Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

سُوال: کسی شخص کے بارے میں کوئی بُرائی کی خبرعوام میں مشہور ہوجائے تو اُسے چھاپا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب: صرف اِس بنیاد پر نہیں چھاپ سکتے۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے: کَفٰی بِالْمَرْءِ کَذِباً اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَاسَمِعَ۔ یعنی کسی انسان کے جھوٹا ہونے کویہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات  (بِلاتحقیق )  بیان کردے ۔ ( مُقَدّمہ صَحیح مُسلِم ص۸ حدیث۵) کسی کے گناہ کی صِرف شُہرت ہوجانا اُس کے گنہگار ہونے کی ہرگز دلیل نہیں ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلِسنّت ،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن نےفتاوٰی رضویہ جلد 24صَفْحَہ 106تا108پر زبردست حنفی عالم حضرت علّامہ عارِف بِاللہ ناصِح فِی اللہ سیِّدی عبدالغنی نابُلُسی قُدِّسَ سِرُّہُ القُدسی کا طویل ارشادنَقل کیاہے اس کے ایک حصّے کاخُلاصہ ہے: کسی کوصِرْف اِس وَجْہْ سے گنہگار کہنا جائز نہیں کہ بَہُت سارے لوگ اُس کی طرف گناہ مَنسوب کر رہے ہوں اور یوں بھی آج کل لوگوں میں بُغْض وکِینہ اور حسد و جھوٹ کی کثرت ہے۔ بعض اَوقات آدَمی جَہالت ولا علمی کے سبب بھی کسی پر الزام رکھ دیتا ہے اور لوگوں میں اِس کا تذکِرہ بھی کر دیتا ہے اور لوگ بھی اُس کے حوالے سے آگے بیان کر دیتے ہیں ۔ شُدہ شُدہ یہ خبر کسی ایسے شخص تک جا پہنچتی ہے جو کہ اپنے علم پرمغرور اور فضلِ خداوندی سے دُور ہوتا ہے ، وہ لاعلمی کے سبب بیان کردہ اُس ’’  گناہ ‘‘  کا بِلا کسی تحقیق اس طرح تذکِرہ کرتا ہے کہ مجھے یہ خبر تسَلْسُل کے ساتھ ملی ہے۔ حالانکہ جس کی طرف گناہ کی نسبت کی جا رہی ہوتی ہے اُس غریب کو خواب میں بھی اِس بات کی خبر نہیں ہوتی!  مزید فرماتے ہیں :  ’’ جب کسی شخص سے بطریقِ تواتُر یا مُشاہَدہ  (یعنی آنکھوں دیکھا)   گناہ ثابت بھی ہو جائے تب بھی اِس کا اظہار بند کردے کیونکہ لوگوں میں بطورِ غیبت کسی کے گناہ کا تذکِرہ حرام ہے اِس لئے کہ غیبت سچّی بھی حرام ہے۔ ‘‘ وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

عیبوں کو عیب جُو کی نظر ڈھونڈتی ہے پَر

ہر خوش نظر کو آتی ہیں اچّھائیاں نظر

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کیا ہر خبر چھاپنے سے قبل خوب تحقیق کرنی ہو گی ؟

سُوال: توکیاہر خبر چھاپنے کیلئے خوب تحقیق کرنی ہو گی ؟

جواب: ایسی جائز و بے ضَرر خبر جو کسی فرد یا قوم یا اِدارے وغیرہ کی مَذَمّت یا مَضَرَّت یا مَذَلَّت پر مبنی نہ ہو ، جس میں کسی قسم کی شَرْعی خامی یا فتنے یا امْنِ عامّہ میں خَلَل کا شائبہ نہ ہو، اپنے مُلک کاکوئی قانون بھی نہ ٹوٹتا ہو، کمزور قول ملنے پر بھی چھاپی جا سکتی ہے۔البتّہ لایعنی خبروں ، غیر مفید نظموں اور فُضُول مضمونوں اور بیکار چُٹکُلوں سے بچنا مُناسِب ہے ۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے: اِنَّ مِنْ حُسْنِ اِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَالَایَعْنِیْہِ۔یعنی   فُضول باتیں تَرْک کر دینا انسان کے اسلام کی خوبی سے ہے۔ (تِرمذی ج۴  ص۱۸۸۵حدیث۲۳۲۵)  دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہکی مطبوعہ63 صَفحات پر مشتمل کتاب ،   ’’  بیٹے کو نصیحت ‘‘  صَفْحَہ 9تا10پرحُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں : اے پیارے بیٹے ! حضور نبیِّکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیمعَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِيْمنے اپنی امّت کو جو نصیحتیں اِرشاد فرمائیں اُن میں سے ایک مہَکتامدنی پھول یہ (بھی)  ہے : ’’ بندے کا غیر مفید کاموں میں مشغول ہونا اِس بات کی علامت ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اِس سے اپنی نظرِ عنایت پھیر لی ہے اور جس مقصد کے لئے بندے کو پیدا کیا گیا ہے اگر اس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اس کے علاوہ  (یعنی اُس مقصد سے ہٹ کر) گزر گیا تو وہ  (بندہ) اِس بات کا حقدار ہے کہ اُس کی حسرت طویل ہو جائے اور جس کی عمر40 سال



Total Pages: 24

Go To