Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

موجودہ صَحافت کی دوقِسمیں

سُوال : صَحافت کی کتنی قِسمیں ہیں ؟

جواب : آج کل صَحافت دو حصّوں میں مُنْقَسِم ہے : (۱)  پرنٹ میڈیایعنی طَباعتی و اشاعَتی ذرائع اِبلاغ۔اخبارات ،رسائل وغیرہ (۲)  الیکٹرانک میڈیا۔یعنی برقی ذرائع اِبلاغ ۔ ریڈیو ۔ٹی وی۔انٹر نیٹ وغیرہ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دُنیا کاسب سے پہلا اخبار

سُوال : کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ دُنیا میں سب سے پہلا اخبار کہاں سے اور کون سا نکلا؟

جواب : اَخبار کی تاریخ بَہُت پُرانی ہے ،ایک اندازے کے مطابق   104؁ء میں چینکے اندر کاغذ کی اِیجاد ہوئی ،سب سے پہلا چھاپہ خانہ  (Printing Press) وہیں بنا اورایک تحقیق کے مطابِق سب سے پہلا مطبوعہ اخبار بھی چین ہی میں بَنام  ’’ گزٹ ٹی پاؤ ‘‘   ( یعنی مَحَل کی خبریں )  جاری ہوا۔ بَرِّعظیم پاک وہند کے پہلے اردو اخبار کا نام  ’’ جامِ جہاں نُما  ‘‘ ہے جس کا سنِ اشاعت مارچ 1822ء ہے ۔وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ وَصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خودکُشی کی خبریں

سُوال : سنا ہے آپ  ’’ خودکُشی ‘‘  کی وارِدات کی خبر اخبار میں شائِع کرنے سے اختِلاف رکھتے ہیں ؟

جواب : مَع نام و پہچان خو د کُشی کرنے والے مسلمان کی خبر کی اشاعت چُونکہ خلافِ شریعت ہے اِس لئے اِس انداز پر آنے والی خبرسے اِختِلاف ہے ۔ اِس ضِمْن میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک،  ’’ دعوتِ اسلامی  ‘‘  کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 505 صَفْحات پر مشتمل کتاب،  ’’  غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘  صَفْحَہ 192 کا اِقتِباس مُلاحَظہ ہو : فوت شدہ لوگوں کی بُرائی کرنا بھی غیبت ہے، بعض اَوقات بڑا صَبْر آزما مُعامَلہ ہوتا ہے ۔ مَثَلاً ڈاکو، دَہشت گرد، اپنے عزیز کے قاتل وغیرہ قتل کر دیئے جائیں یا انہیں پھانسی لگا دی جائے توکئی لوگ (مَقْتُولین کی بے سبب مَذَمّت کر کے)  غیبت کے گناہ میں پڑ ہی جاتے ہیں ۔  اِسی طرح خود کُشی کرنے والےمسلمان کے بارے میں بِلا اجازتِ شَرْعی یہ کہدینا کہ  ’’  فُلاں نے خود کُشی کی  ‘‘  یہ غیبت ہے ۔لہٰذانام و پہچان کے ساتھ کسی مسلمان کی خود کُشی کی اخبار میں خبر بھی نہ لگائی جائے کہ اس سے مرنے والے کی غیبت بھی ہوتی اور اس کے ساتھ ساتھ مرحوم کے اَہْل وعِیال کی عزّت پر بھی بٹّا لگتا ہے۔  (اور اگر خبر لگائی مَثَلاً  ’’  فُلاں نے فُلاں کو قَتْل کر کے ‘‘  یا ’’  جُوا میں بڑی رقم ہار کر خود کشی کر لی۔ ‘‘ تو ایسی خبر سے مرحوم کے خود کُشی کرنے سے قبل کا عیب بھی کُھلتا ہے جو کہ خبر لگانے والو ں کے حق میں دو غیبتوں یعنی گناہ دَر گناہ کا باعِث بنتا ہے۔ بلکہ اِس طرح کی خبروں کی اشاعت سے مَعَاذَ اللہ گناہوں اور عذابوں کی کثرت کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے کیوں کہ اخبار کے ذَرِیعے ایسی خبریں ہزاروں ، لاکھوں افراد تک پہنچتی ہیں ۔ وَالعِیاذُ بِاللہِ تعالٰی)  ہاں ، اِس انداز میں تذکِرہ کیا (یا اخبار میں خبر لگائی ) کہ پڑھنے یا سننے والے خود کشی کرنے والے کو پہچان ہی نہ پائے کہ وہ کون تھا تو حَرَج نہیں مگر یہ ذِہْن میں رہے کہ نام نہ لیا مگر گاؤں ، مَحَلّہ ، برادری، اوقات ،خود کشی کا  (سبب و) اندازوغیرہ بیان کرنے سے خود کُشی کرنے والے کی شناخت ممکن ہے، لہٰذا پہچان ہو جائے اِس انداز میں تذکِرہ بھی غیبت میں شمار ہو گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان



Total Pages: 24

Go To