Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

        پیارے پیارے صَحافی اسلامی بھائیو! اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں دین ودنیا کے تمام مُعاملات میں مُحتاط رہنے کی سعادت بخشے اور ہماری آخِرت برباد ہونے سے بچائے۔ اٰمین۔ بَہُت ہی سوچ سمجھ کر لکھنایا بولنا چاہئے کہ مَبادا  ( یعنی خدا نہ کرے) زَبان یا قلم سے کوئی ایسی بات صادر ہو جائے جو کہ آخِرت تباہ کر کے رکھ دے۔ اِس ضِمْن میں دو فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّممُلاحَظہ ہوں : {۱} بیشک آدَمی ایک بات کہتا ہے جس میں کوئی حَرَج نہیں سمجھتا حالانکہ اس کے سبب ستّر سال جہنَّم میں گرتا رہے گا۔ (تِرْمِذِی ج۴ ص ۱۴۱ حدیث ۲۳۲۱)  {۲} کوئی شخص اللہ     عَزَّوَجَلَّکی ناراضی کی بات کرتا ہے وہ اُس مقام تک پہنچتی ہے جس کا اس کو خیال بھی نہیں ہوتا۔ پس اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کلام کی وجہ سے اس پر اپنی ناراضی قِیامت تک کے لئے لکھ دیتا ہے۔ (اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر ج۱ ص ۳۶۵ حدیث ۱۱۲۹ )  میرے آقا اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  عِلْمِ دین نہ ہونے کے باوُجُود اسلامی مَضامین لکھنے اور شَرْعی مُعاملات میں مُداخَلَت کرنے والوں کی مذمّت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’  جسے اُلٹے سیدھے دو حَرْف اُردو کے لکھنے آگئے وہ مصنِّف ومُحقِّق ومُجتَہِد بن بیٹھا اور دینِ متین میں اپنی ناقِص عَقْل، فاسِد رائے سے دخْل دینے لگا ، قراٰن وحدیث و عقائد وارشاداتِ اَئِمّہ سب کا مخالِف ہوکر پہنچا جہاں پہنچا !  ‘‘  (فتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص۵۰۴) وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔

دینی حَمِیَّت تُو مجھے ربِّ کریم دے

ڈر اپنا ،شَرم، اپنی دے قلبِ سلیم دے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مضمون نگار کیلئے مَدَنی پھول

سُوال: مضمون نگارکیلئے کچھ مَدَنی پھول ارشاد ہوں ۔

جواب: جب بھی کسی مضمون یا تحریر کی ترکیب کرنی ہو اُس وقت سب سے پہلے اپنے دل سے سُوال کرے کہ میں جولکھنے لگا ہوں اُس کی شَرْعی حیثیت کیا ہے؟  اِس پر ثواب بھی ملے گا یا نہیں ؟  کہیں ایسا تو نہیں کہ گناہوں بھری باتیں لکھ کر دنیا میں چھوڑ جاؤں اورقبرو آخِرت میں پھنس جاؤں !  اَلغرض تحریر سے قبل اس کے دینی و اُخروَی فوائد اور دُنیوی جائز منافِع کے مُتَعَلِّق خوب سوچ لے، ضَرورتاً عُلماءِ کرام سے مشورہ کر لے۔ جب شَرْعی اور اَخلاقی حوالے سے مکمَّل اطمینان حاصل ہو جائے تو اب رِضائے الٰہی پانے اور ثواب کمانے کیلئے اچّھی اچّھی نیَّتیں کر کے اللہ عَزَّوَجَلَّکانام لے کر قلم سنبھالے۔

ایک مصنِّف کی حکایت

        جاحِظ  (جو کہ مُعْتَزِلی فرقے کامُصنّف گزرا ہے اس) کو مرنے کے بعد کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا: کیا مُعاملہ ہوا؟  بولا: ’’  اپنے قلم سے صِرْف ایسی بات لکّھو جسےقِیامت میں دیکھ کر خوش ہو سکو۔ ‘‘   (اِحیاء العلوم ج۵ ص ۲۶۶)

وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

دے تمیز اچھے بھلے کی مجھ کو اے ربِّ غَفور

میں وُہی لکھوں کرے جو سُرخ رُو تیرے حُضور

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سُنی سنائی بات میں آ کر کسی کو گنہگار کہنا

 



Total Pages: 24

Go To