Book Name:Kalay Bicho Ka Khof

پرستی میں مستغرق رہنے والا انسان تھا اور مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ میٹھے میٹھے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنّت داڑھی شریف مونڈ کر گندی نالی میں بہا دیا کرتاتھا، فلموں ڈراموں کا انتہائی شوقین تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں دہلی میں سلائی کا کام کرتا تھا۔ مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی نے بریلی شریف میں ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔ میں نے ان کی دعوت قبول کرلی۔ اجتماع میں حاضری کے دوران میرا گزر دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے بستے (اسٹال) کے پاس سے ہوا تو میری نظر امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے رسائل پر پڑی جن میں سے ایک کا نام ’’کالے بچھو‘‘ تھا، اسے خرید کر اپنے پاس رکھ لیا اور اجتماع میں شرکت سے واپسی پر جب میں نے اس رسالے کا مطالعہ کیا تو میرے اندر مدنی انقلاب برپا ہو گیا میں نے ہاتھوں ہاتھ گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی اور چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی سجالی۔ میں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا اور دوسروں کو نیکی کی دعوت دینے والا بن گیا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر تحصیل مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروف عمل ہوں۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                      صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(11)غیراخلاقی حرکات سے توبہ

          مرکزالاولیاء (لاہور) کے علاقے نیوسمن آباد کے چاہ جموں والا بازار میں مقیم اسلامی بھائی کے تحریری مکتوب کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے کہ میں پرلے درجے کا گنہگار شخص تھا والدین کی عزت و تکریم میں کوتاہی کرتا تھا۔ گندے ماحول، فلموں و ڈراموں کی نحوست نے میرا ستیاناس کر دیا تھا۔ کیبل اور انٹرنیٹ پر فحش مناظر دیکھتا تھا امردوں سے دوستیاں کرتا اور ان سے غیراخلاقی حرکات کا ارتکاب کرتا۔ خوف خدا عَزَّوَجَلَّاور عشق مصطفی صَلّی اللہ تَعالیٰ علیہ واٰلہٖ وَسلَّم کی دولت سے محروم تھا۔ میں نے غالباً رمضان المبارک ۱۴۲۶ھ بمطابق اکتوبر 2005ء کے آخری عشرے کا اعتکاف بدمذہبوں کی ایک مسجد میں کیا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میرے ایک دوست نے بھی آخری تین دن میرے ساتھ اسی مسجد میں اعتکاف کیا جو کہ دعوت اسلامی کے ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع میں بھی شرکت کر چکے تھے، اُن دنوں یہ اجتماع بروز جمعرات بعد نماز عشاء جامع مسجد محمدیہ حنفیہ سوٹیوال ملتان روڑ میں ہوتا تھا۔ ہم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کرم اس طرح ہوا کہ اس مسجد کی لائبریری میں سے امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے کچھ رسائل مل گئے، میرے اس دوست نے بتایا کہ یہ رسائل دعوتِ اسلامی کے بانی، امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے تحریرکردہ ہیں میں نے نام کی طرف تو کوئی خاص توجہ نہ دی مگر  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہ رسائل پڑھنے میں کامیاب ہوگیا۔ ان کو پڑھنے کی برکت سے میرے دل کی دنیاہی بدل گئی۔ ان رسائل میں سے ایک رسالہ T.Vکی تباہ کاریاں تھا اسے پڑھ کر میں نے گھر آ کر ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا۔ میرے اُس دوست نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی جسے میں نے فوراً قبول کر لیا۔ مجھے اجتماع میں سکونِ قلبی نصیب ہوا۔ اجتماع میں شرکت کرنا میرا معمول بن گیا مدنی ماحول کی برکت سے بدمذہبیت اور گناہوں سے توبہ کی توفیق ملی۔ نگاہوں کی حفاظت کا ذہن بنا۔  امردوں کی دوستی سے چھٹکارا ملا۔ بدکاریوں سے منہ موڑا اور سر پر سبز سبز عمامہ شریف اور سفیدمدنی لباس زیب تن کر لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ یہ بیان دیتے وقت میں ڈویژن مشاورت کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ حلقہ مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے مدنی کام کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

 



Total Pages: 12

Go To