Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

جواب: اخبارات میں اشتِہارات چھاپنے جائز ہیں بشرطیکہ جاندار کی تصویر یا کوئی اورمانِعِ شَرْعی نہ ہو۔جادو ٹونا کرنے والوں ،سُودی اِداروں ،خلافِ شَرْع اَقساط پر کاروبار کرنے والوں ،  گناہوں بھری لاٹریوں ،غیر اسلامی عقائد پر مبنی کتابوں ، نیز غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں کی مبارکبادیوں وغیرہ پر مشتمل اشتہارات نہ چھاپے جائیں ۔آج کل ایڈورٹائز منٹ میں اکثر جھوٹ یا جھوٹی مُبالَغہ آرائی سے کام لیاجاتا ہے، اخبارات والوں کو اس طرح کے اشتہارات چھاپنے سے بھی بچناضَروری ہے، مَثَلاً جعلی یا نا قص یا جن دواؤں سے شفا کا گمانِ غالِب نہیں ہے ان کے بارے میں اِس طرح کی سُرخی : ’’  سو فیصدی شرطیہ علاج ‘‘  یہ جھوٹا مُبالَغہ ہے ،بلکہ ایسے جملے تو کسی بھی دوائی کے بارے میں نہیں کہنے چاہئیں کیونکہ ہر طبیب جانتا ہے کہ طِبّ سارے کا سارا ظَنّی ہے، کسی بھی دوا کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اِس سے شِفا ہو ہی جائیگی۔ بے شمار وہ اَمراض جن کے مُعالَجات دریافت ہو چکے ہیں ،انہیں اَمراض میں علاج کی تمام مُجرَّب صورَتیں آزما لینے کے باوُجُود روزانہ بے شمارمریض دم توڑ دیتے ہیں ، یہ اِس بات کی واضِح دلیل ہے کہ کوئی بھی دوا ایسی نہیں جس کے ذَرِیعے شِفا ملنایقینی ہو۔ شِفا صِرْف مِن جانِبِ اللہہے۔ بَہَر حال اخبارات میں گناہوں بھرے اشتہارات شائع کرنا گناہ ہے، صِرْف جائز اشتہارات چھاپے جائیں ۔ قراٰنِ کریم ،پارہ 6سُوْرَۃُ الْمَائِدَہآیت نمبر2 میں ارشادِ ربُّ العِباد ہے:

وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (۲)

ترجَمۂ کنزالایمان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اوراللہ سے ڈرتے رہو بے شکاللہ کا عذاب سخت ہے۔وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

بندے پہ تیرے نفسِ لعیں ہو گیا مُحیط

اللہ!  کر علاج مِری حِرص و آز کا

 (ذوقِ نعت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فلمی اشتِہارات

سُوال: فلمی اشتِہارات کے بارے میں بھی کچھ روشنی ڈال دیجئے۔

جواب: فلموں ڈراموں اور میوزِک شَو وغیرہ کے اشتِہارات اپنے اخبارات میں دینا گناہ و حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے، ایسے اشتِہارات کے ذَرِیعے ملنے والی اُجرت بھی حرام ہے۔اس طرح کے اشتِہارات دیکھ کر جتنے لوگ وہ فلم یا ڈرامہ دیکھیں گے یا میوزِک شو میں شریک ہوں گے اُن سب کو اپنا اپنا گناہ ملے گاجبکہ ان سب کے مجموعے کے برابر گناہ اخبار کے مالِکوں اور اِس میں اشتہار ڈالنے کے ذمّے داروں کو ملیں گے۔مَثَلاً اِشتہار کے ذَرِیعے آگاہی پا کر دس ہزار افراد نے فلم دیکھی تو مذکورہ اخباروالوں کو دس ہزار گناہ ملیں گے۔وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

سرورِ دیں !  لیجے اپنے ناتُوانوں کی خبر

نفس و شیطاں سیِّدا! کب تک دباتے جائیں گے

 (حدائقِ بخشش شریف)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اخباری مضامین کیسے ہوں ؟

سُوال: اخبار کے مضامین کیسے ہونے چاہئیں ؟

 



Total Pages: 24

Go To