ بیمار ہوا تو عیادت یا دعائے شفا یا دونوں دوں گا۔ وغیرہ ۔

خبرمعلوم کرنے کی نِرالی حِکایت

                    کسی کی خیر خبر معلوم کرنے پر اگر وہ حاجت مَند ظاہِر ہو تو ممکِنہ صورت میں اُس کی مدد کرنی چاہئے۔  ’’ کیمیائے سعادت ‘‘  میں ہے : سَیِّدُ الْمُعَبِّرِین حضرتِ سیِّدُناامام محمد ابنِ سِیرِینعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِیْن نے ایک آدَمی سے پوچھا : کیا حال ہے؟  جوابدیا :  ( بہت بُرا حال ہے کہ)  کثیرُ العِیال ہوں ،  (یعنی بال بچّے زیادہ ہیں )  اَخراجات پاس نہیں ،اوپر سے 500دِرْہم کا قرضداربھی ہوں ، یہ سُن کر حضرتِ سیِّدُناامام



Total Pages: 24

Go To