Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

جواب: اسلام کے رنگ میں رنگے ہوئے،اللہ ورسول  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مَحَبَّت قُلُوب میں بیدار کرنے والے ، صَحابہ و اہلبیتِ کرامعَلَيهِمُ الّرِضْوَان اور اولیائے عِظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے عِشق سے دلوں کو سر شار کرنے والے، نیکیوں سے پیار دلانے اور گناہوں سے بیزار کرنے والے مضامین اخبار میں ہونے چاہئیں ۔ایسے موضوعات قلمبندکئے جائیں کہ پڑھنے والے نَمازی اور سنَّتوں کے پابند بنیں ، والِدَین کی اطاعت کا درس لیں اوران کا آپَس میں بھائی چارے اورمَحَبَّت و اُخُوّت کا ذِہن بنے۔ مگر صدکروڑ افسوس!  ایسا نہیں ، اکثر اخبارات، ہفت روزے اور ماہنامے فُحش، لَچَراور مُخَرِّبُ الاَخلاق مضامین اور عشقیہ و فسقیہ تحریرات سے پُر ہوتے ہیں ۔ انہیں پڑھ کر لوگ دین سے مزید دُور ہوتے، نِت نئے گناہوں کی رغبت پاتے اور چوریوں ، ڈکیتیوں کے نئے نئے گُر سیکھتے ہیں ۔

عُلَماء و مشائخ کی کردار کُشی

        پیارے پیارے صَحافی اسلامی بھائیو!  اللہ     عَزَّوَجَلَّہمیں علمائے اہلسنّت کے قدموں میں رکھے اور بروزِ حشر انہیں کے زُمرے میں اٹھائے ۔ اٰمین۔فی زمانہ توایسا لگتا ہے کہ بعض اخبار والوں کو عُلَماء ومشائخ اور مذہبی شکل و شَباہت سے جیسے چِڑ ہو !  جہاں کسی مذہبی فرد یا مسجِد کے امام یامُؤذِّن وغیرہ کی کسی خطا کی بَھَنک کان میں پڑی، اُسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اُس مذہبی فرد کی تذلیل اور کردار کُشی کا کئی دن تک کیلئے باقاعِدہ ایک سلسلہ چلا دیا!  ہاں کسی عامِل وبابا یعنی تعویذ گنڈے دینے والے کی بھول سامنے آنے اور شَرْعی ثُبُوت مل جانے کی صورت میں اُس فرد ِ خاص کے شر سے لوگوں کو بچانے کیلئے اس کے مُتَعلِّق بیان کرنا دُرُست ہے اور اِسی طرح اِس قبیل (یعنی قِسم)  کے دوسرے جھوٹے لوگوں اور ٹھگوں سے مُحتاط رہنے کا مشورہ دینا بھی بَہُت مناسِب ہے لیکن یہ ہرگز ہرگز جائز نہیں کہ  اُسے  ’’  نقلی پیر ‘‘  قرار دے کر حقیقی عُلَماء و مشائخ کو بدنام کرنے کی مذموم ترکیبیں شروع کر دیں ، حالانکہ ہر تعویذات دینے والا پِیری مُریدی نہیں کرتا، عامل ہونا اور چیز ہے اور پیر ہونا اور۔

بعض کالم نگاروں کے کارنامے

           بعض  ’’ کالم نگار  ‘‘  بھی نہایت بے باکی کے ساتھ شَرْعی مُعامَلات میں دَخِیل ہوتے اور اسلامی اقدار کوپامال کرتے نظر آتے ہیں ، نیز جس کی چاہتے ہیں اپنے کالم کے ذَرِیعے عزّت اُچھالتے اور اُس کی آبرو کی دھجیاں بِکھیر دیتے ہیں اور جس پر ’’  مہربان ‘‘  ہو جاتے ہیں وہ اگر چِہ پاپی سماج میں پلنے والا گندی نالی کا کیڑا ہی کیوں نہ ہواُسے  ’’ہِیرو ‘‘  بنا دیتے ہیں !

گناہوں بھری تحریر مرنے کے بعد گناہ جاری رکھ سکتی ہے

                میٹھے میٹھے صحافی اسلامی بھائیو! اللہ     عَزَّوَجَلَّہم سب سے سدا کیلئے راضی ہو اور ہمیں بے حساب بخشے ۔اٰمین۔ ہر ایک کویہ ذِہْن نشین کر لینا چاہئے کہ جس بات کا زَبان سے ادا کرناکارِ ثواب ہے اُس کاقلم سے لکھنا بھی ثواب اور جس کا بولنا گناہ اُس کا لکھنا بھی گنا ہ ہے بلکہ بولنے کے مقابلے میں لکھنے میں ثواب و گناہ میں اضافے کا زیادہ امکان ہے مقولہ ہے : اَلْخَطُّ بَاقٍ وََّالْعُمْرُ فَانٍ یعنی  ’’ تحریر  (تادیر)  باقی رہے گی اور عُمر  (جلد)  فنا ہو جائیگی  ‘‘  بَہَرحال تحریرتادیر قائم رہتی اور پڑھی جاتی ہے ، وہ جب تک دنیا میں باقی رہے گی لوگ اُس کے اچھّے یا بُرے اثرات لیتے رہیں گے اور لکھنے والا خواہ فوت ہو چکا ہواُس کیلئے ثواب یا عذاب میں زیادَتی کاسلسلہ جاری رہے گا۔گناہوں بھری تحریر مرنے کے    بعد بھی باقی رہ کر پڑھی جاتی رہنے کی صورت میں گناہ جاری رہنے کا خوفناک تصوُّر ہی خوفِ خدا رکھنے والے مسلمان کا ہوش اُڑانے کیلئے کافی ہے!

ایک غَلَط لَفْظ ہی کہیں جہنَّم میں نہ ڈالدے

 



Total Pages: 24

Go To