Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

سے زیادہ ہو جائے اور اِس کے باوُجُود اُس کی بُرائیوں پر اُس کی اچّھائیاں غالِب نہ ہوں تو اُسے جہنَّم کی آگ میں جانے کے لئے تیّار رہنا چاہئے۔ ‘‘   ( تفسیرروح البیان،سورۂ بقرۃ،تحت الایۃ : ۲۳۲ ، ج۱، ص۳۶۳ )    (اے بیٹے! ) سمجھدار اور عقلمند کے لئے اتنی ہی نصیحت کافی ہے۔

گو یہ بندہ نکمّا ہے بیکار             اِس سے لے فَضل سے ربِّ غفّار

کام وہ جس میں تیری رِضا ہے     یاخدا تجھ سے میری دُعا ہے

 (وسائلِ بخشش ص۱۳۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شیطان افواہ اُڑاتا ہے

سُوال: اُڑتی ہوئی خبرملی کہ فُلاں فُلاں گروپ آپَس میں مُتصادِم ہو گئے ہیں اور باہم لڑائی چِھڑ گئی ہے ایسی خبریں چھاپنا کیسا؟

جواب: ایسی خبریں تومُصَدَّقہ ( یعنی تصدیق شدہ)  ہوں تب بھی چھاپنے میں نقصان کے سوا کچھ نہیں کہ عُمُوماًاِس طرح ہنگامے بڑھتے اور جان و مال کی ہلاکتوں اور بربادیوں میں اضافہ ہو تا ہے۔  ’’  اَمْنِ عامّہ میں خلل ڈالنے کی کوشش  ‘‘ پر مبنی خبریں تو خود ہمارے مُلکی قانون کے بھی خلاف ہیں ۔ رہی اُڑتی ہوئی خبر جسے   ’’  اَفواہ ‘‘  کہتے ہیں ،اِس پرتو اعتِماد کرنا ہی نہیں چاہئے، ایسی افواہیں شیطان بھی انسان کی شکل میں آ کر اُڑاتا ہے۔ چُنانچِہ حضرتِ  (سیِّدُنا)  ابنِ مسعود  (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)  فرماتے ہیں : ’’ شیطان آدَمی کی صورت اختیار کر کے لوگوں کے پاس آتا ہے اورانہیں کسی جھوٹی بات کی خبر دیتا ہے۔ لوگ پھیل جاتے ہیں تو اُن میں سے کوئی کہتا ہے کہ میں نے ایک شخص کوسُنا جس کی صورت پہچانتا ہوں  (مگر) یہ نہیں جانتا کہ اُس کا نام کیا ہے،وہ یہ کہتا ہے۔ ‘‘   (مقدمہ مسلم ص۹)

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد اَفواہ کے سبب ہونے والا فَساد

        مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان  مذکورہ روایت کے اِس حصّے، ’’ فَیُحَدِّثُھُمْ بِالْحَدِیْثِ مِنَ الْکَذِبِ ‘‘  ( ترجمہ:  ’’ انہیں کسی جھوٹی بات کی خبر دیتا ہے ‘‘ ) کے تَحْت فرماتے ہیں : (یعنی)  ’’  کسی واقِعے کی جھوٹی خبر یا کسی مسلمان پر بُہتان یا فَساد وشرارت کی خبرجس کی اَصْل  ( یعنی حقیقت )  کچھ نہ ہو۔ ‘‘  مفتی صاحِب اِس روایت کے تَحْت مزیدفرماتے ہیں : حدیث بِالکل ظاہِری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضَرورت نہیں ،یہ بارہا (کا)  تجرِبہ ہے۔ (چُنانچِہ )   ماہِ رَمَضان کی ستائیسویں تاریخ جُمُعہ کے دن یعنی 14اگست 1947 ؁کو پاکستا ن بنا۔ عیدُالفِطْر کے دن نَماز عید کے وَقْت تمام شہروں بلکہ دیہاتوں  (تک)  میں خبر اُڑ گئی کہ سِکھ مُسلَّح ہوکر اِس بستی پر حملہ آور ہو رہے ہیں  (اور)  قریب ہی آچکے ہیں !  ہر گھر ہر مَحَلّے ہر جگہ شور مچ گیا، لوگ تیّاریاں کر کے نکل آئے۔ حالانکہ بات غَلَط تھی ہرجگہ لوگوں نے (یہی)  کہا کہ ’’  ابھی ایک آدَمی کہہ گیا ہے خبر نہیں کون تھا!   ‘‘ پھر جوفَساد شروع ہوا وہ سب نے دیکھ لیا ،خدا کی پناہ!  اس (حدیثِ پاک میں دی ہوئی خبر)  کاظُہُور ہوتا رَہتا ہے۔شیطان چُھپ کر بھی دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہتا ہے اور ظاہِر ہو کرشکلِ انسانی میں نُمُودار ہو کر بھی۔ لہٰذا ہر خبربِغیر تحقیق نہیں پھیلانی چاہئے ۔اس کامطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کبھی شیطان عالِم آدَمی کی شکل میں آ کر  (بھی)  جھوٹی حدیثیں بیان کر جاتاہے، لوگوں میں وہ جھوٹی حدیثیں پھیل جاتی ہیں ۔ اس لیے حدیث کو کتاب میں دیکھ کر اَسناد وغیرہ معلوم کر کے بیان کرناچاہئے۔مفتی صاحِب بیان کردہ حدیثِ مبارَک کے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں : اگر چِہ فرمان حضرتِ ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا ہے مگر ’’  مرفُوع حدیث ‘‘  کے حکم میں ہے کہ ایسی بات صَحابی اپنے خیال یا رائے سے بیان نہیں فرما سکتے حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)  سے سن کر ہی کہہ رہے ہیں ۔ (مراۃ ج۶ ص ۴۷۷ )  اِس حدیثِ پاک اور اس کی شَرْح سے اُن لوگوں کو بھی درس حاصِل کرنا چاہئے ، جوموبائل فون پر s.m.s.کے ذَرِیعے موصول ہونے والی طرح طرح کی حدیثیں



Total Pages: 24

Go To