Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

سے بڑا کارنامہ جاسوسی رَہ گیا ہے، خبریں تو جاسوسی، مضامین تو جاسوسی  اور کہانیاں تو وہ بھی جاسوسی۔اللہ تعالٰی ہم مسلمانوں کو ایک دوسرے کی عزّت کا محافِظ بنائے اور دونوں جہانوں میں سُر خرو کرے۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

اَخلاق ہوں اچھّے مِرا کِردار ہو سُتھرا

محبوب کا صدقہ تُو مجھے نیک بنادے

 (وسائلِ بخشش ص۱۰۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

صحافیوں کا کُرید کر باتیں اُگلوانا

سُوال: اگر صَحافی موقع بہ موقع گھروں پر جا کر  ’’ کُرید ‘‘  نہیں کریں گے تو قوم تک صحیح اَحوال کون پہنچائے گا !

جواب : قوم کوہر سطح کے لوگوں کے بِغیر کسی حُدُود و قُیُود کے مَعائِب ( یعنی عیبوں )  سے باخبر کرنے کی آخِر حاجت ہی کیا ہے؟ کسی ایک آدھ قومی و عوامی مسئلے سےمُتَعَلِّق بطورِ خاص کوئی ایک آدھ تحقیق شدہ بات بیان کرنے کی تو اجازت ہوسکتی ہے لیکن ہمارے ہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ کچھ ڈھکا چھپا نہیں ۔ یاد رکھئے کہ کسی کے ذاتی مُعامَلات کی ٹوہ میں پڑنے اور ان کی  ’’ چھان کُرید ‘‘  کرنے کی شریعت نے مُمانَعَت فرمائی ہے۔ چُنانچِہ پارہ26  سُوْرَۃُ الْحُجُرَاتآیت 12 میں ارشاد ہوتا ہے:

وَّ لَا تَجَسَّسُوْا                           ترجَمۂ کنزالایمان: اور عیب نہ ڈھونڈو۔

مسلمانوں کی عیب جُوئی نہ کرو

        اِس حصّۂ آیتِ مقدّسہ کے تَحْت صدرُالْاَ فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی ’’ خَزائِنُ العِرفان ‘‘ میں فرماتے ہیں :  ’’ یعنی مسلمانوں کی عیب جُوئی نہ کرو اور ان کے چُھپے حال کی جُستجُومیں نہ رہوجسے اللہ تَعَالٰینے اپنی سَتّاری سے چُھپایا ۔ حدیث شریف میں ہے : گُمان سے بچو گمان بڑی جھوٹی بات ہے اور مسلمانوں کی عیب جُوئی نہ کرو ، ان کے ساتھ حرص و حسد ،بُغْض ، بے مُرَوَّتی نہ کرو ، اےاللہ تَعَالٰیکے بندو ! بھائی بنے رہو جیسا تمہیں حُکم دیا گیا ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، اُس پرظُلْم نہ کرے ، اُس کو رُسوا نہ کرے ، اُس کی تَحقیر نہ کرے ، تقوٰی یہاں ہے ، تقوٰی یہاں ہے ، تقوٰی یہاں ہے ،  ( اور ’’ یہاں  ‘‘  کے لفظ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا)  آدَمی کے لئے یہ بُرائی بَہُت ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کوحَقیر دیکھے ، ہر مسلمان، مسلمان پرحرام ہے، اس کا خون بھی ، اس کی آبرو بھی ، اس کا مال بھی ۔ ’’ اللہ تَعَالٰیتمہارے جسموں اور صورَتوں اورعَمَلوں پر نظر نہیں فرماتا لیکن تمہارے دلوں پر نظر فرماتا ہے ۔ ‘‘  ([1])  (بخاری و مسلم) حدیث شریف میں ہے: جو بندہ دنیا میں دوسرے کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تَعَالٰیروزِ قِیامت اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ ‘‘   ([2])         (خزائن العرفان ص۹۵۰مکتبۃ المدینہ )

۔۔۔۔۔تو تُم ان کو ضائِع کر دو گے

 



[1]     مسلم ، ص ۱۳۸۶حدیث۱۳۸۶، ۱۳۸۷

[2]      بخاری ج ۲ص۱۲۶حدیث۲۴۴۲



Total Pages: 24

Go To